کاربوہاٸٸڈریٹس

 کاربوہاٸیڈریٹس

تحریر :- محمد محسن

@Muhamad__Mohsin

کاربوہائیڈریٹس ایک قسم کا میکرونیوٹرینٹ ہیں(یعنی ایسا غذاٸ اجزا جس کی جسم کو زیادہ مقدار میں ضرورت ہوتی ہے) جو بعض کھانے اور مشروبات میں پائے جاتے ہیں۔ شکر، نشاستہ اور فائبر کاربوہائیڈریٹس ہیں۔

 دیگر غذائی اجزاء میں چربی اور پروٹین شامل ہیں جو کہ میکرونیوٹرینٹس ہیں۔ آپ کے جسم کو صحت مند رہنے کے لیے ان غذائی اجزاء کی ضرورت ہے۔

آپ کا نظام ہاضمہ کاربوہائیڈریٹ کو گلوکوز یا بلڈ شوگر میں کاربوہائیڈریٹ آپ کے جسم کی توانائی کا بنیادی ذریعہ ہیں: وہ آپ کے دماغ، گردے، دل کے پٹھوں اور مرکزی اعصابی نظام کو ایندھن فراہم کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر، فائبر ایک کاربوہائیڈریٹ ہے جو ہاضمے میں مدد کرتا ہے، آپ کو پیٹ بھرنے میں مدد کرتا ہے، اور خون میں کولیسٹرول کی سطح کو کنٹرول میں رکھتا ہے۔ جب آپ کو اپنی خوراک میں کافی کاربوہائیڈریٹس نہیں مل رہے ہیں تو آپ کا جسم آپ کے پٹھوں اور جگر میں اضافی کاربوہائیڈریٹس کو استعمال کے لیے ذخیرہ کر سکتا ہے۔ کاربوہائیڈریٹ کی کمی والی خوراک سر درد، تھکاوٹ، کمزوری، توجہ مرکوز کرنے میں دشواری، متلی، قبض، سانس کی بو اور وٹامن اور معدنیات کی کمی کا سبب بن سکتی ہے۔ دیتا ہے۔ آپ کا خون گلوکوز جذب کرتا ہے اور اسے آپ کے جسم کو ایندھن کے لیے توانائی کے طور پر استعمال کرتا ہے۔

 آپ جو کاربوہائیڈریٹ کھاتے ہیں اس کی مقدار بلڈ شوگر کو متاثر کرتی ہے۔ بہت زیادہ کاربوہائیڈریٹ لینے سے بلڈ شوگر کی سطح بڑھ سکتی ہے۔ ہائی بلڈ شوگر (ہائپرگلیسیمیا) آپ کو ذیابیطس کے خطرے میں ڈال سکتا ہے۔ کچھ لوگ جو کافی کاربوہائیڈریٹ کا استعمال نہیں کرتے ہیں وہ کم بلڈ شوگر (ہائپوگلیسیمیا) رکھتے ہیں۔

کاربوہائیڈریٹس، جسے سیکرائڈز یا کاربس بھی کہا جاتا ہے، جسم کو توانائی فراہم کرتے ہیں۔ کاربوہائیڈریٹس کا ہر گرام 4 کیلوریز فراہم کرتا ہے۔

 جسم کاربوہائیڈریٹ کو گلوکوز میں توڑ دیتا ہے، جو دماغ اور پٹھوں کے لیے توانائی کا بنیادی ذریعہ ہے۔

 کاربوہائیڈریٹس تین میکرونیوٹرینٹس میں سے ایک ہیں، جو ایسے غذائی اجزاء ہیں جن کی جسم کو زیادہ مقدار میں ضرورت ہوتی ہے۔

 دیگر غذائی اجزاء پروٹین اور چکنائی ہیں۔ پروٹین فی گرام 4 کیلوریز فراہم کرتے ہیں، اور چربی فی گرام 9 کیلوریز فراہم کرتی ہے۔

غذائیت‼️

 عام طور پر یہ تجویز کی جاتی ہے کہ لوگ اپنی کل کیلوریز کا 45-65% فی دن کاربوہائیڈریٹ کی شکل میں استعمال کریں۔ تاہم، کاربوہائیڈریٹ کی ضروریات بہت سے عوامل پر منحصر ہوتی ہیں، بشمول جسم کا سائز، سرگرمی کی سطح، اور بلڈ شوگر کنٹرول۔

 فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے) تجویز کرتا ہے کہ لوگ 2,000 کیلوری والی خوراک میں روزانہ 275 گرام کاربوہائیڈریٹ حاصل کریں۔ اس میں غذائی ریشہ، کل شکر، اور اضافی شکر شامل ہیں، جو کھانے کے لیبل پر درج ہیں۔

 کھانے کی اشیاء میں کاربوہائیڈریٹ مختلف شکلوں میں پائے جاتے ہیں، جن میں درج ذیل شامل ہیں:

غذائی ریشہ:یہ کاربوہائیڈریٹ کی ایک قسم جسے جسم آسانی سے ہضم نہیں کر سکتا۔ یہ قدرتی طور پر پھلوں، سبزیوں، گری دار میوے، بیج، پھلیاں اور سارا اناج میں پایا جاتا ہے۔

 کل شکر: یہ جس میں وہ شکر شامل ہوتی ہے جو قدرتی طور پر کھانے کی اشیاء، جیسے ڈیری مصنوعات، نیز شامل شدہ شکر، جو بیکڈ اشیاء، مٹھائیوں اور میٹھوں میں عام ہوتی ہیں۔ جسم شکر کو بہت آسانی سے ہضم اور جذب کرتا ہے۔

 شوگر الکوحل: کاربوہائیڈریٹ کی ایک قسم جسے جسم مکمل طور پر جذب نہیں کرتا۔ ان کا ذائقہ میٹھا ہوتا ہے اور چینی سے کم کیلوریز ہوتی ہیں۔ شوگر الکوحل کو کم کیلوری والے مٹھائیوں کے طور پر کھانوں میں شامل کیا جاتا ہے، جیسے چیونگم، سینکا ہوا سامان، اور مٹھائیوں میں۔

غذائی ریشہ باقاعدگی سے آنتوں کی حرکت کو فروغ دینے میں مدد کرتا ہے، خون میں شکر اور کولیسٹرول کو کم کرتا ہے، اور کسی شخص کی کیلوری کی مقدار کو کم کرنے میں مدد کر سکتا ہے۔ FDA تجویز کرتا ہے کہ لوگ 2,000 کیلوری والی خوراک میں روزانہ 28 گرام (g) غذائی ریشہ حاصل کریں۔

 ریاستہائے متحدہ میں زیادہ تر لوگ اضافی چینی کے لیے تجویز کردہ روزانہ کی حد سے تجاوز کر جاتے ہیں۔ یہ ایک شخص کے دل کی بیماری اور دانتوں کی گہاوں کی ترقی کے خطرے کو بڑھا سکتا ہے۔

 امریکیوں کے لیے غذائی رہنما خطوط 2015-2020 ٹرسٹڈ ماخذ تجویز کرتے ہیں کہ لوگ اپنی کل یومیہ کیلوریز کا 10% سے بھی کم اضافی شکر سے حاصل کرتے ہیں، جس کا مطلب ہے کہ ہر روز 50 گرام سے کم شامل کی گئی شکر۔

 تاہم، زیادہ سے زیادہ چینی کو محدود کرنا مجموعی صحت کے لیے بہترین ہے۔ امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن کا ٹرسٹڈ ماخذ تجویز کرتا ہے کہ خواتین روزانہ 6 چائے کے چمچ (25 جی) سے کم اور مرد اپنی مقدار کو 9 چائے کے چمچ (36 جی) سے کم تک محدود رکھیں۔

سادہ اور پیچیدہ کاربوہائیڈریٹ

 سادہ کاربوہائیڈریٹ میں شکر ہیں۔ وہ صرف ایک یا دو مالیکیولز پر مشتمل ہوتے ہیں۔ وہ توانائی کا ایک تیز ذریعہ فراہم کرتے ہیں، لیکن شخص جلد ہی دوبارہ بھوک محسوس کرتا ہے. مثالوں میں سفید روٹی، شکر اور کینڈی شامل ہیں۔

 پیچیدہ کاربوہائیڈریٹ چینی کے مالیکیولز کی لمبی زنجیروں پر مشتمل ہوتے ہیں۔ اس میں اناج اور غذائیں شامل ہیں جن میں فائبر ہوتا ہے۔ مثالوں میں پھل، سبزیاں، پھلیاں، اور سارا اناج پاستا شامل ہیں۔

 پیچیدہ کاربوہائیڈریٹ ایک شخص کو زیادہ دیر تک پیٹ بھرنے کا احساس دلاتے ہیں یعنی ان کے استعمال سے زیادہ دیر تک بھوک کا احساس نہیں ہوتا اور سادہ کاربوہائیڈریٹس سے زیادہ صحت کے فوائد رکھتے ہیں، کیونکہ ان میں وٹامنز، معدنیات اور فائبر زیادہ ہوتے ہیں۔

کیا کاربوہائیڈریٹ ذیابیطس(شوگر) کا باعث بنتے ہیں؟‼️

 کھانے کے بعد، جسم کاربوہائیڈریٹ کو گلوکوز میں توڑ دیتا ہے، جس سے خون میں شکر کی سطح بڑھ جاتی ہے۔ اس کی وجہ سے لبلبہ انسولین تیار کرتا ہے، ایک ہارمون جو جسم کے خلیوں کو اس شکر کو توانائی یا ذخیرہ کرنے کے لیے استعمال کرنے دیتا ہے۔

 وقت گزرنے کے ساتھ، خون میں شکر کی سطح میں بار بار اضافہ ان خلیوں کو نقصان پہنچا سکتا ہے جو انسولین بناتے ہیں، انہیں ختم کر دیتے ہیں۔ بالآخر، جسم انسولین کی پیداوار بند کر سکتا ہے، یا اسے صحیح طریقے سے استعمال کرنے کے قابل نہیں ہو سکتا۔جس سے شوگر کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

 صرف کاربوہائیڈریٹ یا شکر کھانے سے ذیابیطس نہیں ہوتی۔ کاربوہائیڈریٹ زیادہ تر غذاوں میں غذائی اجزاء کا ایک اہم ذریعہ ہیں۔

 تاہم، لوگوں کے زیادہ وزن یا موٹاپا ہونے کی صورت میں انسولین کے خلاف مزاحمت اور ٹائپ 2 ذیابیطس ہونے کا زیادہ امکان ہوتا ہے، جس کا تعلق زیادہ چینی والی خوراک سے ہو سکتا ہے۔

 انسولین کی مزاحمت میٹابولک سنڈروم کی نشوونما کے خطرے کو بڑھاتی ہے، جس سے دل کی بیماری، فالج اور دیگر طبی حالات کا خطرہ بڑھنے والے خطرے والے عوامل کا ایک گروپ ہوتا ہے۔

 اگر کسی شخص کے خون میں شوگر کی سطح بڑھ گئی ہے تو، اضافی چینی اور بہتر کاربوہائیڈریٹس کی مقدار کو کم کرنے سے ان کے خون میں شکر کی سطح کو کم کرنے، انسولین کے خلاف مزاحمت کو بہتر بنانے میں مدد مل سکتی ہے، اور اگر ضرورت ہو تو صحت مند وزن میں کمی کو فروغ دینے میں مدد مل سکتی ہے۔

کاربوہاٸٸڈریٹس


کے جسم پر اثرات❗

کاربوہائیڈریٹ آپ کے جسم کی توانائی کا بنیادی ذریعہ ہیں: وہ آپ کے دماغ، گردے، دل کے پٹھوں اور مرکزی اعصابی نظام کو ایندھن فراہم کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر، فائبر ایک کاربوہائیڈریٹ ہے جو ہاضمے میں مدد کرتا ہے، آپ کو پیٹ بھرنے میں مدد کرتا ہے، اور خون میں کولیسٹرول کی سطح کو کنٹرول میں رکھتا ہے۔ جب آپ کو اپنی خوراک میں کافی کاربوہائیڈریٹس نہیں مل رہے ہیں تو آپ کا جسم آپ کے پٹھوں اور جگر میں اضافی کاربوہائیڈریٹس کو استعمال کے لیے ذخیرہ کر سکتا ہے۔ کاربوہائیڈریٹ کی کمی والی خوراک سر درد، تھکاوٹ، کمزوری، توجہ مرکوز کرنے میں دشواری، متلی، قبض، سانس کی بو اور وٹامن اور معدنیات کی کمی کا سبب بن سکتی ہے۔

پھیپھڑے (🫁 lungs)

 پھیپھڑے (Lungs)

تحریر :- محمد محسن

@Muhamad__Mohsin

1۔پھیپھڑوں کا سب سے اہم کام ماحول سے آکسیجن لینا اور اسے خون میں منتقل کرنا ہے۔

2۔آپ کے پھیپھڑے آپ کے سینے میں ہیں، اور اتنے بڑے ہیں کہ وہ وہاں کی زیادہ تر جگہ لے لیتے ہیں۔ آپ کے دو پھیپھڑے ہیں، لیکن وہ ایک ہی سائز کے نہیں ہیں جس طرح آپ کی آنکھیں یا نتھنے ہیں۔ اس کی بجاۓ، آپ کے جسم کے بائیں جانب کا پھیپھڑا دائیں جانب کے پھیپھڑوں سے تھوڑا چھوٹا ہے۔ بائیں جانب یہ اضافی جگہ آپ کے دل کے لیے جگہ چھوڑتی ہے۔

3۔ آپ کے پھیپھڑوں کو آپ کے پسلیوں کے پنجرے سے محفوظ کیا جاتا ہے، جو پسلیوں کے 12 سیٹوں سے بنا ہوتا ہے۔ یہ پسلیاں آپ کی کمر میں آپ کی ریڑھ کی ہڈی سے جڑی ہوتی ہیں اور انہیں محفوظ رکھنے کے لیے آپ کے پھیپھڑوں کے گرد لپٹی ہیں۔ پھیپھڑوں کے نیچے ڈایافرام ایک گنبد نما عضلہ جو آپ کے پھیپھڑوں کے ساتھ کام کرتا ہے تاکہ آپ کو سانس لینے (سانس لینے) اور ہوا کو باہر نکالنے (سانس لینے) کی اجازت دے سکے۔

4۔آپ اپنے پھیپھڑوں کو نہیں دیکھ سکتے، لیکن انہیں عمل میں محسوس کرنا آسان ہے: اپنے ہاتھ اپنے سینے پر رکھیں اور بہت گہرا سانس لیں۔ آپ محسوس کریں گے کہ آپ کا سینہ قدرے بڑا ہو رہا ہے۔ اب ہوا میں سانس لیں، اور محسوس کریں کہ آپ کا سینہ اس کے باقاعدہ سائز میں واپس آ رہا ہے۔ آپ نے ابھی اپنے پھیپھڑوں کی طاقت کو محسوس کیا ہے!

