سچ اپنی قیمت رکھتا ہے


 جو دھند تھی وہ چھٹ گئی اور حالات واضع ہو گئے 

یہ واضع ہو چکا ہے کہ عمران خان حکومت چند دنوں کی محتاج ہے اور ایک بار پھر عالمی طاقتیں ، پیسہ، طاقت ، نظریے کے سامنے بظاہر طاقت ور ہو گئی 

عمران خان جس وقت اسلام آباد میں تقریر کر رہے تھے اس وقت شاہ زین بگٹی کا بھی حکومت کو چھوڑنے کا اعلان حذب اختلاف کا وہ سرپرائیز تھا جو سیاسی طور پر عمران خان کو دیا گیا 

ایک طرف 22 کروڑ کی جہالت کو شعور میں بدلنے کی کوشش اور عالمی طاقتیوں کو اپنی ذات اور خدا پر یقین للکار رہا ہے اور دوسری طرف کل پیسہ ، پلاننگ ، اپنے تمام تر پھن پھلائے ہے 

یہ تاریخ انسان سے ثابت ہے کہ جتنا بڑا سچ ہوتا ہے اتنا بڑی قیمت ادا کرنی پڑتی ہے 

اگر سچ حسین ابن علی جتنا بڑا ہو تو سر نیزے پر چڑھتے ہیں 

اگر سچ ذوالفقار علی بھٹو جتنا بڑا ہو تو گردن میں پھندا ڈلتا ہے 

اور اگر سچ عمران خان جتنا بڑا ہو تو صرف حکومت جاتی ہے 

عمران خان نیازی کی یقین کی کیفیت اس کو سیاست کی پیچیدگیوں سے آزاد کر رہی ہے اور وہ بلاواسطہ اس کوشش میں ہے کہ میں اپنا مقدمہ عوام میں رکھوں اور عوام میں کہ جو پسی ہوئی ہے اور بے شعور ہونے کیساتھ منتشر بھی ہے اور اس کو حال میں نہ تو ماضی سے کشید کرنا آتا ہے اور نہ ہی مستقبل کا سودا کرنا ، بلکہ یہ عوام ہمیشہ اپنی وقتی زندگی میں اپنی ذاتی سانسوں تک کی خوشحالی تک کا سودا کرتی ہے 

ایسے میں ایک شخص 25 سال بعد پیدا ہونے والے شخص کی آزادی کو سوچ رہا ہے ظاہر ہے یہ سوچ آج کوئی نہیں خریدے گا 

بظاہر ایک بڑی ہار ہونے جا رہی ہے مگر ایک سچ جو ابھی بہت چھوٹا ہے ذوالفقار علی بھٹو کے سچ سے بھی چھوٹا ہے اس کو اس بار بہت چھوٹی قیمت یعنی صرف حکومت تک کی قربانی پر چھوڑ دیا جائے گا لیکن اگر صاحبان شعور کی اکثریت ہو گئی اور ہوا ایسی چل گئی کہ عمران خان کا نام برینڈ بن گیا اور وہ معیار بن گیا الیکشن کی جیت کا تو یقینا آپ لوگ دیکھیں گے کہ پھر یہ سچ ایک گولی کھائے گا اور ہمیشہ کے لیے ایسے ہی خاموش کروا دیا جائے گا جیسے بینظیر بھٹو کو کروا دیا گیا 


نجانے ہم مزید کتنی نسلوں تک اس سیٹ ایڈجسٹمنٹ میں جئیں گے اور کب تک ایک کی ایکسٹینشن اور ایک کی پرموشن کی خاطر حکومتوں کو اڑایا جائے گا ، نجانے کب تک انفرادی جنگ میں اجتماعی نقصان کرتے رہیں گے اور انسانوں پر حکمرانی کے شوق میں خود بھی غلام بن کر رہیں گے ، نجانے کب تک ہم لوگ اپنی آنکھ کی حوس کی خاطر کسی کے پیٹ کا لقمہ چھینتے رہیں گے اور ہر اجتماعی بڑا فائدہ انفرادی بہت چھوٹے پر قربان کرتے رہیں گے ، نجانے کم تک ہماری زندگیوں میں ایسے کمزور لمحے آتے رہیں گے جن کی سزا صدیاں بھگتتی رہیں گی 


آج ہم جو کچھ دیکھ اور بھگت رہے ہیں یہ وہ جہالت ہے جو ہم تک ہماری نسلوں سے اور ہم سے ہماری نسلوں کو جائے گی لیکن ایک وقت ضرور ایسا آئے گا جب عمران خان جیسے لوگ جو صدیوں کا اثاثہ ہیں وہ صدیوں میں اکیلے پیدا ہونے کے بجائے زمانے کی کوکھ سے درجن بھر جنم لیں گے اور یہ ڈر نہ ہو گا کہ یہ مر گیا تو کیا ہو گا ، تب تک ہم پر صرف یہ واجب ہے کہ جیسے بھی حالات میں ہوں پردے کے اندر جب بھی جائیں اور مہر لگائیں تو وہ مہر حق اور سچ اور پاکستان کی بقاء کو مدنظر رکھ کر ہو ، ہمارا یہ ہی جہاد ہے!


