مولی، شلجم، گاجر، چقندر کی کاشت ، اہمیت

 مولی، شلجم، گاجر، چقندر کی کاشت ، اہمیت:

تحریر:- محمد محسن

@Muhamad__Mohsin

کچن گارڈننگ میں اگائی ہوئی مولی، شلجم، گاجر، چقندر چاروں جڑ والی سبزیاں غذائیت کا "پاور ہاؤس" مانی جاتی ہیں۔ ان کو گھر میں لگانے کا بہترین وقت اکتوبر کا پورا مہینہ ہے لیکن نومبر کے پہلے عشرے تک اگر سردی زیادہ نہ ہو تو یہ گرو کر جاتی ہیں اور فروری مارچ تک یہ ہمارے کچن اور گھر کا حصہ بنی رہتی ہیں۔ وہ سبزیاں جن کی ہم جڑیں کھاتے ہیں وہ اینٹی آکسیڈنٹ (عمل تکسید۔۔۔ ہمارے جسم میں مالیکیولز کا وہ عمل جس میں وہ نقصان دہ ریڈیکلز سے لڑتے ہیں اور ہمارے جسم کو بڑی بیماریوں سے بچا کر صحت مند رکھتے ہیں) اور معدنیات سے بھرپور ہوتی ہیں۔

جڑ والی سبزیاں لگانے کا طریقہ:

کیاری میں۔۔۔

اگر گھر میں کوئی خالی جگہ یا پلاٹ ہے تو اس میں بھل مٹی، ریت، گوبر یا کمپوسٹ مکس کرکے دو تین بار اچھی طرح گوڈی کر لیں۔ گوڈی کرنے مٹی نرم بھربھری ہو جاتی ہے اور اس کی طاقت میں بھی اضافہ ہو جاتا ہے۔ ایک ایک فٹ کے فاصلے پر کھیلیاں، وٹیں یا پٹریاں بنا لیں اور ان کے ٹاپ پر سبزیوں کے بیج دو دو تین تین انچ کے فاصلے پر ایک انچ مٹی میں گہرا دبا دیں۔ پھر کھیلیوں میں اتنا پانی بھر دیں کہ بیج پانی میں نہ ڈوبیں۔۔۔ بلکہ بیجوں تک صرف پانی کی نمی پہنچے۔

گملے یا کریٹ میں۔۔۔

نئی غذائیت سے بھرپور مٹی گملوں یا کریٹس یا پاٹس میں بھر دیں اور ساری مٹی پانی سے تر کر دیں۔۔۔ جب پانی جذب ہو کر نیچے چلا جائے تو دو دو انچ کے فاصلے میں بیج رکھیں اور اوپر خشک مٹی کی آدھا انچ تہہ بچھا دیں۔ گملوں میں لگائی جانے والی سبزیوں کو ہمیشہ بوتل شاور سے پانی سپرے کرنا چاہیے کہ زمین خشک نہ ہو۔ جڑ والی سبزیوں کے لیے ایسے پاٹس کا انتظام کریں، جن کی گہرائی 5 سے 10 انچ تک ہو۔


دوسرا طریقہ۔۔۔ پاٹس یا گملے کے سنٹر سے مٹی اونچی کر دیں اور سائیڈوں سے مٹی گہری رہنے دیں۔ اب ٹاپ پر بیج لگا کر پانی دے دیں کہ پانی کا وتر بیجوں تک پہنچ جائے۔ اس طریقے سے بیج نیچے دبنے کا خدشہ نہییں ہوتا اور زیادہ سے زیادہ جرمینیشن ہوتی ہے۔ اگر آپ اپنے گھر میں اگائی گئی سبزیوں کو مناسب دھوپ، ہوا اور پانی بہم پہنچاتے رہیں گے تو ان شاءاللہ آپ کے گھر اور کچن میں تازہ سبزیوں کا سٹاک ختم نہیں ہوگا

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

کھڈی لائن !

میں کبھی بھی نہیں چاہتا تھا کہ اس مرد مجاہد پر لکھوں کم سے کم اس وقت تو کبھی بھی نہ لکھوں جب تک یہ طاقت کا سرچشمہ ہیں اور ان کی تعریف میں بط...