5۔کیا آپ ایک پھیپھڑے کے بغیر رہ سکتے ہیں؟ ہاں آپ کر سکتے ہیں، یہ آپ کی جسمانی صلاحیت کو محدود کر دیتا ہے لیکن آپ کو نسبتاً عام زندگی گزارنے سے نہیں روکتا۔ دنیا بھر میں بہت سے لوگ صرف ایک پھیپھڑے کے ساتھ رہتے ہیں۔

6۔ آرام کرتے وقت، اوسط بالغ ایک منٹ میں 12 سے 20 بار سانس لیتا ہے۔

7۔ اوسطاً ایک شخص روزانہ تقریباً 11,000 لیٹر ہوا میں سانس لیتا ہے۔

8۔پھیپھڑوں کی بیماریوں کا مطالعہ پلمونولوجی کے نام سے جانا جاتا ہے۔

9۔ آپ کے جسم کے دیگر حصوں اور آپ کی عمومی صحت کے ساتھ ساتھ، سگریٹ نوشی آپ کے پھیپھڑوں کے لیے برا ہے۔ تمباکو نوشی پھیپھڑوں کو متاثر کرنے والی دیگر بیماریوں کے علاوہ پھیپھڑوں کے کینسر کا سبب بن سکتی ہے۔

10۔ دمہ ایک عام بیماری ہے جو پھیپھڑوں کو متاثر کرتی ہے۔ دمہ کے دورے اس وقت ہوتے ہیں جب آپ کی ایئر ویز چڑچڑے ہونے کے بعد تنگ ہوجاتی ہیں۔ تنگ ہوا کے راستے آپ کے لیے ہوا میں سانس لینا مشکل بنا دیتے ہیں۔

11۔ نمونیا ایک خطرناک بیماری ہے جو آپ کے پھیپھڑوں کے لیے سانس لینے والی ہوا سے آکسیجن جذب کرنا مشکل بنا دیتی ہے۔

12۔پھیپھڑوں کی دیگر بیماریوں میں ایمفیسیما، تپ دق اور برونکائٹس شامل ہیں۔


صحت

 صحت

تحریر :- محمد محسن

@Muhamad_Mohsin


1۔کھانا کھانے میں شاید آپ کو دس منٹ لگیں لیکن آپ کے جسم کو کھانا مکمل طور پر ہضم ہونے میں لگ بھگ 12 گھنٹے لگتے ہیں۔

2۔ انسانی جسم کو متعدد اہم افعال انجام دینے میں مدد کے لیے آئرن کی ضرورت ہوتی ہے۔ آئرن ہیموگلوبن کی شکل میں آپ کے جسم کے حصوں میں آکسیجن لے جانے میں مدد کرتا ہے۔ آئرن کی کمی اور کمزوری اور تھکاوٹ جیسی علامات کا باعث بن سکتا ہے۔ہمارے خون کا رنگ سرخ ہیموگلوبن آٸرن کی وجہ سے ہوتا ہے۔

3۔آئرن سے بھرپور غذا کی مثالوں میں سرخ گوشت، مچھلی، چنے کے مٹر،پھلیاں اور دال وغیرہ شامل ہیں۔

4۔خون کے سرخ خلیے آپ کی ہڈیوں کے گودے کے اندر بنتے ہیں، یہ آپ کے جسم کے گرد خون لے جانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

5۔ اینٹی بائیوٹکس بیکٹیریا سے لڑنے میں کارآمد ثابت ہو سکتے ہیں لیکن وہ وائرس کے خلاف بے اثر ہیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ بیکٹیریا اور وائرس بالکل مختلف ہیں، دونوں میں منفرد خصوصیات ہیں جن کے لیے خصوصی علاج کی ضرورت ہے۔

6۔وائرس عام طور پر بیکٹیریا سے تقریباً 100 گنا چھوٹے ہوتے ہیں۔

7۔تقریباً 70 ملین کیسز میں سے ہر سال تقریباً 70 لاکھ افراد فوڈ پوائزننگ سے مر جاتے ہیں۔ خطرناک زہریلے مادوں، وائرسوں اور بیکٹیریا سے بچنے کے لیے خوراک کی احتیاط سے تیاری اور ذخیرہ کرنا ضروری ہے۔

8۔ پینے کے صاف پانی تک رسائی ترقی یافتہ ممالک میں رہنے والے لوگوں کی طرف سے دی جا سکتی ہے۔ دنیا کے غریب حصوں میں معیاری پانی اور آلودگی خطرناک بیماریوں اور بیکٹیریا جیسے کرپٹوسپوریڈیم اور ای کولی کو جنم دے سکتی ہے۔

9۔ موٹاپا قسم 2 ذیابیطس اور دل کی بیماری جیسی بیماریوں کے بڑھنے کے امکانات کو بڑھا سکتا ہے۔

10۔حالیہ دنوں میں بالغوں اور بچوں دونوں کی جسمانی سرگرمیوں کی مقدار میں کمی آئی ہے۔ اس کی کچھ وجوہات میں نئی ​​ٹیکنالوجیز شامل ہیں جن میں کم جسمانی مشقت اور ٹی وی دیکھنے کا وقت بڑھتا ہے۔ یہ تجویز کیا گیا ہے کہ دنیا کی کم از کم 60 فیصد آبادی کافی ورزش نہیں کرتی ہے۔

11۔2007 میں، دل کی بیماری امریکہ میں موت کی سب سے بڑی وجہ تھی۔

12۔ 2007 میں دنیا بھر میں ہونے والی اموات میں سے تقریباً 13% کینسر کی وجہ سے ہوئیں۔ کینسر کے مطالعہ اور علاج سے متعلق طب کی شاخ کو آنکولوجی کہا جاتا ہے۔

13۔کیلشیم ہماری ہڈیوں کی مضبوطی کے لیے نہایت اہم عنصر ہے مگر یہ اسی وقت ممکن ہے جب ہم کیلشیم کے ساتھ وٹامن ڈی لیں گے۔وٹامن ڈی کا ایک اچھا سورج سورج کی


روشنی ہے۔

انسانی دماغ

 انسانی دماغ

تحریر :- محمد محسن

@Muhamad_Mohsin


1)انسان کی زندگی کے تمام افعال دماغ کے کنٹرول میں ہوتے ہیں۔دماغ ہڈیوں سے بنی ایک کرینیم میں موجود ہوتا ہے۔کرنیم کی تین تہیں جنہیں مینن جیز کہتے ہیں, دماغ کو ڈھانپی ہیں اور اسکو غذا اور آکسیجن فراہم کرتی ہیں۔

2)دماغ کا تقریباً 75 فیصد حصہ پانی سے بنا ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ پانی کی کمی، یہاں تک کہ تھوڑی مقدار میں بھی، دماغی افعال پر منفی اثر ڈال سکتی ہے۔

3)تمام جانوروں میں سب سے بڑا دماغ سپرم وہیل کا ہوتا ہے۔ اس کا وزن تقریباً 20 پاؤنڈ ہے۔

4)انسانی دماغ زندگی کے پہلے سال میں اپنے سائز سے تین گنا بڑھ جاتا ہے۔ یہ اس وقت تک بڑھتا رہتا ہے جب تک کہ آپ کی عمر تقریباً 18 سال نہ ہو۔

5)سر درد آپ کے دماغ میں آپ کی گردن اور سر کے پٹھوں اور اعصاب کے ساتھ مل کر کیمیائی رد عمل کی وجہ سے ہوتا ہے۔

6)انسان کے دماغ میں تقریباً ایک سو بلین نیوران ہوتے ہیں۔😱


7)جیسے جیسے ہم بڑے ہوتے جاتے ہیں انسانی دماغ چھوٹا ہوتا جاتا ہے۔ یہ عام طور پر درمیانی عمر کے بعد ہوتا ہے۔

8)ممی بنانے کے عمل کے دوران، مصری عام طور پر دماغ کو نکال دیتے تھے۔

9)آپ کا دماغ آپ کے جسم میں موجود آکسیجن کا 20 فیصد حصہ اور خون استعمال کرتا ہے۔

10)انسانی دماغ کا ساٹھ فیصد چربی سے بنا ہے۔ یہ نہ صرف انسانی جسم کا سب سے موٹا عضو بناتا ہے بلکہ یہ فیٹی ایسڈز آپ کے دماغ کی کارکردگی کے لیے بھی اہم ہیں۔

11)آپ کے دماغ کی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت کو عملی طور پر لامحدود سمجھا جاتا ہے۔ تحقیق بتاتی ہے کہ انسانی دماغ تقریباً 86 بلین نیورونز پر مشتمل ہوتا ہے۔ ہر نیوران دوسرے نیوران سے کنکشن بناتا ہے، جس میں 1 quadrillion (1,000 ٹریلین) کنکشن شامل ہو سکتے ہیں۔  

12)اوسطاً، آپ کی ریڑھ کی ہڈی 4 سال کی عمر میں بڑھنا بند ہو جاتی ہے۔ آپ کی ریڑھ کی ہڈی، جو اعصابی ٹشوز اور معاون خلیوں کے بنڈل پر مشتمل ہوتی ہے، آپ کے دماغ سے آپ کے پورے جسم میں پیغامات بھیجنے کے لیے ذمہ دار ہے۔

13)انسانی دماغ تقریباً 23 واٹ بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

14)جب دماغ کو خون کی سپلائی بند ہو جاتی ہے تو تقریباً 8-10 سیکنڈ کے بعد دماغ ہوش کھونے لگتا ہے۔

15)دماغ صرف 5 سے 6 منٹ تک زندہ رہنے کی صلاحیت رکھتا ہے جب اسے آکسیجن نہ ملے جس کے بعد وہ مر جاتا ہے۔

16)جیسے جیسے ہم بڑے ہوتے جاتے ہیں، ہم نئی چیزیں یاد کرنے سے قاصر رہتے ہیں۔ امریکہ میں محققین کے مطابق ایسا اس لیے ہوتا ہے کہ دماغ پرانی یادوں کو فلٹر اور ہٹانے سے قاصر ہے جو اسے نئے خیالات جذب کرنے سے روکتا ہے۔

17)انسانی دماغ کا وزن تقریباً 3 پونڈ ہے۔ (1.4 کلوگرام) اور انسان کے جسمانی وزن کا تقریباً 2 فیصد بنتا ہے۔تاہم سائز ہمیشہ ذہانت کو ظاہر نہیں کرتا۔ مردوں کا دماغ خواتین کے مقابلےمیں تقریباً دس فیصد بڑا ہوتا ہے۔

18)سیریبرم، جو دماغ کا اہم حصہ ہے جو کھوپڑی کے اگلے حصے(فوربرین) میں واقع ہے، دماغ کے وزن کا 85 فیصد حصہ بناتا ہے۔

19)انسانی دماغ زندگی کے پہلے سال کے دوران سائز میں تین گنا بڑھ جاتا ہے اور تقریباً 25 سال کی عمر میں مکمل پختگی کو پہنچ جاتا ہے۔یعنی 25 سال کی عمر میں دماغی مکمل طور پر جوان ہوتا ہے۔

20)انسانی دماغ 23 واٹ بجلی پیدا کر سکتا ہے جو کہ ایک چھوٹے بلب کو ایندھن دینے کے لیے کافی ہے۔

21)دماغ ایک بہت ہی پیچیدہ عضو ہے، اس لیے کچھ چیزیں ایسی ہیں جو ڈاکٹروں اور سائنسدانوں کو ابھی تک پوری طرح سے سمجھ میں نہیں آئی۔ اس کا مطلب یہ بھی ہے کہ کچھ ایسی حیرت انگیز چیزیں ہیں جو آپ اپنے دماغ کے بارے میں نہیں جانتے ہوں گے۔.

22)نیورولوجسٹس ایک طویل عرصے سے جانتے ہیں کہ ہپپوکیمپس قلیل مدتی یادیں ذخیرہ کرتا ہے۔ تاہم، ایک حالیہ تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ جب ہپپوکیمپس میں قلیل مدتی یادیں بنتی ہیں، وہ بیک وقت طویل مدتی یادوں کے لیے دماغ کے دوسرے حصے میں محفوظ رہتی ہیں۔

23)وٹامن B1 دماغی کیمیکل ایسٹیلکولین پیدا کرنے کے لیے ضروری ہے، جو یادوں کو ارتکاز اور ذخیرہ کرنے کے لیے ضروری ہے۔ ایک آسٹریلوی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ جن لوگوں نے دو سال تک B1 سپلیمنٹس اور فولک ایسڈ کا استعمال کیا ان کی طویل اور مختصر مدت کی یادداشت بہتر ہوئی۔

24)نیوران دماغ میں 150 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کرتے ہیں۔ مختلف قسم کے نیوران مختلف رفتار سے حرکت کرتے ہیں - مثال کے طور پر، درد کے سگنل دوسرے لوگوں کی نسبت بہت آہستہ حرکت کرتے ہیں۔

25)جو لوگ اس نظر ثانی کے بعد کوئز لیتے ہیں ان میں حقائق کو یاد رکھنے کا امکان 65 فیصد زیادہ ہوتا ہے۔

#جب ہم کچھ نیا سیکھتے ہیں تو ہمارا دماغ نیوران کے درمیان نئے کنکشن بناتا ہے۔ اس کے بعد دماغ میں نظر آنے والے سرمئی مادے میں اضافہ ہوتا ہے۔

26)اوسط دماغ ایک دن میں 50,000 سے 70,000 کے درمیان خیالات رکھتا ہے۔

27)تقریباً 100 بلین دماغی خلیوں کے ساتھ، دماغ میں ہر سیکنڈ میں 100,000 سے زیادہ کیمیائی رد عمل ہوتے ہیں۔

28)دماغ جسم کے کل وزن کا تقریباً 2% پر مشتمل ہوتا ہے، لیکن کل توانائی اور آکسیجن کی مقدار کا 20% حصہ استعمال کرتا ہے۔

29)دماغ کا 73فیصد حصہ پانی سے بنا ہے لیکن صرف دو فیصد پانی کی کمی آپ کی توجہ,یاداشت اور دوسری علمی سرگرمیوں کو متاثر کرسکتی ہے۔اس لیے زیادہ پینا چاہیے۔کم ازکم ایک دن میں دس گلاس پانی تو ضرور پٸیں۔

30)جسم کے کولیسٹرول کا پچیس فیصد دماغ کے اندر رہتا ہے۔کولیسٹرول دماغ کے ہر خلیے کا ایک لازمی حصہ ہے۔

 مناسب کولیسٹرول کے بغیر، دماغ کے خلیات مر جاتے ہیں۔

31)آکسیجن کے بغیر پانچ منٹ سے بھی کم وقت میں دماغی خلیات کی موت کا سبب بن سکتا ہے، جس سے دماغ کو شدید نقصان پہنچ سکتا ہے۔

32)کیا آپ جانتے ہیں کہ ہر منٹ میں 750-1,000 ملی لیٹر خون دماغ سے بہتا ہے۔

33)آپ کا دماغ ایک ایسی تصویر کو بھی پراسس کر سکتا ہے جسے آپ کی آنکھوں نے 13 ملی سیکنڈز تک دیکھا ہے یعنی آپ کو پلک جھپکنے میں جتنا وقت لگتا ہے اس سے بھی کم وقت۔

34)آپ نے شاید سنا ہوگا کہ توجہ کا دورانیہ کم ہوتا جا رہا ہے۔ اور یہ کہ اوسط فرد کی توجہ کا دورانیہ گولڈ فش سے کم ہوتا ہے۔اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ہے کہ انسانی توجہ کا دورانیہ کم ہورہا ہے یا یہ کہ گولڈ فش خاص طور پر کم توجہ کا دورانیہ رکھتی ہے۔

35)قلیل مدت کے اندر ضرورت سے زیادہ مقدار میں الکحل کا استعمال دماغ کی طویل مدتی یادوں کو ریکارڈ کرنے اور ذخیرہ کرنے کی صلاحیت سے محروم ہو سکتا ہے۔

36)کبھی کبھی آدھا دماغ پورے کے طور پر اچھا ہوتا ہے۔ جب سرجن دوروں کو روکنے کے لیے آپریشن کرتے ہیں، تو وہ دماغ کے آدھے حصے کو ہٹا یا غیر فعال کر دیتے ہیں جسے ہیمیسفیریکٹومی کہا جاتا ہے۔ حیرت انگیز طور پر، مریضوں کی شخصیت یا یادداشت پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔

37)سر کا درد ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے یہ دماغ میں شروع ہوتا ہے، لیکن درحقیقت یہ قریبی جلد، جوڑوں، ہڈیوں، خون کی نالیوں یا پٹھوں سے ہونے والے احساسات کی وجہ سے ہوتا ہے۔

38)ایک پراجیکٹ(AI Impacts project) پروجیکٹ میں شامل محققین نے سپر کمپیوٹرز کا دماغ سے موازنہ کرنے کا ایک طریقہ تیار کیا ہے جس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ کمپیوٹر کتنی تیزی سے معلومات کو اپنے سسٹم میں منتقل کر سکتا ہے۔ اس معیار کے مطابق، انسانی دماغ IBM Sequoia سے 30 گنا زیادہ طاقتور ہے، جو دنیا کے تیز ترین سپر کمپیوٹرز میں سے ایک ہے۔

39)آپ کے پچانوے فیصد فیصلے آپ کے لا شعوری دماغ میں ہوتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ اکثریت کے اکثر فیصلے غلط ہی ہوتے ہیں۔

40)عام طور پر آپ نے سنا ہوگا کہ ہمارے دماغ کے ساٸز کا ہماری ذہنی صلاحیت سے منسلک ہے مگر اس میں کوٸ سچاٸ نہیں ہے۔

41)اگر آپ بڑی عمر کے باوجود دماغ کو صحت مند رکھنا چاہتے ہیں تو یہ صرف علم حاصل کرنے کے بارے میں نہیں ہے بلکہ سماجی تعلق کے بارے میں بھی ہے۔ "تحقیق بتاتی ہے کہ بامعنی سماجی سرگرمیاں دراصل دماغی افعال کو برقرار رکھتی ہیں یا بڑھاتی ہیں۔

42)ملٹی ٹاسکنگ(ایک وقت میں متعدد کام کرنا) ہمارےلیے نقصان دہ ہے۔تحقیق کے مطابق ملٹی ٹاسکنگ سے ہمیں ہر کام کرنے میں زیادہ وقت لگتا ہے۔ملٹی ٹاسکنگ آپ کے فرنٹل لابس کو ہائی جیک کر لیتی ہے، جو دماغ کا اعلیٰ سوچ کا مرکز ہے۔" "جس کی وجہ ذہنی صلاحیتوں میں کمی آتی ہے، غلطیوں کا امکان بڑھ جاتا ہے، سب سے اہم چیز پر توجہ مرکوز کرنے کی ہماری صلاحیت کو کم کرتی ہے، اور یادداشت، نیند اور تناؤ کے مسائل میں اضافہ ہوتا ہے۔