میرا یہ تاریخ کے کرداروں کو پڑھنے کے بعد یقین ہے کہ یقین سولی پر تو چڑھتا ہے مگر تاریخ میں زندہ رہتا ہے اور اس کی زندگی دائمی ہوتی ہے، عمران خان تاریخ میں اپنا نام لکھوانے کی خاطر دن بدن اپنی شہادت کے نزدیک ہوتا جا رہا ہے اور بہت جلد ایک سستی گولی اس ملک کے مستقبل کا سینہ چاک کر کے ہماری آئندہ نسلوں کی آزادی میں طویل چھید کر دے گی اور ہم اپنی جہالت پر ماتم کرنے کے بجائے پھر کسی آقا اور اس کی نسل کے سامنے ناچ رہے ہوں گے۔جبکہ ہماری آئندہ نسلیں ہم پر لعنت کر رہی ہوں گی کیونکہ ان تک یہ خط پرنٹڈ پہنچیں گے جو آج عمران خان کی جیب میں ہیں۔


پاکستان پائندہ باد


میں تمہارے ساتھ ہوں

 میرا اللہ گواہ ہے،


اگر انگریز حکومت ہوتی اور سارے میر جعفر ایک طرف ہوتے، ٹیپو سلطان کو ذلیل کرنے پر حکومتیں تل چکی ہوتیں تو میں ، ٹیپو سلطان کیساتھ ہوتا


اگر 1948 ہوتا اور اس ملک کے بڑے بڑے لوگ قائداعظم محمد علی جناح کو زہر دینے کے بارے میں سوچ رہے ہوتے تو میں اس ٹی بی کے مریض اور کمزور بدن والے شخص جناح کیساتھ ہوتا  


اگر 70 کی دہائی ہوتی اور پوری آمریت ، پوری فوج ، پوری طاقت ، پوری عدلیہ، بھٹو کو سولی پر چڑھانے کے بارے میں سوچ رہی ہوتی تو میں ذوالفقار علی بھٹو کیساتھ ہوتا 


باخدا ،

میں ان ادوار میں نہیں تھا اور میں ان ادوار میں ان شخصیات کے مخالف رہنے والوں پر لعنت کرتا ہوں اور میں ان ادوار میں مندرجہ بالا شخصیات کی مخالفت کرنے والوں کو دشمنان پاکستان سمجھتا ہوں 


یہ 2022 ہے اور اب میں ہوں سو میں قطعی نہیں چاہتا کہ یہ شخص جو آج بلکل ویسی ہی طاقتوں سے الجھا ہوا ہے


 جیسی طاقتیں ٹیپو سلطان کے خلاف تھیں ، 

جیسی طاقتیں "محمد علی جناح" کے خلاف تھیں ،

جیسی طاقتیں ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف تھیں، 


تو ایسے میں ، میں قطعی یہ نہیں چاہوں گا کہ آئندہ نسلیں جب اس تاریخ کو پڑھیں ، جس میں عمران خان ہار جائے ، یا عمران خان مار کھائے، یا عمران خان پھانسی لگ جائے ، یا عمران خان ہٹا دیا جائے ، تو میں بطور محسن رفیق اس ملک کے دشمن عناصر کے ساتھ کھڑا ہوں ، اور آئندہ نسلیں جب ملک دشمنوں پر لعنت ڈالیں تو وہ لعنت مجھ تک نہ آئے ،

کل کا نہیں پتہ ، ممکن ہے عمران خان غلط ہو جائے ، 

آج کا بھی نہیں پتہ ، کہ عمران خان راہ سے بھٹک


جائے ،

گزرے کل کا پتہ ہے کئی فیصلے عمران خان سے غلط بھی ہوئے،

تاہم جب تک عمران خان مجھے مخلص لگتا ہے اور میں عمران خان کو باقی تمام سیاست دانوں سے زیادہ بہتر آپشن پاکستان کی خاطر سمجھتا ہوں، عمران خان کی حمایت کا اعلان کرتا ہوں ، 


اور باخدا ، میں یہ فیصلہ صرف ملک کے وسیع تر مفادات میں لے رہا ہوں ، حالانکہ میرا اسمبلی میں ووٹ کوئی نہیں

کھڈی لائن !

میں کبھی بھی نہیں چاہتا تھا کہ اس مرد مجاہد پر لکھوں کم سے کم اس وقت تو کبھی بھی نہ لکھوں جب تک یہ طاقت کا سرچشمہ ہیں اور ان کی تعریف میں بط...