43)تحقیق ہمیں بتاتی ہے کہ اگر آپ کسی چیز کو اچھی طرح یاد رکھنا چاہتے ہیں تو اسے لکھ لیں۔کیونکہ چیزیں لکھ کر یاد کرنے سے چیزیں زیادہ دیر تک یاد رہتی ہیں بجاۓ اسکے کہ آپ ایسا نہ کریں۔

44)دماغ اور ریڑھ کی ہڈی ایک ساتھ مل کر ہمارا مرکزی اعصابی نظام بناتے ہیں۔ دماغ کمانڈ سینٹرل کے طور پر کام کرتا ہے، ریڑھ کی ہڈی کے ذریعے سگنل بھیجتا ہے تاکہ جسم کے افعال جیسے پٹھوں کی حرکت اور سانس لینے کو ممکن بنایا جا سکے۔ اس دوران ریڑھ کی ہڈی جسم سے حسی معلومات کو واپس دماغ تک منتقل کرتی ہے۔

45)آپ کے دماغ کے دو نصف کرہ ہیں، جو کم و بیش آزادانہ طور پر کام کرتے ہیں۔ بایاں دماغ اکثر زبان اور منطق سے منسلک ہوتا ہے، جبکہ دایاں دماغ جذبات اور تخلیقی صلاحیتوں سے جڑا ہوتا ہے۔

46)کیا آپ نے یہ افواہ سنی ہے کہ انسان اپنی دماغی صلاحیت کا صرف 10 فیصد استعمال کرتے ہیں؟ محققین نے پایا ہے کہ یہ ایک افسانہ ہے – آپ اپنے دماغ کی زیادہ تر صلاحیت استعمال کرتے ہیں، یہاں تک کہ جب آپ سو رہے ہوں۔

47)الزائمر کی بیماری دماغ میں انسولین کے خلاف مزاحمت کی وجہ سے ہوتی ہے، جس کی وجہ سے بہت سے لوگ اسے ٹائپ 3 ذیابیطس کہتے ہیں۔

48)دنیا کے تیز ترین سپر کمپیوٹر کو چلانے کے لیے 24 ملین واٹ پاور کی ضرورت ہوتی ہے، لیکن ہمارے دماغ کو صرف 20 واٹس کی ضرورت ہوتی ہے اور یہ تقریباً 100,000 گنا زیادہ تیزی سے کام کرتا ہے۔

49)ورزش ہمارے دماغ کے علمی زوال کو کم کرتی ہے اور معمول سے زیادہ جسمانی سرگرمیاں ہمارے دماغ کی عمر 10 سال تک کم کر سکتی ہیں۔

50)جمائی دراصل ایک ایسا ردعمل ہے جو آپ کے دماغ کو زیادہ آکسیجن بھیجتا ہے۔ رینگنے والے جانور، پرندے اور ممالیہ سبھی جمائی لیتے ہیں اور یہ دماغ میں نیورو ٹرانسمیٹر کے ذریعے کنٹرول کیا جاتا ہے۔

51)انسانی دماغ دو اطراف میں تقسیم ہوتا ہے، ہر ایک جسم کے مخالف سمت سے تعامل کرتا ہے۔ اگرچہ یہ تعامل معلوم ہے، لیکن اس کی وجہ ابھی تک سمجھ نہیں آئی۔

52)سیریبرم دماغ کا اگلا حصہ ہے۔ دماغ کا یہ حصہ کٸ افعال کو کنٹرول کرتا ہے جس میں سوچ,جذبات,مساٸل حل کرنا اور سیکھنا وغیرہ شامل ہیں۔

53)گری دار میوے میں اومیگا فیٹی ایسڈز اور اینٹی آکسیڈنٹس زیادہ ہوتے ہیں جو دماغی صحت کے لیے مفید ہیں۔اس لیے دماغی صحت کے ل


یے ان کا استعمال ضرور کرنا چاہے۔

انسانی دل

انسانی دل 

تحریر

:- محمد محسن


@Muhamad__Mohsin


ہمارا دل ایک عضلاتی آرگن ہے جس کا ساٸز ایک مٹھی کے برابر ہے۔دل ہمارے سینے میں پایا جاتا ہے۔جو خون کی نالیوں کے ذریعے خون جسم میں پمپ کرتا ہے۔یہ دو طرح کا خون پمپ کرتا ہے;ایک آکسیجن والا یعنی آکسیجینیٹڈ(جس میں آکسیجن ہوتی ہے) اور دوسرا آکسیجن کی کمی والا یعنی ڈی آکسیجینیٹڈ۔کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ ہمارے ہر خلیہ کو تواناٸ پیدا کرنے کے لیے آکسیجن کی ضرورت ہوتی ہے۔اس لیے ہمارا دل خون کو پھیپھڑوں میں پمپ کرتا ہے جہاں سے خون آکسیجن لیتا ہے اور پھر اس خون کو جسم کے دوسرے حصوں میں پمپ کرتا ہے۔آکسیجن کی کمی والے خون کو دل پھیپڑوں جبکہ آکسیجن سے بھرپور خون کو جسم میں دھکیلتا ہے جہاں خلیات کو تواناٸ پیدا کرنے کے لیے آکسیجن کی ضرورت ہوتی ہے۔اس کام کے لیے ہمارے دل میں چار خانے ہوتے ہیں۔دو اوپر والے خانوں کو ایٹریا کہتے ہیں جبکہ دو نیچے والے خانوں کو وینیٹریکلز کہتے ہیں۔وینٹریکلز ایٹریا سے جسامت میں بڑے ہوتے ہیں۔سارے جسم سے آنے والا ڈی آکسجینیٹذ خون ہمارے داٸیں ایٹریم میں جبکہ پھپھڑوں سے آنے والا خون ہمارے باٸیں ایٹریم میں داخل ہوتا ہے۔دایاں وینٹریکل خون(آکسیجن کی کمی والا خون) کو پھیپڑوں کی جانب جبکہ بایاں وینٹریکل خون کو جسم میں دھکیلتا ہے۔

دل کے بارے میں چند دلچسپ معلومات

1)دل ایک عضلاتی عضو ہے جو جسم کے گرد خون پمپ کرتا ہے۔ یہ جسم کو آکسیجن اور غذائی اجزاء فراہم کرنے کے لیے خون کی نالیوں کے ذریعے تقریباً 75 ٹریلین خلیوں تک خون پمپ کرتا ہے۔

2)دل کا وزن تقریباً 300 گرام ہے اور یہ آپ کی مٹھی کے سائز کا ہے۔عام طور پر مرد کا دل عورت کے دل سے بڑا ہوتا ہے

3) آپ کا دل روزانہ تقریباً ایک لاکھ بار دھڑکتا ہے۔

4) ایک برقی نظام آپ کے دل کی تال کو کنٹرول کرتا ہے۔ اسے کارڈیک کنڈکشن سسٹم کہا جاتا ہے۔

5)دل میں داخل ہونے والا خون کالا سرخ ہوتا ہے کیونکہ اس میں آکسیجن نہیں ہوتی۔ دل سے نکلنے والا خون گہرا سرخ ہوتا ہے کیونکہ اس میں آکسیجن ہوتی ہے۔

6) دل جسم سے منقطع ہونے پر بھی دھڑکتا رہ سکتا ہے۔

7) پہلی اوپن ہارٹ سرجری 1893 میں ہوئی تھی۔ اسے ڈینیئل ہیل ولیمز نے انجام دیا تھا، جو اس وقت ریاستہائے متحدہ میں چند سیاہ فام امراض قلب کے ماہرین

8) دل کی بیماری کے سب سے پہلے معلوم کیس کی شناخت 3,500 سال پرانی مصری ممی کی باقیات میں ہوئی تھی۔

9) پریوں کی مکھی، جو ایک قسم کی تتییا ہے، کا دل کسی بھی جاندار سے چھوٹا ہوتا ہے۔

10) امریکن پگمی شریو سب سے چھوٹا ممالیہ ہے، لیکن اس کے دل کی دھڑکن 1,200 دھڑکن فی منٹ ہے۔

11) وہیل کا دل کسی بھی ممالیہ جانور کا سب سے بڑا ہوتا ہے۔

12) زیادہ تر دل کے دورے پیر کو پڑتے ہیں۔

13) آپ کے دل کی دھڑکن کی آواز اس کے والوز کے کھلنے اور بند ہونے کی وجہ سے ہوتی ہے۔

14) اگر آپ اپنے خون کی نالیوں کے نظام کو پھیلانا چاہتے ہیں، تو یہ 60,000 میل سے زیادہ تک پھیلے گا۔

15)آرام کرتے وقت، خون کو آپ کے دل سے پھیپھڑوں اور دوبارہ واپس جانے میں 6 سیکنڈ لگتے ہیں، دماغ اور کمر تک جانے میں 8 سیکنڈ، اور انگلیوں اور کمر تک جانے میں 16 سیکنڈ لگتے ہیں۔

 16)ہنسنا آپ کے دل کے لیے اچھا ہے۔ یہ تناؤ کو کم کرتا ہے اور آپ کے مدافعتی نظام کو فروغ دیتا ہے۔

17)دل کی بیماری ریاستہائے متحدہ میں موت کی نمبر 1 وجہ ہے

18) ایک بالغ کا دل تقریباً 60 سے 80 بار فی منٹ دھڑکتا ہے۔

19)نوزائیدہ بچوں کے دل بالغ دلوں سے زیادہ تیز دھڑکتے ہیں، تقریباً 70-190 دھڑکن فی منٹ۔

20)دل روزانہ اتنی توانائی پیدا کرتا ہے کہ اس تواناٸ سے ایک ٹرک کو 20 میل چلایا جاسکتا ہے۔  


 21)حمل کے چار ہفتے بعد دل دھڑکنا شروع ہو جاتا ہے اور موت تک نہیں رکتا۔


22)خون بنانے والے خلیے تقریباً 4 ماہ کی زندگی کے بعد مسلسل دوبارہ پیدا ہو رہے ہیں۔ بون میرو ہر سیکنڈ میں تقریباً 3 ملین نئے سرخ خون کے خلیات پیدا کرتا ہے۔

23)عورت کا دل عام طور پر مرد کے مقابلے میں تیز دھڑکتا ہے۔ ایک اوسط مرد کا دل ایک منٹ میں تقریباً 70 بار دھڑکتا ہے، جب کہ اوسط عورت کے دل کی دھڑکن 78 بار فی منٹ ہوتی ہے۔

 24)ایک ٹینس بال کو پکڑو اور اسے مضبوطی سے نچوڑو۔آپ کو جتنی محنت ایسا کرنے کے لیے لگی ہے اس سے کہیں زیادہ محنت اس طرح دھڑکتا دل خون پمپ کرنے کے لیے لگتی ہے۔

 25)اوسط زندگی کے دوران، دل تقریباً 1.5 ملین بیرل خون پمپ کرے گا جو کہ 200 ٹرین ٹینک کاروں کو بھرنے کے لیے کافی ہے۔

 26)فرانسیسی معالج رینے لینیک (1781-1826) نے سٹیتھوسکوپ اس وقت ایجاد کیا جب اس نے محسوس کیا کہ اس کا کان اپنی بڑی بوکسوم والی خواتین کے سینے پر رکھنا نامناسب ہے۔

27) 3 دسمبر 1967 کو جنوبی افریقہ کے ڈاکٹر کرسٹیان برنارڈ (1922-2001) نے لوئس واشنسکی کے جسم میں انسانی دل کی پیوند کاری کی۔ اگرچہ وصول کنندہ صرف 18 دن زندہ رہا، لیکن یہ پہلا کامیاب ہارٹ ٹرانسپلانٹ سمجھا جاتا ہے۔

28آپ جتنی زیادہ تعلیم حاصل کریں گے، آپ کے دل کی بیماری کا خطرہ اتنا ہی کم ہوگا۔

29)خوشی اور اپنے جذبات پر قابو رکھنے سے دل کی بیماریوں کا خطرہ کم ہوجاتا ہے۔

30)تمام جانوروں میں سے بلیو وہیل کا دل سب سے بڑا ہے جس وزن 1500(680کلوگرام) پاونڈ ہے۔

31)آپ کا دل ہر ایک منٹ میں ڈیڑھ گیلن خون آپ کے جسم میں پمپ کرتا ہے۔

32)آپ کا دل ایک کورآرڈینیٹڈ مشین ہے۔آپ کے دل کا بایاں حصہ خون کو آپ کے جسم کے دوسرے حصوں کی جانب پمپ کرتا ہے جبکہ دایاں حصہ خون کو پھیپھڑوں کی جانب پمپ کرتا ہے۔

33)آپ کے جسم کا ہر خلیہ دل سے خون حاصل کرتا ہے سواۓ کارنیا کے۔کیونکہ کارنیا میں خون کی شریانیں نہیں ہوتی ہیں۔ 

34)دل کی بیماریاں، جنہیں قلبی امراض بھی کہا جاتا ہے، میں دل کا دورہ، دل کی بیماری، ہائی بلڈ پریشر، اور دل کی ناکامی شامل ہیں۔ اپنے دل کو صحت مند رکھنے اور دل کی بیماری سے بچنے کے لیے، آپ کو باقاعدگی سے ورزش کرنے اور صحت بخش غذا کھانے کی ضرورت ہے۔


35)ورزش کرتے وقت، آپ کا دل آپ کے پٹھوں میں زیادہ خون اور آکسیجن پمپ کرنے کے لیے تیزی سے دھڑکتا ہے۔کیونکہ ورزش کے وقت جسم کو زیادہ تواناٸ کی ضرورت ہوتی ہے اور زیادہ تواناٸ کے لیے زیادہ غذا اور آکسیجن کی ضرورت ہوتی ہے۔

36)ایک ای سی جی مشین دل سے گزرنے والی بجلی کی پیمائش کے لیے استعمال کی جاتی ہے اور ڈاکٹر آپ کے دل کا معائنہ کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

پروٹین کی کمی کی علامات


 پروٹین کی کمی کی علامات

تحریر :- محمد محسن 


@Muhamad__Mohsin

1)سوجن❗

سب سے عام علامات میں سے ایک یہ ہے کہ آپ کو پروٹین کافی مقدار میں نہیں مل رہا ہے سوجن ہے (جسے ورم بھی کہا جاتا ہے)، خاص طور پر آپ کے پیٹ، ٹانگوں، پیروں اور ہاتھوں میں۔ ایک ممکنہ وضاحت: وہ پروٹین جو آپ کے خون میں گردش کرتے ہیں -- البومین، خاص طور پر -- آپ کے ٹشوز میں سیال کو بننے سے روکنے میں مدد کرتے ہیں۔ لیکن بہت سی چیزیں ورم کا سبب بن سکتی ہیں، 

2)موڈ آف❗

آپ کا دماغ خلیات کے درمیان معلومات کو ریلے کرنے کے لیے نیورو ٹرانسمیٹر نامی کیمیکل استعمال کرتا ہے۔ ان میں سے بہت سے نیورو ٹرانسمیٹر امینو ایسڈ سے بنے ہوتے ہیں، جو کہ پروٹین کی تعمیر کے بلاکس ہیں۔ لہذا آپ کی خوراک میں پروٹین کی کمی کا مطلب یہ ہو سکتا ہے کہ آپ کا جسم ان نیورو ٹرانسمیٹر کو کافی مقدار میں نہیں بنا سکتا، اور اس سے آپ کے دماغ کے کام کرنے کا طریقہ بدل جائے گا۔ ڈوپامائن اور سیرٹونن کی کم سطح کے ساتھ، مثال کے طور پر، آپ افسردہ یا حد سے زیادہ جارحانہ محسوس کر سکتے ہیں۔

3)بال، ناخن اور جلد کے مسائل

 ایلسٹن، کولیجن اور کیراٹین پروٹین سے بنتے ہیں۔ جب آپ کا جسم انہیں نہیں بنا سکتا، تو آپ کو ٹوٹنے والے یا پتلے بال، خشک اور فلیکی جلد، اور آپ کے ناخنوں پر گہری چوٹیاں ہو سکتی ہیں۔ یقیناً آپ کی خوراک ہی واحد ممکنہ وجہ نہیں ہے، لیکن اس پر غور کرنے کی بات ہے۔

4)کمزوری اور تھکاوٹ

تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ صرف ایک ہفتے میں کافی پروٹین نہ کھانا آپ کی حالت اور حرکت کے لیے ذمہ دار عضلات کو متاثر کر سکتا ہے، خاص طور پر اگر آپ کی عمر 55 یا اس سے زیادہ ہے۔ اور وقت گزرنے کے ساتھ، پروٹین کی کمی آپ کو پٹھوں کے بڑے پیمانے پر نقصان پہنچا سکتی ہے، جس کے نتیجے میں آپ کی طاقت کم ہو جاتی ہے، آپ کا توازن برقرار رکھنا مشکل ہو جاتا ہے، اور آپ کا میٹابولزم سست ہو جاتا ہے۔ یہ خون کی کمی کا باعث بھی بن سکتا ہے، جب آپ کے خلیات کو کافی آکسیجن نہیں ملتی، جو آپ کو تھکا دیتا ہے۔

5)بھوک❗

پروٹین آپ کو ایندھن(انرجی) دیتا ہے۔ یہ کیلوری کے تین ذرائع میں سے ایک ہے جن میں اسکے علاوہ کاربوہائیڈریٹ اور چربی ہیں۔ اگر آپ باقاعدگی سے کھانے کے باوجود زیادہ وقت کھانا چاہتے ہیں تو آپ کو زیادہ پروٹین کی ضرورت پڑسکتی ہے۔ مطالعات سے پتہ چلا ہے کہ پروٹین والی غذائیں مناسب مقدار میں نہ کھانے سے آپ کو بھوک زیادہ لگتی ہے

6)چوٹیں اور خراشیں❗

جن لوگوں میں پروٹین کی مقدار کم ہوتی ہے وہ اکثر اپنی چوٹیں اور خراشوں کو بہتر ہونے میں زیادہ وقت لیتے ہیں۔یہ آپ کے جسم کا کافی کولیجن نہ بنانے کا ایک اور اثر ہوسکتا ہے۔ یہ کنیکٹیو ٹشوز کے ساتھ ساتھ آپ کی جلد میں بھی پایا جاتا ہے۔ خون کا جمنے لیے، آپ کو پروٹین کی بھی ضرورت ہے۔

7)قوت مدافعت❗

آپ کے خون میں امینو ایسڈ جو کہ پروٹینز کے بلڈنگ بلاکس ہیں آپ کے مدافعتی نظام کو اینٹی باڈیز بنانے میں مدد کرتے ہیں جو وائرس، بیکٹیریا اور زہریلے مادوں سے لڑنے کے لیے خون کے سفید خلیوں کو چالو کرتے ہیں۔ آپ کو صحت مند رکھنے والے دیگر غذائی اجزاء کو ہضم کرنے اور جذب کرنے کے لیے پروٹین کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس بات کا بھی ثبوت ہے کہ پروٹین آپ کے آنت میں بیماریوں سے لڑنے والے "اچھے" بیکٹیریا کی سطح کو تبدیل کر سکتا ہے۔

8)کواشیورکور❗

 یہ غذائی قلت کی ایک شدید شکل ہے۔ یہ کچھ ترقی پذیر علاقوں میں سب سے زیادہ عام ہے جہاں بچوں اور بچوں کو ان کی خوراک میں کافی پروٹین یا دیگر ضروری غذائی اجزاء نہیں ملتے ہیں۔

کیلشیم کے صحت پر اثرات


 کیلشیم کے صحت پر اثرات

تحریر :- محمد محسن 


@Muhamad__Mohsin

1. کیلشیم آپ کے جسم کے افعال میں ایک کردار ادا کرتا ہے۔

 کیلشیم آپ کے جسم کے بہت سے بنیادی افعال میں ایک کردار ادا کرتا ہے۔ آپ کے جسم کو خون کی گردش، پٹھوں کو حرکت دینے، اور ہارمونز کے اخراج کے لیے کیلشیم کی ضرورت ہوتی ہے۔ کیلشیم آپ کے دماغ سے آپ کے جسم کے دوسرے حصوں تک پیغامات پہنچانے میں بھی مدد کرتا ہے۔

 کیلشیم دانتوں اور ہڈیوں کی صحت کا بھی ایک بڑا حصہ ہے۔ یہ آپ کی ہڈیوں کو مضبوط اور گھنے بناتا ہے۔ آپ اپنی ہڈیوں کو اپنے جسم کے کیلشیم کے ذخائر کے طور پر سوچ سکتے ہیں۔ اگر آپ کو اپنی خوراک میں کافی کیلشیم نہیں ملتا ہے، تو آپ کا جسم اسے آپ کی ہڈیوں سے لے جائے گا۔جس سے ہڈیاں کمزور ہوجاتی ہیں۔

2. آپ کا جسم کیلشیم پیدا نہیں کرتا

 آپ کا جسم کیلشیم پیدا نہیں کرتا، اس لیے آپ کو مطلوبہ کیلشیم حاصل کرنے کے لیے اپنی خوراک پر انحصار کرنا ہوگا۔ وہ غذائیں جن میں کیلشیم زیادہ ہوتا ہے ان میں شامل ہیں:

١) دودھ کی مصنوعات جیسے دودھ، پنیر اور دہی

٢) گہرے سبز سبزیاں جیسے کیلے، پالک اور بروکولی

٣) سفید پھلیاں

٤) سارڈینز

٥) کیلشیم سے مضبوط بریڈ، اناج، سویا کی مصنوعات، اور اورنج جوس

3. کیلشیم کو جذب کرنے کے لیے آپ کو وٹامن ڈی کی ضرورت ہے۔

 کیلشیم کو جذب کرنے کے لیے آپ کے جسم کو وٹامن ڈی کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کا مطلب ہے کہ اگر آپ کے پاس وٹامن ڈی کم ہے تو آپ کیلشیم سے بھرپور غذا سے مکمل طور پر فائدہ نہیں اٹھائیں گے۔

 آپ وٹامن ڈی کچھ خاص کھانوں سے حاصل کر سکتے ہیں، جیسے سالمن، انڈے کی زردی، اور کچھ مشروم۔ کیلشیم کی طرح، کچھ کھانے کی مصنوعات میں وٹامن ڈی شامل ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر، دودھ میں اکثر وٹامن ڈی شامل ہوتا ہے۔

 سورج کی روشنی آپ کے وٹامن ڈی کا بہترین ذریعہ ہے۔ آپ کی جلد قدرتی طور پر وٹامن ڈی پیدا کرتی ہے جب سورج کی روشنی میں لایا جاتا ہے۔ سیاہ جلد والے لوگ بھی وٹامن ڈی پیدا نہیں کرتے، اس لیے اس کی کمی سے بچنے کے لیے سپلیمنٹس ضروری ہو سکتے ہیں۔

4. خواتین کے لیے کیلشیم اور بھی اہم ہے۔

 کئی مطالعات سے پتہ چلتا ہے کہ کیلشیم پری مینسٹرول سنڈروم (PMS) کی علامات کو کم کر سکتا ہے۔ اس مطالعے نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ PMS والی خواتین میں کیلشیم اور میگنیشیم کی مقدار کم ہوتی ہے اور سیرم کی سطح کم ہوتی ہے۔

5. تجویز کردہ رقم آپ کی عمر پر منحصر ہے۔

 آپ کو کیسے پتہ چلے گا کہ آپ کو کافی کیلشیم مل رہا ہے؟ نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ (NIH) کے معتبر ذرائع کا کہنا ہے کہ بالغوں کو روزانہ 1,000 ملی گرام ملنا چاہیے۔ 50 سال سے زیادہ عمر کی خواتین کے لیے حمل اور دودھ پلانے کے دوران، NIH روزانہ 1,200 ملی گرام تجویز کرتا ہے۔ ایک کپ سکم، کم چکنائی، یا پورے دودھ میں تقریباً 300 ملی گرام کیلشیم ہوتا ہے۔  

6. کیلشیم کی کمی دیگر صحت کے مسائل کا باعث بن سکتی ہے۔

 کیلشیم کی کمی دیگر صحت کے مسائل کا باعث بن سکتی ہے۔ بالغوں کے لیے، بہت کم کیلشیم آپ کے آسٹیوپوروسس، یا کمزور اور غیر محفوظ ہڈیوں کے بننے کے خطرے کو بڑھا سکتا ہے جو آسانی سے ٹوٹ جاتی ہیں۔ آسٹیوپوروسس خاص طور پر بڑی عمر کی خواتین میں عام ہے، یہی وجہ ہے کہ NIH تجویز کرتا ہے کہ وہ اپنے مرد ہم منصبوں سے زیادہ کیلشیم استعمال کریں۔

 بچوں کے بڑھنے اور نشوونما کے ساتھ ساتھ کیلشیم ضروری ہے۔ جن بچوں کو کافی کیلشیم نہیں ملتا وہ اپنی ممکنہ قد تک نہیں بڑھ سکتے یا صحت کے دیگر مسائل پیدا نہیں کر سکتے۔

7. بہت زیادہ کیلشیم کے منفی اثرات ہو سکتے ہیں۔

 کسی بھی معدنیات یا غذائیت کے ساتھ، صحیح مقدار حاصل کرنا ضروری ہے۔ بہت زیادہ کیلشیم کے منفی اثرات ہو سکتے ہیں۔

 قبض، گیس، اور اپھارہ جیسی علامات ظاہر کر سکتی ہیں کہ آپ کو بہت زیادہ کیلشیم مل رہا ہے۔

 اضافی کیلشیم آپ کے گردے کی پتھری کا خطرہ بھی بڑھا سکتا ہے۔ غیر معمولی معاملات میں، بہت زیادہ کیلشیم آپ کے خون میں کیلشیم کے ذخائر کا سبب بن سکتا ہے۔ اسے ہائپر کیلسیمیا کہا جاتا ہے۔

 کچھ ڈاکٹروں کا خیال ہے کہ کیلشیم سپلیمنٹس لینے سے آپ کے دل کی بیماری کا خطرہ بڑھ سکتا ہے، لیکن دوسرے اس سے متفق نہیں ہیں۔ اس وقت، یہ سمجھنے کے لیے مزید تحقیق کی ضرورت ہے کہ کیلشیم سپلیمنٹس دل کی صحت کو کیسے متاثر کرتے ہیں۔

پروٹین



 پروٹین

تحریر :- محمد محسن

@Muhamad__Mohsin

پروٹین ہر خوراک کا ایک اہم حصہ ہے۔ پروٹین کی مقدار کا انحصار ایک فرد کی عمر اور جنس پر ہوتا ہے۔

 پروٹین جسم کے ہر خلیے کا ایک حصہ ہے۔ یہ جسم کو خلیوں اور ٹشوز کی تعمیر اور مرمت میں مدد کرتا ہے۔ پروٹین جلد، پٹھوں، ہڈیوں، اعضاء، بالوں اور ناخن کا ایک اہم جزو ہے۔

پروٹین تین میکرونیوٹرینٹس میں سے ایک ہے، جو جسم کو زیادہ مقدار میں درکار غذائی اجزاء ہیں۔ دیگر غذائی اجزاء چربی(فیٹ) اور کاربوہائیڈریٹ ہیں۔

 پروٹین امینو ایسڈ کی لمبی زنجیروں سے بنا ہوتا ہے۔ 20 امینو ایسڈ ہیں۔ امینو ایسڈ کی مخصوص ترتیب ہر پروٹین کی ساخت اور کام کا تعین کرتی ہے۔

 20 امینو ایسڈ ہیں جو جسم پروٹین بنانے کے لیے استعمال کرتا ہے ۔ پروٹین یا تو مکمل یا نامکمل ہو سکتے ہیں۔ مکمل پروٹین وہ پروٹین ہیں جن میں تمام ضروری امینو ایسڈ ہوتے ہیں۔ جانوروں کی مصنوعات، سویا اور کوئنو مکمل پروٹین ہیں۔

 نامکمل پروٹین وہ پروٹین ہیں جن میں تمام ضروری امینو ایسڈ نہیں ہوتے ہیں۔ زیادہ تر پودوں کی غذا نامکمل پروٹین ہوتی ہے، بشمول پھلیاں، گری دار میوے اور اناج۔

 لوگ پروٹین کے نامکمل ذرائع کو ملا کر ایک ایسا کھانا بنا سکتے ہیں جو تمام ضروری امینو ایسڈ فراہم کرتا ہو۔ مثالوں میں چاول اور پھلیاں، یا پوری گندم کی روٹی پر مونگ پھلی کا مکھن شامل ہیں۔

 پروٹین جسم میں کیا کرتا ہے؟

 پروٹین جسم کے ہر خلیے میں موجود ہوتا ہے، اور پٹھوں، ہڈیوں اور ٹشوز کو صحت مند رکھنے کے لیے پروٹین کی مناسب مقدار ضروری ہے۔

 پروٹین بہت سے جسمانی عمل میں ایک کردار ادا کرتا ہے جیسا کہ

 خون کا جمنا

 سیال توازن

 مدافعتی نظام کو بہتر بنانا

اچھی بصارت 

 ہارمونز

 پروٹین نشونما کے لئے اہم ہے، خاص طور پر دوران

 بچپن، جوانی اور حمل۔

  پروٹین کے ذرائع

 امریکیوں کے لیے غذائی رہنما خطوط 2015–2020 کے مطابق، صحت مند کھانے کے پیٹرن میں پروٹین پر مشتمل مختلف قسم کے کھانے شامل ہوتے ہیں۔ جانوروں اور پودوں کے کھانے دونوں پروٹین کے بہترین ذرائع ہو سکتے ہیں۔


  درج ذیل کھانوں کو پروٹین فوڈز کے طور پر درجہ بندی کرتی ہیں۔

 سمندری غذا

 گوشت اور پولٹری

 انڈے

 پھلیاں، جس میں پھلیاں اور مٹر شامل ہیں۔

 گری دار میوے

 بیج

 سویا کی مصنوعات

 دودھ کی مصنوعات، جیسے دودھ، پنیر، اور دہی میں بھی پروٹین ہوتا ہے۔ سارا اناج اور سبزیوں میں کچھ پروٹین ہوتا ہے، لیکن عام طور پر دوسرے ذرائع سے کم ہوتا ہے۔

 جانوروں کی مصنوعات میں پودوں کے کھانے کی نسبت پروٹین کی مقدار زیادہ ہوتی ہے، اس لیے سبزی خور غذا یا ویگن غذا پر عمل کرنے والے لوگوں کو اپنے کھانے کی منصوبہ بندی کرنے کی ضرورت پڑ سکتی ہے تاکہ یہ یقینی بنایا جا سکے کہ وہ اپنی پروٹین کی ضروریات کو پورا کرتے ہیں۔

خوشی اور غم

 خوشی اور غم 

تحریر :-محمد محسن

@Muhamad__Mohsin

زندگی کے دامن میں دونوں ہی چیزیں موجود ہیں۔ اس میں عظیم لطف بھی ہیں ، بڑے غم بھی۔ مگر یہ دونوں ایک ہی سکے کے بس دورخ ہیں۔ اگر آپ اس سکے کا ایک رخ چھوڑیں گے تو دوسرا رخ خود ہی کھو جاتا ہے۔ انسانون کو جو سب سے بڑا دھوکہ ہے وہ یہی ہے کہ وہ خوشی کو تھام سکتے ہیں اور دکھ کو چھوڑ سکتے ہیں۔ زندگی اور کائنات کی جو نیچر ہے اس میں یہ ناممکن ہے۔ سکھ اور دکھ ایک ہی انرجی کے دومختلف پہلو ہیں۔ کبھی غور کریں تو آپ کو دکھ میں بھی حسن نظر آجائے گا۔ ایک تجربہ کرکے دیکھیں۔ اگلی بار جب آپ دکھی ہوں، تو اس کے ساتھ لڑنے کی کوشش نہ کریں۔ اس کو قبول کریں، بلکہ اسے خوش آمدید کہیں۔ اور پھر پوری احتیاط اور محبت کے ساتھ اس کو دیکھیں۔ اور آپ کو حیرت ہوگی کہ دکھ میں بھی حسن ہے ایک ایسا حسن جو خوشی میں ہوہی نہیں سکتا۔ آپ نے شاید اس بات کو کبھی نوٹس ہی نہیں کہ دکھ میں گہرائی ہوتی ہے جبکہ خوشی میں عجیب سی ایک سطحیت ہوتی ہے۔ دکھ میں آنسو ہوتے ہیں اور آنسو قہقہے سے کہیں گہرے جاتے ہیں۔ دکھ میں ایک خاموشی ہوتی ہے، ایک سر ہوتا ہے ، وہ خاموشی اور سر جس سے خوشی محروم ہے۔زندگی کو ہرممکن طریقوں سے جئیں۔ کسی ایک چیز کو چھوڑ اور دوسری کو چن کر نہ جئیں۔ ہمیشہ درمیانی راستے پررہیں۔ اور اس کے لیے توازن کو قائم کرنے کی کوشش نہ کریں ، کیونکہ توازن قائم نہیں کیا جاتا، بلکہ توازن خود بخود پیدا ہوتا ہے جب زندگی کے ہررخ کو آپ تجربہ کرنا شروع کردیں۔

بچوں کے دودھ کے دانتوں کا ٹوٹنا اور نئے دانت نکلنا

بچوں کے دودھ کے دانتوں کا ٹوٹنا اور نئے دانت نکلنا 




تحریر:- محمد محسن 

@Muhamad__Mohsin

ایک نوزائیدہ بچے کے مسوڑھوں کے نیچے دانت بنانے والے سٹیم سیلز موجود ہوتے ہیں جنہیں ، ماں کے رحم میں تقریباً 6 سے 8 ہفتے کے درمیان یہ سٹیم سیلز تقسیم ہوتے ہیں اور مسوڑھے کے نیچے ابھار سا بنا لیتے ہیں، پھر ان سٹیم سیلز سے دو طرح کے سیلز بنتے ہیں ایک قسم کے سیلز کو odontoblasts کہتے ہیں ،یہ سیل dentin بناتے ہیں، جو کہ دانت کا اندر والا حصہ ہوتا ہے اور قدرے نرم ہوتا ہے۔ جبکہ جو ابھار کے اوپر والے سیلز ہوتے ہیں وہ ameloblasts نام کے سیل بناتے ہیں، یہ ameloblasts دانت کے اوپر والا سخت حصہ بناتے ہیں جسے enamel کہتے ہیں۔ enamel ایک کیمیکل hydroxyapatite Ca10(PO4)6(OH)2 سے بنا ہوا ہوتا ہے۔ اس طرح یہ ameloblasts بنتے رہتے ہیں اور enamel خارج کرتے رہتے ہیں اور پرانے ameloblasts مردہ ہوتے رہتے ہیں اور enamel میں ہی دفن ہوجاتے ہیں۔ پھر جب یہ دودھ کے دانت باہر آتے ہیں تو مسوڑھے کے نیچے موجود سٹیم سیلز ابھی بھی ایکٹو ہوتے ہیں، جس وجہ سے وہ دوسری بار بھی دانت بنانے لگ جاتے ہیں، دوسری بار کے دانت مسوڑے کے نیچے بن رہے ہوتے ہیں اور یہ دانتے دودھ کے دانت کی جڑوں کو کمزور کردیتے ہیں جس وجہ سے دودھ کے دانت گر جاتے ہیں اور انکی جگہ نئے دانت باہر آجاتے ہیں۔۔۔

مگر دوسری بار دانت نکلنے کے بعد وہ سٹیم سیلز جو کہ دانت بنا رہے تھے وہ inactive ہوجاتے ہیں اور مزید دانت نہیں بنتے۔۔۔

البتہ کچھ جانور جیسا کہ شارک میں دانتوں کی قطاریں ایک دوسرے کے پھیچے موجود ہوتی ہیں جب سامنے والی قطار ختم ہوجاتی ہے تو دوسری قطار اس کی جگہ لے لیتی ہے اور پھیچے سے ایک اور قطار اگ جاتی ہے۔۔

)

تصویر میں اپکو ایک بچے کی کھوپڑی نظر آرہی ہے۔ جس میں اپکو دانتوں کی دو سے زیادہ تہیں نظر آرہی ہیں۔

درمیان والی دو تہیں دودھ کے دانتوں کی ہیں، وہ سب سے اوپر اور سب سے نیچے والی تہیں ان دانتوں کی ہیں جنہوں نے دودھ کے دانت ٹوٹنے کے بعد باہر آنا تھا، مگر شاید بچے کی زندگی نے اتنی وفا نہ کی۔ سیاہ بیک گراؤنڈ میں نظر آنے والی تصویر کسی بچے کی اصلی کھوپڑی کی ہے جو کہ فلڈیلفیا کی میڈیکل "mutter museum" میں موجود ہے)

"سٹیویا پلانٹ "

 "سٹیویا" پلانٹ 

تحریر :- محمد محسن

@Muhamad__Mohsin


جیسا کہ آپ کو علم ہے کہ چینی گنے کے علاؤہ چقندر سے بھی بنائی جاتی ہے- لیکن آج کل ایک پودے کے پتے بھی چینی بنانے کیلئے استعمال کیے جاتے ہیں اور اس پودے کی پاکستان میں کافی مانگ ہے جسے "سٹیویا"کہتے ہیں - "سٹیویا" کو سبز شوگر بھی کہتے ہیں

اس کا آبائی وطن یوراگوئے ہے "یورا گوئے" کے لوگ اس کے پتوں کو چینی کے متبادل کے طور پہ کامیابی سے استعمال کر رہے ہیں 

- "سٹیویا" میں چینی کے نسبت 💯 سے 300 گنا زیادہ مٹھاس ہوتی ہے- یعنی "سٹیویا" کے ایک گرام پتے ایک گرام چینی سے سو سے لیکر تین سو گنا زیادہ شیرینی اپنے اندر چھپائے ہوئے ہیں عام الفاظ میں یہ کہہ لیں کہ چینی کی نسبت اس کی کم مقدار زیادہ مٹھاس دے گی - 

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ کیا وجہ ہے کہ اس کا استعمال چینی کے مقابلے میں زیادہ فائدہ مند ہے تو غذائی ماہرین کے مطابق ایک تو یہ قدرتی بوٹی ہے لہذا اس میں کسی قسم کے مضر اثرات جو کہ چینی کے اندر ہوتے ہیں نہیں ہوں گے- دوسرا اس میں طاقت صفر حرارہ ملے گی- جی ہاں صفر حرارہ -- جیسے بہت سے لوگ اپنے وزن بڑھنے کے ڈر سے میٹھا کھانا مکمل چھوڑ چکے ہیں ان کے لیئے یہ بغیر حراروں کے شکر انتہائی فائدہ مند ہے-

اس کے علاوہ وہ لوگ جو شکر کے مریض ہونے کی وجہ سے سکرال اور مصنوعی مٹھاس استعمال کرتے ہیں ان کے لیے مصنوعی مٹھاس کا متبادل یہ " سبز چینی" ہے- کیونکہ "سبز چینئ" سے ذیابیطس کے مریضوں کو کوئی نقصان نہیں ہوتا- جبکہ سکرال وغیرہ کے مضر اثرات ہیں۔۔

اگلا سوال یہ ملتی کہاں سے ہے-؟؟ یا ہم اس کو کہاں اگا سکتے ہیں- تو یہ پودا آپ گھروں میں گملوں میں لگا کر اس کو اگا سکتے ہیں اور اس سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں- اور اس پودے کی نشوونما کے لیئے عام مرطوب موسم چاہیئے ہوتا ہے یعنی نہ زیادہ گرمی اور نہ زیادہ سردی- جیسے لاہور کا موسم ہے- گرمیوں میں اس کو پڑچھتی میں چھاؤں میں رکھا جاسکتا ہے اور سردیوں میں اس کو دھوپ میں رکھا جا سکتا ہے- 

بازار سے یہ پودا 6 سو روپے سے 1000 روپے میں مل جاتا ہے اس کو دو طرح سے اگایا جاسکتا ہے ایک اس کے بیج مل جاتے دوسرا اس کو قلم کر کے لگایا جاسکتا ہے- بیج والے طریقے سے یہ دیر سے اگتا ہے لیکن قلم والے طریقے سے یہ بہت جلدی نشوونما پاتا ہے اس کے لئے 2 خطرے ہوتے ہیں ایک سخت موسم (چاہے وہ جاڑے کا ہو یا گرمی کا) اور دوسرا اس کو ایک سفید کیڑا چمٹ جاتا ہے- 

سخت موسم سے بچانے کے لیئے جیسے دوسرے پودوں کے ساتھ سلوک کرتے ویسے ہی اس کے ساتھ بھی سلوک کرکے اس کی حفاظت کی جا سکتی ہے- جبکہ سفید کیڑے سے بچاؤ کے لیئے اس کے پتوں پر روز سادے پانی کا چھڑکاو کرنے سے سفید کیڑے سے جان چھوٹ جاتی ہے- 

اس کو استعمال کرنے کا طریقہ کار بھی انتہائی آسان ہے- اس کے پتوں کو سکھا کر خشک کرلیا جاتا ہے اور پھر اس کو پیس کر سفوف بنا لیا جاتا ہے- ہم اس کے خشک پتوں کو بھی استعمال کرسکتے ہیں اور سفوف کی شکل میں بھی استعمال کرسکتے ہیں- اور یہ چینی کے مقابلے میں بہت کم استعمال ہوتا ہے- 

مثال کے طور پہ 

چائے بنانے کیلئے عموما لوگ ایک دو یا تین چمچ چینی استعمال کرتے ہیں جب کہ وہی کام بمشکل ایک گرام وزن رکھنے والے دو سے تین پتے سر انجام دیں تو سودا مہنگا نہیں 

 میٹھے والی اشیاء جیسےکھیر، حلوہ، گجریلا وغیرہ میں پتوں کی بجائے اس کا سفوف استعمال کیا جاسکتا ہے- 

اگر اتنی ساری کھیچل آپ گھر میں نہیں کرسکتے تو بازار سے اس کا سفوف اور مائع شکل میں یہ دستیاب ہوتا ہے آپ وہاں سے اس کو خرید سکتے ہیں- چائینز فارمیسی نے اپنی فارمیسز میں شکر کا استعمال کم کر کے اس کا استعمال بڑھادیا ہے- سفید چینی ایک زہر ہے-- اس کا استعمال ترک کرکے ہمیں ہربل اور دیسی چیزوں پر منتقل ہونا چاہئے کیونکہ ہمارے لیئے صحت سے زیادہ کوئی چیز اہ


م نہیں.

مولی، شلجم، گاجر، چقندر کی کاشت ، اہمیت

 مولی، شلجم، گاجر، چقندر کی کاشت ، اہمیت:

تحریر:- محمد محسن

@Muhamad__Mohsin

کچن گارڈننگ میں اگائی ہوئی مولی، شلجم، گاجر، چقندر چاروں جڑ والی سبزیاں غذائیت کا "پاور ہاؤس" مانی جاتی ہیں۔ ان کو گھر میں لگانے کا بہترین وقت اکتوبر کا پورا مہینہ ہے لیکن نومبر کے پہلے عشرے تک اگر سردی زیادہ نہ ہو تو یہ گرو کر جاتی ہیں اور فروری مارچ تک یہ ہمارے کچن اور گھر کا حصہ بنی رہتی ہیں۔ وہ سبزیاں جن کی ہم جڑیں کھاتے ہیں وہ اینٹی آکسیڈنٹ (عمل تکسید۔۔۔ ہمارے جسم میں مالیکیولز کا وہ عمل جس میں وہ نقصان دہ ریڈیکلز سے لڑتے ہیں اور ہمارے جسم کو بڑی بیماریوں سے بچا کر صحت مند رکھتے ہیں) اور معدنیات سے بھرپور ہوتی ہیں۔

جڑ والی سبزیاں لگانے کا طریقہ:

کیاری میں۔۔۔

اگر گھر میں کوئی خالی جگہ یا پلاٹ ہے تو اس میں بھل مٹی، ریت، گوبر یا کمپوسٹ مکس کرکے دو تین بار اچھی طرح گوڈی کر لیں۔ گوڈی کرنے مٹی نرم بھربھری ہو جاتی ہے اور اس کی طاقت میں بھی اضافہ ہو جاتا ہے۔ ایک ایک فٹ کے فاصلے پر کھیلیاں، وٹیں یا پٹریاں بنا لیں اور ان کے ٹاپ پر سبزیوں کے بیج دو دو تین تین انچ کے فاصلے پر ایک انچ مٹی میں گہرا دبا دیں۔ پھر کھیلیوں میں اتنا پانی بھر دیں کہ بیج پانی میں نہ ڈوبیں۔۔۔ بلکہ بیجوں تک صرف پانی کی نمی پہنچے۔

گملے یا کریٹ میں۔۔۔

نئی غذائیت سے بھرپور مٹی گملوں یا کریٹس یا پاٹس میں بھر دیں اور ساری مٹی پانی سے تر کر دیں۔۔۔ جب پانی جذب ہو کر نیچے چلا جائے تو دو دو انچ کے فاصلے میں بیج رکھیں اور اوپر خشک مٹی کی آدھا انچ تہہ بچھا دیں۔ گملوں میں لگائی جانے والی سبزیوں کو ہمیشہ بوتل شاور سے پانی سپرے کرنا چاہیے کہ زمین خشک نہ ہو۔ جڑ والی سبزیوں کے لیے ایسے پاٹس کا انتظام کریں، جن کی گہرائی 5 سے 10 انچ تک ہو۔


دوسرا طریقہ۔۔۔ پاٹس یا گملے کے سنٹر سے مٹی اونچی کر دیں اور سائیڈوں سے مٹی گہری رہنے دیں۔ اب ٹاپ پر بیج لگا کر پانی دے دیں کہ پانی کا وتر بیجوں تک پہنچ جائے۔ اس طریقے سے بیج نیچے دبنے کا خدشہ نہییں ہوتا اور زیادہ سے زیادہ جرمینیشن ہوتی ہے۔ اگر آپ اپنے گھر میں اگائی گئی سبزیوں کو مناسب دھوپ، ہوا اور پانی بہم پہنچاتے رہیں گے تو ان شاءاللہ آپ کے گھر اور کچن میں تازہ سبزیوں کا سٹاک ختم نہیں ہوگا

طوائف

طوائف 


                            تحریر:محمد محسن

@Muhamad__Mohsin

جانتے ہو طوائف کسے کہتے ہیں؟

کتنا مزہ دیتی ہے وہ، تمھارے جسم کی آگ کو کیسے ٹھنڈا کرتی ہے، تم جو کچھ اپنی بیویوں کے ساتھ نہیں کر پاتے، وہ سب کچھ تم ایک طوائف کے ساتھ کرنا چاہتے ہوںدراصل یہ تمھارے جسم کی ہی بھوک نہیں ہے، یہ تمھارے اندر کے اس عیاش انسان کی زہنی بھوک ہے جو تم اپنی اپنی بیویوں کے ساتھ نہیں مٹا سکتے ہو،

 کیوں یہ سب تم اپنی بیویوں کے ساتھ کر سکتے تو کرو نا اپنی بیوی کیساتھ تو تم کو اجازت ہے کسنے منع کیا ہے تم کو، نہیں مگر نہیں تم ایسا نہیں کر سکتے ہو اس وقت تمھارے اندر کا ننگا انسان سو جاتا یے، تم کو تمھاری بیوی ایک شریف عورت نظر آتی ہے، پھر بھلے جو کچھ تم باہر جا کر منہ مارتے ہو، وہی سب کچھ تمھاری بیویوں کے ساتھ کوئ اور کر رہا ہوتا ہے،

ہو گا تو وہی کچھ جو تم کرو گے تم کو طوائف چاہیے ہے، بہت پیسہ ہے تمھارے پاس، تم حسین سے حسین جسم خرید سکتے ہو، تو خریدو نا کسنے منع کیا ہے مگر یاد رکھو حساب تو کبھی نا کبھی تمھاری بہن بیٹی یا بیوی نے دینا ہی ہو گا،

کبھی سوچا ہے ایک عورت طوائف کیسے بنتی ہے؟

کبھی سوچا یے ایک عورت کب اپنا جسم کسی مرد کے آگے پیش کرتی ہے

کبھی سوچنا اس وقت کے لیے کہ جب ایک عورت نے اپنے گھر سے تمھاری دہلیز تک کے سفر تک راستے میں کتنے خون کے آنسوں بہاے ہونگے

کبھی سوچنا ایک لڑکی ایک معصوم لڑکی کیسے مجبور ہو کر کبھی اپنے بہن بھائیوں کے پیٹ تو کبھی اپنی ماں باپ کی دوا کے لیے گھر سے نکلی ہو گی،

محسوس تو کرو نا چلو تھوڑی دیر کے لیے ہم سب طوائف بن جاتے ہیں،

پلیز سوچو نا زرا کیسے ہم کسی اجنبی کے سامنے اپنے کپڑے اتاریں گے، پھر دو ہوس بھری نگاہیں کیسے آپکے جسم کے زاویوں کو گھورتی ہونگی ان آنکھوں کی تپش کو محسوس کرو اور خود اپنے اندر جھانک کر دیکھو اور بتاو کہ کیسا لگتا ہے طوائف بننا بننا،

ہم بڑی آسانی سے کسی کو بھی طوائف کہہ دیتے ہیں، ارے طوائف کا مطلب بھی پتہ ہے؟ 

طوائف وہ نہیں ہے جو جسم اپنی مجبوری کے باعث کسی کو پیش کرتی ہے

 طوائف ایک سوچ کا نام ہے، 

طوائف اس ہوس کا نام ہے جو ہمیں خدا سے اور مکافات عمل سےبھی ڈرنے نہیں دیتی اس لحاظ سے تو  

ہم سب طوائف ہیں

ہم سب نا مرد ہیں

ہم سب ایک عورت کے سر سے چادر کھینچنے کو تو تیار ہو جاتے ہیں مگر اسکے سر پر چادر ڈالنے کو تیار نہیں ہوتے ہیں، عورت ہو یا مرد اس معاشرے کی بیمار سوچ طوائف بن چکی ہے، ہم سب دوسروں کو ننگا کر کے خوش ہوتے ہیں، مزہ لیتے ہیں، ہم کو مزہ چاہیے ہے، 

اسی "طوائف"سوچ نے ہی اس معاشرے میں برائیوں کو جنم دیا ہے 

یہ ایک المیہ ہے اور افسوس تو تب انتہا کو چھوتا ہے جب اس طوائف سوچ سے متاثرہ نام نہاد عزت دار خواتین بھی اپنی ہی ہم جنس کی عزت کی چادر تار تار کرنے میں پیش پیش ہوتی ہیں۔اپنے تنہائی کے گناہوں کو پس پشت ڈال کر کسی اور کی جانے انجانے کی، کی گئی غلطیوں کو چٹخارے لے لے کر بیان کرتی ہیں۔ چلتے پھرتے اشتہار بن جاتی ہیں یہ سوچے بغیر کے وقت پلٹتے دیر نہیں لگتی۔

اب آتے ہیں ان محرکات کی طرف کہ آج ایک معصوم عورت کیوں اس مکروہ دھندے کو اپناتی ہے،

کون زمہ دار ہے اسکا؟ 

پر کیپٹل آمدنی کتنی ہے اس ملک کی ، 

اخراجات کیا ہیں؟ 

 گیس بجلی روٹی پانی دوا، کیا اسکی آمدنی میں پورا کرنا ممکن ہے، جب کسی کے پیٹ کی آگ نا بجھے گی تو وہ کیا کرے گا،پھر ایک مقابلے کی فضا بھی جہاں پر ہر کوئ آگے سے آگے بھاگ رہا ہے، نہیں سوچتا کہ ہمارے کس عمل سے معاشرے پر کیا اثر پڑے گا بسسس سب اچھے سے اچھے کی تلاش میں ہیں کون دیکھتا ہے اپنے سے نیچے والوں کو 

 کیوں ایک معصوم اپنا جسم بیچنے کو تیار ہو جاتی ہے، 

کیا اسکو مزہ ملتا ہے نہیں ایسا بلکل نہیں ہے وجہ یہ ہے کہ اسکو ایسا کوئ نہیں ملتا ہے جو کہ اسکے سر پر ہاتھ رکھے، اسکو بیٹی بہن ماں سمجھے،

سوچ بدلنا ہو گی، دکھ کو سمجھنا ہو گا، سر پر ہاتھ رکھنا ہو گا، اپنے اندر کی گندگی کو نکالنا ہو گا،

یاد رکھو مکافات عمل ہے جب جب جہاں جہاں اپنی رنڈی سوچ دکھاو گے، حساب کتاب دینا ہو گا، اب وہ وقت نہیں ہے کہ جو چاہے کر دو، جو چاہے جسکو چاہے بول دو، اپنے اپنے اندر کی طوائفوں کا مار دو ورنہ کب کہاں تم خود کیسے طوائف بن جاو گے پتہ ہی نہیں چلے گا،اگر اللہ تم سب کے عیبوں کو چاک کر دے تو تم سب ایکدوسرے کو دفناو بھی نا، 

بچو اس بیمار سوچ سے ورنہ یہی طوائف سوچ تمہارے گھر کی دہلیز بھی پار کر آئے گی اور پھر تم بھی اسی مقام پر کھڑے ملو گے کہ جہاں کبھی تم نے بھی کسی غریب کی آہ لی تھی، اللہ پاک ہم سب کو عقل سمجھ کی توفیق عطا فرمائیں آمین،

سوال کرنے کی ترتیب؟


 سوال کرنے کی ترتیب 

تحریر :- محمد محسن

@Muhamad__Mohsin

سوال: سوال کرنے کی ترتیب کس طرح سے ہونی چاہیے؟

جواب: یہ ترتیب کچھ اس طرح سے ہونی چاہیے:

1- پہلے “کیا” سے شروع ہونے والا سوال کرنا چاہیے جیسے “یہ کیا ہے؟” (جواب: یہ درخت ہے)

2- پھر “کون” سے شروع ہونے والا سوال کرنا چاہیے جیسے “یہ کون سا درخت ہے؟”

3- پھر “کیسے” سے شروع ہونے والا سوال کرنا چاہیے جیسے “یہ درخت کیسے اُگتا ہے؟”

4- پھر “کب” سے شروع ہونے والا سوال کرنا چاہیے جیسے “یہ کب تک درخت بن جاتا ہے؟”

5- پھر “کہاں” سے شروع ہونے والا سوال کرنا چاہیے جیسے “یہ درخت کہاں اُگتا ہے؟”

6- پھر “کیوں” سے شروع ہونے والا سوال کرنا چاہیے جیسے “یہ درخت کیوں اُگتا ہے؟”

جس میں:

1- “کیا” دراصل کسی شے کی موجودگی پر توجہ مرکوز کرنا ہے مثلاً:

سوال: یہ کیا ہے؟

جواب: یہ درخت ہے۔

2- “کون” دراصل کسی شے کی شناخت کو جاننے کا عمل ہے مثلاً:

سوال: یہ کون سا درخت ہے؟

جواب: یہ آم کا درخت ہے۔

3- “کیسے” دراصل کسی شے کے کام کرنے کے عمل کو جاننا ہے مثلاً:

سوال: آم کا درخت کیسے اُگتا ہے؟

جواب: یہ اس طرح سے (طریقہ) اُگتا ہے۔

4- “کب” دراصل کسی شے کے کام میں لگنے والے وقت کے بارے میں جاننا ہے مثلاً:

سوال: آم کا درخت کب تک پھل دینا شروع کر دیتا ہے؟

جواب: تقریباً پانچ سال میں۔

5- “کہاں” دراصل کسی شے کے ہونے کے مقام کو جاننا ہے مثلاً:

سوال: آم کا درخت کہاں اُگتا ہے؟

جواب: زیادہ تر یہ گرم مرطوب آب و ہوا میں اُگتا ہے۔

6- “کیوں” دراصل کسی شے کے ہونے کی وجہ کو جاننا ہے مثلاً:

سوال: آم کا درخت کیوں اُگتا ہے؟

جواب: جاری زندگی کے امکانی پہلووں کی وجہ سے آم کا درخت اُگتا ہے

سوالوں کی ترتیب میں:

“کیا” کے سوالوں میں عقل کا سادہ ترین حصّہ استعمال ہوتا ہے جبکہ “کون، کیسے، کب، کہاں، کیوں” والے سوالوں میں بتدریج عقل کے پیچیدہ ترین حصّے استعمال ہونا شروع ہو جاتے ہیں جس میں “کیوں” والے سوالوں میں عقل کا انتہائی پیچیدہ ترین حصّہ استعمال ہوتا ہے۔

خلاصہ: پس عقل کو استعمال کرنے کا درست طریقہ یہی ہے کہ آپ عقل کے سادہ ترین حصّے سے بتدریج پیچیدہ ترین حصّوں کو استعمال کرنا سیکھیں تاکہ آپ کم سے کم مشکلات کے ساتھ سوال کرنے جیسے ضروری عمل میں سے گزرتے رہیں۔


کسان اور آڑھتی (Middle Man) چند تلخ حقائق

 کسان اور آڑھتی (Middle Man) چند تلخ حقائق

تحریر :- محمد محسن 


@Muhamad__Mohsin

آڑھتی در اصل کمشن ایجنٹ ہوتے ہیں اور وہ کسان اور کسان کی فصلوں کے خریداروں کے درمیان رابطے کا کام کرتے ہیں اور اسی کو عرف عام میں Middle Man بھی بولتے ہیں۔ یہ مختلف بھیس بدل کر وقتاً فوقتا سال بھر کسان کے سامنے رونما ہوتا رہتا ہے۔ کبھی یہ ٹھیکیدار کے روپ میں، کبھی کمشن ایجنٹ کے بھیس میں اور کبھی کسان کی مالی معاونت کے جذبے سے سرشار، نمودار ہوتا ہے۔ اور اسکا ہر روپ ہی نرالا اور بظاہر کسان دوست ہوتا ہے۔ کسان اسے اپنی ہر مجبوری میں استعمال کرتا ہے اور یہ اپنی ہر خدمت کے عوض خوب فائدہ اٹھاتا ہے اور کسان آہستہ آہستہ اسکے بچھائے جال میں پھنستا جاتا ہے ۔


آڑھتی منڈی میں فصل کی نیلامی اور خریداروں کو ڈلیوری کا بندوبست کرتے ہیں۔ اس کے عوض مالک اور خریدار دونوں سے کمشن وصول کرتا ہے۔ یہ کسانوں کو قرض دینے کا کام بھی کرتا ہے۔ ان تمام چیزوں کا مطلب ہے کہ کسانوں پر ان کا بہت زیادہ کنٹرول ہے۔ Middle Man ( آڑھتی ) سیاسی طور پر بھی طاقتور ہیں۔ ریاستی قانون ساز اداروں کے ممبران کے ساتھ تعلق استوار کرتے ہیں اور ضرورت کے وقت ان پر Invest بھی کرتے ہیں۔ اور بدلے میں وہ قانون ساز اسمبلی میں ان کے مفادات کا تحفظ کرتے ہیں۔


 کسانوں اور زراعت سے وابستہ زرعی مزدوروں کے درمیان قرض کی صورتحال کا مطالعہ کریں تو اس میں کوئی شک وشبہ نہیں کہ یہ سب کچھ کسانوں کی اپنی عادتوں کے سبب ہوتا ہےاور یہی چیز انھیں پریشانی میں ڈالتی ہے،‘‘

آڑھتی برملا کہتے ہیں۔ ’’ہم کسانوں کو (کھاد ، بیج وغیرہ) خریدنے کسانوں کی مدد کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ، جب ان کے یہاں شادی بیاہ، علاج اور دیگر خرچ ہوتے ہیں تب بھی ہم انھیں پیسے دیتے ہیں۔ جب کسان کی فصل تیار ہو جاتی ہے، تو وہ اسے لاتا ہے اور آڑھتی کو دے دیتا ہے۔ ہم فصل کو صاف کرتے ہیں، اسے بوریوں میں بھرتے ہیں۔ سرکار، بینکوں، اور بازار سے نمٹتے ہیں۔

ایک دوسری شکل میں آڑھتی اپنے Sub Agent رکھ لیتا ہے جسکو وہ Finance کرتا ہے اور وہ سب ایجنٹ کسان سے ڈیل کرتا ہے اور ایک مخصوص ایگریمنٹ کے تحت کسان کو کچھ ایڈوانس دے کر اسکی فصل اٹھا لیتا ہے اور اسے آڑھتی کے پاس بیچ دیتا ہے اور یوں کسان کو ادائیگی کر دیتا ہے۔ اور آڑھتی بھی اپنا اصل زر+ کمیشن Deduct کرکے منافع ایجنٹ کو دے دیتا ہے لیکن Sub agent کے ساتھ نقصان میں شریک نہیں ہوتا۔ یونہی یہ سلسلہ سال بہ سال چلتا رہتا ہے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ Middle Man جسے حیثیت میں بھی سامنے آتا ہے اپنے آپ کو secure رکھتا ہے نقصان کا شریک نہیں ہوتا جوکہ صریحا" غیراسلامی ہے۔

درج بالا تحریر یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ آخر وہ کیا عوامل ہیں جو کسان کو اپنا استحصال Middle Man (اڑھتی) سے کروانے پر مجبور کرتی ہے۔

 اگر فریق اول یعنی کسان کا جائزہ لیا جائے تو نقشہ کچھ یوں نظر آتا ہے 

کسان سال میں ربیع اور خریف دو دفعہ فصل تیار کر کے بیچتا ہے اور اپنی محنت کی کمائی حاصل کرتا ہے۔

اللہ نہ کرے اگر اسکی فصل کسی ناگہانی آفت کا شکار ہو جاے تو منافع تو درکنار اسکی ساری پونجی ہی ڈوب جاتی ہے اور وہ پھر سے زیرو سے سٹارٹ لیتا ہے۔

جب فصل تیاری کے قریب ہوتی ہے تو agent یا sub agent اس کے پاس آنا شروع ہو جاتے ہیں اور اسے طرح طرح کے سبز باغ دکھاتے ہیں اور ساتھ ہی اسے منڈی کے اتار چڑھاو اور ممکنہ نقصانات سے ڈراتے بھی ہیں اور قائل کرتے ہیں کہ یہ آپ کے بس کا روگ نہیں آپ یہ ہمیں بیچ دیں۔ کسان اسے اپنی بہترین حکمت عملی سمجھتے ہوئے اپنی تیارفصل اس کے حوالے کر دیتا ہے۔ یوں سمجھیے کہ اس دن کسان نے اپنی محنت کا 50% اس Middle Man کو دے دیا۔

حاصل شدہ آمدن کا بڑا حصہ قرض خواہ لے جاتے ہیں اور بقیہ جاری اخراجات میں صرف ہو جاتے ہیں یوں کسان کا بجٹ پھر Deficit میں چلا جاتا ہے۔

اپنے اس Deficit کو پورا کرنے، نئی فصل کی تیاری اور کاشت کے لئے وہ پھر سے آڑھتی یا بنک کا دروازہ کھڑکھڑاتا ہے اور یوں ایک دفعہ پھر گرداب میں چکر کاٹنا شروع ہوجاتا ہے۔

موجودہ دور میں زراعت کوئی منافع بخش کاروبار نہیں ہے۔ چونکہ ہم ایک زرعی ملک ہیں اور ہماری بیشتر آبادی جوکہ ناخواندہ ہے، زراعت سے منسلک ہے اور اپنی دو وقت کی روٹی بمشکل کما پاتے ہیں۔ اگر ان کر پاس زراعت بھی نہ ہو ملک میں بیروزگاری کا طوفان آجائے۔

سرکاری اور نجی محکموں کی طرح کسان کو یہ سہولت حاصل نہیں ہی کہ وہ اپنا اور اپنے بال بچوں کا علاج ہی مفت کروا سکے اسے یہ سب اپنی جمع پونجی یا قرض لیکر کرنا پڑتا ہے۔

شادی بیاہ ایک دینی فریضہ ہے لیکن فضول رسم و رواج جو کہ ہم نے بلاوجہ جھوٹی انا کی خاطر مسلط کر رکھے ہیں خوشحالی کی راہ میں حائل بڑا پتھر ہیں۔

زمین کی تقسیم در تقسیم اور آبادی کا بڑھتا ہوا دباؤ کسان کی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

ہمارا کسان مسائل کا شکار ہے اور ان مسائل کو حل کیے بغیر خوشحالی کا دوردورہ نہیں ہوسکتا، ملک کی آبادی کا بڑا حصہ زراعت کے پیشے سے وابستہ ہے جسے ماضی کی حکومتیں مسلسل نظر انداز کرتی رہی ہیں۔ چھوٹے کسانوں کو فصل کاشت کرنے سے پہلے بیج، کھاد اور پانی کا انتظام کرنا ہوتا ہے اور عموماً اس ضمن میں اسے قرضے لینے پڑتے ہیں۔ وہ اگر فصلیں کاشت بھی کرلیتا ہے تو قرضوں کے چکر سے نہیں نکل پاتا۔ اس کی محنت کوئی اور لے جاتا ہے پھر جو کچھ وہ قرض لیتا ہے وہ بھی اسے زائد قیمت پر ملتا ہے سب سے زیادہ مسائل کا شکار چھوٹا کسان ہے اگر وہ فصل کاشت کرنے کا انتظام بھی کرلیتا ہے تو یاد رہے کہ آج کل فی ایکڑ پیداواری اخراجات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جس سے اس کی خون پسینے کی کمائی اسے نصیب نہیں ہوتی اگر پیداوار اچھی ہوجائے تو وہ سرکاری اہلکاروں کے ظلم و ستم اور آڑھتی کی لوٹ مارکا شکار ہوجاتا ہے یعنی ایک جانب سے سستی بجلی، کھاد، مفت بیج، پانی، زرعی ادویات و آلات نہیں ملتے دوسری جانب سودی قرضے، سرکاری اہلکار اور آڑھتی مل کر اس کی محنت کی کمائی لوٹ لیتے ہیں۔

آخر اسکا حل کیا ہے؟

ڈسپلن کے نام پہ بچوں کا دماغی قتل

 ڈسپلن کے نام پہ بچوں کا دماغی قتل! 


تحریر :-محمد محسن

@Muhamad__Mohsin

ہم تو اپنے بچوں کو ڈسپلن سکھا رہے ہیں۔ ایک ادھ مہینے میں لگا بھی دی تو اتنا اثر نہیں پڑتا۔ روز تھوڑی مارتے ہیں۔

ہمیں بھی تو مارا گیا تھا مگر ہم تو اتنے "ادب والے" اور"'نیک" انسان ہیں۔ ہماری تربیت میں کیا کمی نظر آتی ہے آپکو؟

ہمارے معاشرے میں ٩٠% والدین ڈسپلن کے نام پہ ایک آدھ لگا دینے کو جائز سمجھتے ہیں۔ بلکے خوشی سے بتاتے ہیں کہ ایک آدھی لگاؤ خود ہی ٹھیک ہو جاۓ گا! 

ہارورڈ میڈیکل اسکول کی ایک ریسرچ کے مطابق ایسے بچے جن کو سال میں 12 دفعہ ایک ادھ لگا دی گئ "ڈسپلن" کے نام پر ان میں %14-19 کم گرے میٹر(GREY MATTER) پایا جاتا ہے۔ صرف یہی نہیں متعدد ریسیرچز یہ ثابت کر چکی ہیں کہ ڈسپلن کے نام پہ ایک ادھ لگائ گئ دماغی نشودنوما پہ بھی برا اثر ڈالتی ہے۔

گرے میٹر ہے کیا؟

گرے میٹر دماغ کے مرکزی اعصابی نظام کا ایک لازمی حصہ ہے اور ذہانت قابلیت اور سیکھنے کی صلاحیتوں کو متاثر کرتا ہے۔ اس میں دماغ کے وہ حصے بھی شامل ہیں جو حسی ادراک، تقریر، عضلاتی کنٹرول، جذبات اور یادداشت میں شامل ہیں۔

مطلب آپ نے بچے کی سب سے اہم چیز کو نقصان پہنچایا ہے۔ آپ نے اس کی فیصلہ کرنے کی صلاحیت کم کر دی ہے۔ 

آپ نے اسکی قابلیت کو بھی نقصان پہنچایا ہے صرف اور صرف "ڈسپلن" کے نام پر! 

ایک منٹ ذرا اور جائزہ لے لیں!

آپکا بچہ غلط کام کر رہا تھا۔ آپ نے دیکھا اور دیکھتے ہی چیخنا شروع کر دیا اور ساتھ ہی اسے سکھانے کے لئے ایک ادھ لگا دی۔

مجھے ایک بات بتائیں!

اگر یہ سب آپ کے ساتھ ہو تو کیا آپ سیکھ جائیں گ نہ کے ایسے کام غلط ہوتے ہیں۔ اگلی دفعہ ایسے نہیں ایسے کرنا ہے کیوں کے آپکے سب سے پیارے لوگ آپ پہ چیختے ہیں اور غصہ کرتے ہیں۔ اور آپکو ڈرانے کے لئے مار بھی دیتے ہیں ۔

سچ بتائیں! 

نہیں کبھی بھی نہیں آپ بس خوف سے کرنے چھوڑ دیں گے۔’ سیکھیں گے کچھ نہیں۔ پھر آپ کون سی حکمت عملی کے تحت اپنے بچوں کو اس طریقے سے سیکھا رہے ہیں۔


1574 ریسیرچز ہو چکی ہیں جو کہ یہ ثابت کرتی ہیں کے ایک ادھ تھپڑ لگا کے کبھی بھی اپ بچے کو کچھ نہیں سیکھا سکتے۔


 بلکہ آپ ان میں


1- جارحیت 


2- ڈپریشن


3- خودکشی اور منفی سوچ 


4- کم کانفیڈنس


5- کم ای-کیو 


6- کم ذہانت 


کا سبب بنتے ہیں


بچوں کو ایک ادھ لگانے سے پہلے سوچ لیا کریں۔


کیا آپ کے "ڈسپلن" کے لئے کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے آپ کے پاس!

قائد اعظم سے ڈاکٹر عبد القدیر خان تک کی داستان

 "قائد اعظم سے ڈاکٹر عبد القدیر خان تک کی داستان"


تحریر:- محمد محسن

@Muhamad_Mohsin

ہم کون لوگ ہیں؟ کیا ہم ایک قوم ہیں؟ ہم اپنے سفر میں کہاں پہنچے؟ اس منزل کی جانب رواں دواں ہیں یا اس کی مخالف سمت میں جا رہے ہیں؟ وہ منزل جو انیسویں صدی میں ہمارے آباؤ اجداد نے شروع کی تھی؟ ہم کامیابی کی جانب مائل ہیں یا ناکامی کا پیچھا کرتے کرتے آج یہاں تلک آپہنچے؟ اس ناکامی کی وجوہات کیا ہیں؟ کیوں آج بھی ہم اس ٹریک پر گامزن نہیں ہو سکے جس پر ہمیں آج ہونا چاہیے تھا؟ ان کچھ الجھنوں کو سلجھانے کی آج تھوڑی بہت کوشش کرتے ہیں۔ 


ہماری ناکامی کی آج سب سے بڑی وجہ وہی ہے جو ازلوں سے اس خطہ میں چلتی آ رہی ہے یعنی ناہل جانشینی اور اہل لوگوں کی ہزیمت۔ آج بھی ہمارے ملک میں وہی قانون رائج ہے جو مغلوں کے دور میں تھا۔ جو بادشاہ کو حقیقت سے آشنا کرتا تھا اور اسکو اس کی کمزوریوں سے آگاہ کرتا تھا اسے یا تو قتل کروا دیا جاتا تھا یا پھر کھڈے لائن لگا دیا جاتا تھا۔ جبکہ دوسری جانب وہ چاپلوسی ٹولہ جو ہمیشہ بادشاہ کو خوش کرنے کے لیے ہر حربہ آزماتا تھا اور چاپلوسی کا کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دیتا تھا اسے اعلیٰ عہدوں سے نوازا جاتا تھا اور ساتھ ساتھ جاگیروں سے بھی تواضح کی جاتی تھی۔ 


یہی کچھ پاکستان کے بننے سے لیکر آج تک پاکستان میں ہوتا آیا ہے۔ تحریک پاکستان میں تو بہت سارے مخلص لوگ بانیان پاکستان میں موجود تھے جو اس ریت روایت کو توڑنا چاہتے تھے اور ایک میرٹ والا نظام قائم کرنا چاہتے تھے لیکن افسوس کہ ان کا یہ خواب شرمندہ تعبیر نہ ہو سکا اور جوں جوں یہ مخلص اور من کے سچے لوگ اس دنیا سے کنارہ کش ہوتے گئے ان کا یہ مشن بھی کھٹائی میں پڑتا گیا یہاں تک کہ وہی ہوا کہ اقتدار دنیاوی حوس کے ماروں کے ہاتھ منتقل ہوتا چلا گیا اور مخلص اور اہل لوگوں کی قسمت میں دھکے اور طرح طرح کے نعرے آئے۔ 


آپ دور نہ جائیں بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی مثال ہی لے لیں۔ ایک عظیم انسان جس نے اپنی محنت کے بل بوتے پر اپنا نام کمایا۔ جو تعلیم حاصل کرنے کے لیے کراچی سے چلا اور ولایت جا پہنچا۔ جس نے گوروں کے ہاں رہ کر گوروں کو قریب سے سٹڈی کیا۔ جو چاہتا تو ولایت میں رہتے ہوئے ایک اعلیٰ طرز کی زندگی گزار سکتا تھا۔ جو ڈھیروں مال و دولت اکٹھا کر سکتا تھا۔ لیکن اس نے ولایت کو ایک غیر ملک ہی جانا اور اپنے وطن کی اہمیت کو جانتے ہوئے واپس برصغیر لوٹا۔ وہ اگر چاہتا تو یہاں برصغیر میں بھی ایک شاہانہ زندگی گزار سکتا تھا اور آنے والی سات نسلوں کے لیے اتنا اکٹھا کر سکتا تھا کہ سکون سے بیٹھ کر بغیر کچھ کرے اپنی زندگیاں انجوائے کر سکتے تھے۔ لیکن وہ مخلص تھا وہ عظیم تھا وہ بے مثال تھا اس نے اپنا تن من دھن سب کچھ ملک پاکستان کی خاطر قربان کر دیا اور آخر کار اس خطہ کے مسلمانوں کے لیے پاکستان کی شکل میں اپنی کامیابی کا ایک بے مثال نمونہ پیش کر گیا۔ 


قائد اعظم نے تو اس ملک کی خاطر اپنا سب کچھ قربان کر دیا لیکن بدلے میں ہم نے اسے کیا دیا؟ طعنے، تنقید اور پتہ نہیں کیا کیا؟ اسے کافر آعظم کہا گیا۔ اسے پارسی اور سیکولر ہونے کے طعنے دئیے گئے۔ وہ جو اس ملک کا حکمران تھا وہ چاہتا تو روپیہ، دولت، اور جائیدادیں اکٹھی کر سکتا تھا لیکن اس نے ان سب کی نفی کرتے ہوئے اپنی بیماری تک کو ظاہر نہ کیا۔ وہ چاہتا تو ولایت سے اپنا علاج کروا سکتا تھا لیکن اس نے ملک میں رہتے ہوئے شان سے اس دنیا سے رخصت ہونے پر فوقیت دی۔ بدلے میں ہماری طرف سے اسے کیا دیا گیا کہ جس گاڑی میں اس لاغر جسم کو لایا جارہا تھا وہ کھٹارہ جس کا فیول راستے میں ختم ہو گیا۔ وہ عظیم انسان جو سب کچھ ہونے کے باوجود اک غریب کی طرح اس ملک سے کوچ کر گیا۔ وہ جس کی بہن ان کی وفات کے بعد ہمارے ملک کا ایک اثاثہ تھیں۔ وہ جسے مادر ملت کا خطاب دیا گیا۔ اسے اس ملک میں تگ و دو کےدوران اپنے عظیم بھائی کی خدمت کے بدلے میں کیا دیا ہم نے؟ 1964 کے الیکشن کے دوران ان کے ساتھ یہاں کے چاپلوسی جاگیرداروں نے کیا کیا سلوک روا نہیں رکھا؟ ان کے انتخابی نشان کو کس جانور کے گلے میں لٹکایا گیا اور ان کو لٹکانے والے کون لوگ تھے؟ اگر اس معاملے میں دیکھیں تو مشرقی پاکستان والے مغربی پاکستانیوں سے بہت وفادار نکلے جنہوں نے ایک ڈکٹیٹر کے سامنے کلمہ حق بلند کیا اور مادر ملت کا ساتھ دیا۔


وہ بھی بانیان پاکستان کی طرح اس ملک کے لیے اپنی تن من دھن کی بازی لگانا چاہتا تھا۔ وہ چاہتا تو ایورپ میں ایک اعلیٰ طرز زندگی کو اپنا کر زندگی بھرپور طریقے سے انجوائے کر سکتا تھا۔ وہ بھی چاہتا تو دنیا کی اعلیٰ ترین یونیورسٹیوں میں ایک ایک لیکچر کے ہزاروں، لاکھوں ڈالرز کما سکتا تھا۔ لیکن اس نے بھی اس ملک کی خاطر اپنا سب کچھ قربان کرتے ہوئے اپنی مزے کی ایورپی زندگی سے قطع تعلق کرتے ہوئے واپس پاکستان کا راستہ لیا۔ نام تھا اسکا ڈاکٹر عبد القدیر خان۔ وہ بھی کراچی سے تعلق رکھتا تھا۔ وہ بھی اعلیٰ تعلیم کے لیے ایورپ گیا۔ پہلے جرمنی کی یونیورسٹیوں میں پڑھتا رہا اور پھر ہالینڈ پہنچا۔ تب وہ ایورپ میں ہی تھا کہ 1974 میں انڈیا نے ایٹمی دھماکے کرتے ہوئے پاکستان کو سیکیورٹی کے مسائل میں الجھا دیا اور یہ باور کروایا کہ اب اس خطے میں انڈیا کی طاقت کوئی زیر نہیں کر سکتا۔ اس نے میٹرلوجی کی فیلڈ میں تعلیم حاصل کی اور اب اسکا ضمیر اسے کوس رہا تھا کہ یہی وقت ہے اپنے ملک و قوم کے لیے اپنی قابلیت کو بروئے کار لانے کا۔ لہزا اس نے بذات خود اپنے آپ کو اس مشن کے لیے حکومت پاکستان کے سامنے پیش کیا۔ بھٹو سے ملاقات کرنے کے بعد باقاعدہ اس مشن کا حصہ بنا۔ اس سارے مشن کے دوران بھی اسے کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا لیکن اس نے ہمت نہ ہاری اور اس غریب سے ملک کو ان ممالک کی فہرست میں لاکھڑا کیا جس میں صرف اور صرف دنیا کی چوٹی کی چند معیشتیں شامل ہیں۔ یہ مشن شروع ہوا ستر کی دہائی میں اور اسی کی دہائی میں مکمل ہوگیا تھا لیکن پاکستان ایک ایسے موقع کی تلاش میں تھا کہ اپنی اس طاقت کو ظاہر کر سکے۔


لہذا مئی 1998 کا وہ دن آیا جب ایک بار پھر بھارت نے جوش میں ایٹمی دھماکے کیے تو بدلے میں اسی عظیم انسان کی قابلیت کی بدولت پاکستان نے بھارت کا منہ توڑ جواب دینے کے لیے ایک دھماکہ زیادہ کیا جس کے ساتھ ہی بھارت کی بولتی بند ہوگئی۔ بانیان پاکستان کے بعد ڈاکٹر عبد القدیر خان ہی ایک ایسی ہستی ہیں جن کو پاکستانیوں نے دل و جان سے اتنی محبت دی ہو۔ اسے "محسن پاکستان" کے خطاب سے نوازا گیا۔ یہ اسی عظیم انسان کی محنت کا نتیجہ ہے کہ آج اپنے سے کئی گنا بڑے دشمن ملک بھارت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ہم بات کر سکتے ہیں۔


لیکن اس انسان کو بدلے میں ہم نے کیا دیا؟ ہم دے بھی کیا سکتے صرف اور صرف طعنے اور ہزیمت۔ وہ انسان جو نہ صرف پاکستان بلکہ پوری مسلم امہ کا سر فخر سے بلند کر گیا بدلہ میں ہماری طرف سے اس پہ الزامات کی بوچھاڑ کی گئی۔ اس سے دنیا کے سامنے معافی منگوائی گئی۔ اسے زلیل وخوار کیا گیا۔ جاوید چوہدری کے مطابق اسے چوہدری شجاعت کے کہنے پر معافی منگوانے پر مجبور کیا گیا۔ مظہر عباس کے مطابق اسے سیمینار ہال میں پہلی قطار سے یہ کہہ کر اٹھا دیا گیا کہ یہ قطار صرف کابینہ ممبرز کے لیے مخصوص ہے۔ اس سے بڑھ کر اس انسان کے لیے اور کیا ہزیمت ہو سکتی ہے کہ ایک ان پڑھ اور جاہل کو ایک مایہ ناز سائنسدان پر فوقیت دی جا رہی ہو۔ اسے زندگی کے ان سالوں میں گھر کی چاردیواری میں محصور کر دیا گیا جب پوتے اور نواسے اور بچے اپنے بزرگوں کا دل بہلاتے ہیں۔ افسوس کہ وہ انسان جس نے پاکستان کو ایٹمی طاقت بنایا اس کے جنازے میں نہ وزیر اعظم نے شرکت کی، نہ صدر نے، نہ اپوزیشن لیڈر اور نہ ہی اس ایٹمی طاقت کے سربراہ جنرل باجوہ نے۔ اگر آپ ان کے جنازے میں شرکت نہیں کر سکتے تو بند کرو یہ سوگ کی نوٹنکی۔


کیا آج آپ قائد اعظم کے کسی رشتہ دار کو پاکستان میں جانتے ہو؟ کیا ان کی کوئی جائیدادیں ہیں؟ کیا ڈاکٹر عبد القدیر خان بھی ان روایتی فصلی بٹیروں کی طرح مار دھاڑ کر کے اپنی نسل کے لیے سرے محل، ایون فیلڈ اور محل بنا کر گئے؟ افسوس کہ جنہوں نے اپنا سب کچھ اس وطن عزیز کے لیے قربان کیا ان کو ہم نے زلیل و رسوا کرنے کی کوئی کسر نہ چھوڑی۔ وہی جو چاپلوسی کے ذریعے اپنی دکان چمکایا کرتے تھے وہ آج بھی اپنی دکانیں خوب چمکا رہے ہیں اور اس سارے پس منظر میں آپ خود حساب لگا لیں کہ ہم آج تک اپنی منزل کو کیوں نہیں پہنچ پائے۔ اس سے بڑھ کر اس قوم کے لیے اور کیا المیہ ہو سکتا ہے کہ محسن پاکستان بذات خود یہ کہے کہ اس کی زندگی کا سب سے بڑا پچھتاوا اس قوم کے لیے کام کرنا ہے۔


افسوس کوئی تو ہوتا

 افسوس کوئی تو ہوتا۔۔۔۔”

تحریر:- محمد محسن

@Muhamad__Mohsin

وہ جی ان شاہی خاندانوں کے ریت روایت کو ترک کر کے ایک عوام الناس کی حکومت قائم کی جائے گی۔۔۔۔۔ ہو گئی قائم؟ جی معاشی استحکام قائم کیا جائے گا۔۔۔۔ آگیا معاشی استحکام؟ چوروں لٹیروں اور ڈاکوؤں کو پکڑ کر پانبد سلاسل کیا جائے گا۔۔۔۔۔ جی ہو گئے جیل میں قید؟ کرپشن اور چور بازاری کا گلا گھونٹا جائے گا۔۔۔ہوگیا کرپشن کا خاتمہ؟ وہ جی آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے پاس کبھی نہیں جائیں گے۔۔۔ہو گیا یہ سب بھی؟ ملک میں غریب نہیں رہیں گے۔۔۔ہو گیا غربت کا خاتمہ؟ اداروں میں استحکام پیدا ہو گا۔۔۔۔ہو گیا استحکام؟ ملکی تاریخ کی سب سے چھوٹی کابینہ بنائی جائے۔۔۔جی بن گئی چھوٹی کابینہ؟ 

کرپٹ وزراء اور سیاستدان کی اس دور میں کوئی گنجائش نہیں ہوگی۔۔۔۔جی ان کی سیاست کا ہو گیا خاتمہ؟ ملکی اثاثہ جات جو ودیشی بینکوں میں پڑے ہیں واپس لائے جائیں گے۔۔۔آ گئے واپس؟ ملکی قرضہ چٹکیوں میں اتارا جائے گا۔۔۔جی اتر گیا قرضہ؟ اہل لوگوں کو نوکریاں دی جائیں گی۔۔۔جی مل گئی اہل لوگوں کو نوکریاں؟ لاکھوں نوکریاں، کروڑوں گھر دئیے جائیں گے۔۔۔جی مل گئے گھر اور نوکریاں؟ میرٹ پر انصاف قائم کیا جائے گا۔۔۔۔جی ہو گیا قائم انصاف؟ خود پارلیمنٹ میں جایا کروں گا اور اپنے آپ کو عوامی نمائندوں کے سامنے پیش کروں گا۔۔۔۔جی ہو گیا؟ باہر کے ممالک سے لوگ یہاں آکر نوکریاں کریں۔۔۔۔ جی آگئے پاکستان واپس؟ مل گئی نوکریاں؟ تمام توشہ خانہ کیسز میں ملنے والے تحائف ملکی اثاثہ جات ہیں۔۔۔۔ جی یہ سب اثاثہ جات مل گئے پاکستان کو؟ پنجاب کے سب سے بڑے ڈاکوؤں کو جیل میں ڈالوں گا..جی ڈال دیا جیل میں؟ ایم کیو ایم بھتہ خوروں کے ساتھ کبھی نہیں بیٹھوں گا جی ہو گیا آپ کا سب؟…….. اور ایسے کئی سوالات جو مجھ جیسے کے ذہن میں بار بار آتے ہیں اور کوستے رہتے ہیں کہ آخر ہم کیا کریں؟ کہاں جائیں؟ کدھر جائیں؟ کس پر بھروسہ کریں؟ کوئی تو ہو جو اس عوام کا ہو، جو ان پاکستانیوں کا بھی سہارا بنے، جو ان کے لیے درد دل رکھتا ہو، جو عام پاکستانی کی زندگی کا کرب دیکھتا سنتا اور جانتا ہو؟ کوئی تو ہو جو ان پسے ہوئے لوگوں کے دکھوں کا مداوا کر سکے، جو ان کو انگلی پکڑ کر ترقی کے ٹریک پر رواں دواں کرے۔ کوئی تو ہو جو اپنا سب صرف اور صرف اس وطن عزیز کی بہتری پر قربان کر سکے۔ جو اپنا آج وطن عزیز کے کل کے لیے قربان کر سکے؟ افسوس کوئی تو ہو۔۔۔۔کوئی تو ہو۔۔۔۔

2011 سے پاکستانیوں کے ذہنوں پر ایک ایسا جنون سوار ہوا کہ اب وہ آگیا جس کا اس ملک کو پچھلے ستر سالوں سے انتظار تھا۔ وہ ہیرو ان کو عمران خان کی شکل میں مل گیا۔ اب دیکھنا یہاں دودھ کی نہریں بہیں گی۔ اب انصاف کا بھول بھالا ہو گا۔ اب لوگ اپنی زندگیاں اپنی مرضی سے جی سکیں گے۔ اب کوئی چور اچکا بدمعاش کسی بھولے بھالے انسان کو تنگ نہیں کرے گا۔ اب ہمارا ملک غیر ملکی قرضوں سے کے چنگل سے نکل جائے گا۔ اب کو شہزادہ یا شہزادی آپ پر حکومت نہیں کرے گا بلکہ اب آپ کے منتخب نمائندوں ہی اسمبلیوں میں جائیں اور عوام کے فیصلے عوام کی امنگوں کے مطابق ہوا کریں گے۔ اب آپ کو انصاف کے لیے تھانے کچہریوں میں دھکے نہیں کھانے پڑیں گے بلکہ اب عوام کو عزت و احترام کے ساتھ تھانوں اور کورٹ کچہری میں بٹھایا جائے گا اور میرٹ پر فیصلے ہوں گے۔ پاکستانیوں کی تمام تر خواہشات نیو کانسٹیٹیوشن والے استاد منگو والی تھیں جو سوچتا تھا کہ نئے آئین کے ساتھ ہی سب کچھ بدل جائے گا لیکن افسوس ایسا کچھ نہیں ہوا کیونکہ اگلے دن وہ وہی تانگے والا ہی رہا اور گوروں کا راج بھی جوں کا توں رہا۔

اس دور کا بھی پہلا سحر تو تب ٹوٹا جب عام لوگوں کی بجائے ٹکٹوں کی بندر بانٹ ہوئی اور ہمیشہ کی طرح یہ بندر بانٹ انہی روایتی ایلیکٹیبلز کے ہاتھوں میں ہی آئ جو پہلے ہوا کرتی تھی۔ پہلے پہل تو جب کراچی سے منتخب ایک اسمبلی ممبر نے استاد کے ساتھ بدتمیزی کا معافی مانگ کر خمیازہ بھگتا تو سچی میں لگا کہ اب پاکستان بدل جائے گا۔ اب پاکستان کی روایتی سیاسی نورا کشتی تبدیل ہو جائے گی، اب واقعی تبدیلی آئے گی لیکن افسوس کہ یہ خواب خواب ہی رہا جو ہنوز شرمندہ تعبیر نہ ہو سکا۔ وہی پنجاب کے سب سے بڑے ڈاکوؤں کو ساتھ بٹھایا گیا۔ انہی بھتہ خوروں کی جماعت سے قانونی وزیر بنایا گیا۔ ملکی تاریخ کی سب سے بڑی کابینہ بنائی گئی۔ پنجاب کے سب سے اہم اور بڑے صوبے کی باگ ڈور ایک ایسے انسان کے حوالے کی گئی جس کو آج تک نہ عوام نے تسلیم کیا اور نہ کابینہ نے۔

میرٹ کی دھجیاں بکھیری گئیں۔ جہاں جہاں ہو سکا اپنے اپنے عزیزوں کو ایڈجسٹ کیا گیا۔ ایک خاتون وفاقی وزیر کی بہن کو ایک اہم ادارے کی تب سربراہ بنایا گیا جب ابھی اس کی پی ایچ ڈی مکمل نہیں تھی جس کو بیس بنا کر اس سیٹ کی بندر بانٹ کی گئی۔ ایک ودیشی پاکستانی کو سب سے قریب رکھا گیا اور پاکستان کے کلیدی معاملات اس کے سپرد کیے گئے جو پاکستان سے زیادہ دوسرے ممالک میں رہا۔ کرپشن پہلے بھی ہوتی تھی لیکن اب کی بار تو اس کے روک تھام کے نام پر کرپشن کا وہ بازار گرم ہوا کہ رہے رب کا نام۔ آج تک اس بات سے دل کو تسلی دیتے آئے چلو وزراء کو چھوڑیں خود تو ایماندار ہے لیکن جب سے توشہ خانہ کیسز کے متعلق نیا اعلان سنا تو یہ معاملہ بھی جاتا رہا کہ اب اور کیا؟ ٹھیک ہے پاکستانی معیشت آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے بغیر نہیں چل سکتی مجبوری ہے ان سے ڈیل کرنا لیکن توشہ خانہ کیس میں کیا مجبوری؟ ایسا کون سا ملکی راز جو اس سے فاش ہو گیا؟

ایاز میر بجا فرماتے ہیں کہ اس سے پہلے ان کی جینریشن بھٹو کے سحر میں مبتلا ہوئی تھی اسی طرح ہماری نسل خان کے سحر سے ڈسی گئی۔ تب انہیں بھٹو کے سوا کچھ نظر نہیں آتا تھا تو اس پچھلے عشرے میں وہی حال ہماری جینریشن کا ہوا۔ کچھ عرصہ کے بعد جیسے ایاز میر کی نسل کے سر سے بھٹو کا سحر اترا اسی طرح اب ہماری نسل کے دماغوں سے کافی حد تک یہ عہد بھی تمام ہوتا نظر آرہا ہے۔ دوسری جانب خورشید ندیم کے مطابق یہ ایسا چورن ہے جو ہر بیس سال بعد بیچا جاتا اور نئی نسل کو پتہ نہیں ہوتا کہ یہ چورن پہلے بھی بیچا جا چکا ہے لیکن وقت گزرنے کے ساتھ وہ سب جان چکے ہوتے ہیں لیکن تب تک وقت گزر چکا ہوتا ہے۔

افسوس اس کا نہیں کہ یہ سب بلند و بانگ دعوے صرف اور صرف دعوے ہی تھے۔ افسوس اس بات کا نہیں کہ پاکستان پھر آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے پاس چلا گیا۔ افسوس اس بات کا بھی نہیں کہ مہنگائی آسمان کو چھو رہی۔۔۔۔افسوس صرف اور صرف اس بات کا ہے کہ آئندہ پھر سے عوام پر وہی شہزادے اور شہزادیاں مسلط ہونے جارہے ہیں جو ہمیشہ سے ہوتے آئے ہیں اور عوام اب کی بار پھر ایک نئے چورن کا شکار ہونے جانے جا رہے۔۔۔۔افسوس کوئی تو ہوتا جو پاکستانی عوام کے زخموں پر مرہم رکھ سکتا۔۔۔۔افسوس کوئی تو ہوتا۔۔۔۔۔


معاشی غلامی ۔۔۔اخر کب تک؟

 "معاشی غلامی۔۔۔۔آخر کب تک؟"

تحریر:- محمد محسن

@Muhamad__Mohsin

کسی بھی ملک کے عوام الناس کو ایک قوم بننے کے لیے

 زیادہ سے زیادہ پچاس سال کا عرصہ درکار ہوتا ہے۔ پچاس سال کا مطلب یہ نہیں کہ وہ ان پچاس سالوں میں عروج کی بلندیوں کو چھونے لگتے ہیں بلکہ ان پچاس سالوں میں ان کو کوئی نہ کوئی ایسا کرشماتی لیڈر ضرور میسر آ جاتا ہے جو ان مختلف قبائل میں بٹے عوام کو ایک قومی دھارے میں ڈھال دیتا ہے۔ آپ چین کو لے لیں، سنگاپور کو دیکھ یا پھر ملائشیا کی مثال لے لیں۔ ان تمام ممالک کو پچاس سال کے لگ بھگ کوئی نہ کوئی ایسا کرشماتی لیڈر میسر آگیا جس نے ان ممالک کو ترقی کی پٹری پر چڑھا دیا جس کی بدولت یہ ممالک آہستہ آہستہ ترقی کی سیڑھی کے زینے چڑھتے گئے اور آج ان کی ترقی کی مثالیں دنیا دیتی ہے۔ آج ان ممالک کے لیڈران تو نہیں رہے لیکن ان کی لگائی ہوئی کھیتی سے ترقی کی فصلیں ان کے لوگ کاٹ رہے ہیں۔


لیکن دوسری جانب ہمارے ملک پاکستان کی کہانی اس کے برعکس ہے۔ پاکستان شاید دنیا کی چند ایک ان ممالک میں شامل ہے جن کو آزاد ہوئے تقریباً پچھتر سال ہوگئے ہیں لیکن ابھی تک یہ اپنی سمت ہی درست نہیں کر سکے کہ آخر ان کو کرنا کیا ہے؟ کس جانب جانا ہے؟ خارجہ پالیسی کو کیسے ترتیب دینا ہے؟ معیشت کو کس سمت لے کے جانا ہے؟ کیسے معاشی غلامی سے نجات حاصل کرنا ہے؟ کون کون سے کاروبارں کو فروغ دینا ہے؟ کس طرح اپنے تعلیمی نظام کو مضبوط کرنا ہے؟ انڈسٹری اور تعلیمی اداروں میں تعلقات کیسے پیدا کرنے ہیں؟ کیسے سیاسی پختگی کی جانب بڑھنا ہے اور کس طرح اپنے عوام کو ذہنی غلامی سے نجات دلوانی ہے؟ ان سب پہلوؤں کو بالعموم اور معاشی پہلو کو بالخصوص جانچنے کے لیے آئیں ذرا پاکستان کی تاریخ کا تھوڑا بہت معاشی جائزہ لیتے ہیں کہ کیوں آج تقریباً پچھتر سال گزرنے کے بعد بھی ہم معاشی طور پر وہیں کے وہیں کھڑے ہیں جہاں بیسویں صدی کے نصف میں تھے۔ کیوں ہم مختلف ممالک سے ہوتے ہوئے آج بھی معاشی طور پر سعودی عرب، امریکہ اور چین وغیرہ کے مرہونِ منت ہیں۔


تو کہانی کچھ یوں ہے کہ جب بھی کوئی نیا ملک بنتا ہے تو اسے کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور جب پاکستان جیسا ملک ہو جسکی پیدائش ہی اس کے ازلی دشمن سے ہوتی ہے تو مسائل مذید بڑھ جاتے ہیں۔ انہی وجوہات کی بنا پر تب شروع سے ہی پاکستان کو برطانیہ اور بعد میں امریکی امداد پر انحصار کرنا پڑا۔ قائد اعظم اور لیاقت علی خان سے جیسے جید لیڈران کا یکے بعد دیگرے رخصت ہونا پاکستان کی مشکلات میں مزید اضافے کا باعث بنا۔ پاکستان کو چاہتے نہ چاہتے ہوئے امریکہ کے ساتھ مختلف الائنسز میں اتحاد کرنا پڑا تاکہ اسے کسی نہ کسی طرح فوجی اور مالی امداد مل سکے۔


مسلم ممالک نے ویسے تو شروع دن سے ہی پاکستان کو ایک نومولود بچے کی طرح اپنے ہاتھوں میں اٹھایا خاص طور پر ایران، سعودی عرب وغیرہ نے سوائے ایک افغانستان کے جس نے اپنا رولا ڈال دیا۔ سعودی عرب تحریک پاکستان کے دور سے ہی مسلم لیگ کے کارکنوں کا مختلف بین الاقوامی فورمز پر دلجمعی سے استقبال کرتا تھا لیکن جونہی پاکستان معرض وجود میں آیا اور شاہ ایران کے پاکستان کے ساتھ قریبی تعلقات قائم ہوئے شاید اسی وجہ سعودی عرب تھوڑا بیک فٹ پر چلا گیا۔ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات ساٹھ کی دہائی میں قائم ہوئے جو پاکستان انڈیا جنگوں میں مزید اہمیت اختیار کرتے چلے گئے۔ سعودی عرب نے ان جنگوں میں پاکستان کا ساتھ دیا اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ معاشی اور فوجی تعلقات گہرے ہوتے چلے گئے۔ 


پاکستان-بھارت جنگوں کے بعد جہاں پاکستان اور امریکہ میں دوریاں بڑھیں وہیں پاکستان اور سوویت یونین میں قریبی روابط بھی قائم ہوئے۔ وہ روس جس کو پچیس سال پہلے پاکستان امریکہ کی خاطر ٹھکرا چکا تھا ایک بار پھر پاکستان کے قریب ہوا اور اب کی بار اسے معاشی لحاظ سے پاکستان نے چنا اور وہ خلا پر کیا جو امریکی سرد مہری سے پیدا ہوا تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ پاکستان نے چین اور سعودی عرب کے ساتھ معاشی تعلقات قائم کیے رکھے جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مضبوط سے مضبوط تر ہوتے چلے گئے۔ 


بیسویں صدی کی آخری دو دہائیوں پاکستان کے لیے بہت اہم ثابت ہوئیں کیونکہ اس دوران پھر پاکستان معاشی تذبذب کا شکار ہوا کبھی سوویت یونین اور کبھی امریکہ۔ بھائی سادہ سی بات ہے لیاقت علی خان کے گزر جانے کے بعد جس ملک نے ہماری مدد کی حامی بھری ہم اسی کے ہوگئے چاہے اس حقیر سی امداد کے بدلے میں پاکستان کو کئی گنا قیمت چکانا پڑی۔ سعودی عرب کو ایک کریڈٹ ضرور جاتا ہے اور کریڈٹ دینا بھی چاہیے کہ اس نے ہمیشہ پاکستان کی ان حالات میں مدد کی جب پاکستان پر سارے دروازے بند ہوگئے وہ چاہے جنگوں کی حالت میں ہو، ایٹمی 

پروگرام کی وجہ ہو یا پھر بین الاقوامی پانبدیاں۔ 


دوسری جانب چین وہ دوسرا پائیدار پاکستانی دوست ہے جس نے ہمیشہ سعودی عرب کی طرح پاکستان کا فوجی اور معاشی لحاظ سے ساتھ دیا۔ انہوں نے ہمیشہ کشمیر ایشو پر پاکستان مؤقف کی حمایت کی اور بدلے میں پاکستان نے بھی ان دونوں ممالک کا ہر ممکن ساتھ دیا۔ سعودی عرب کی ہر ممکنہ فوجی مدد کی چاہے وہ خانہ کعبہ والا معاملہ ہو یا عراق کی جنگ کا مسئلہ پاکستان ہر بار سیسہ پلائی دیوار کی طرح سعودی عرب کے دفاع میں کھڑا ہو گیا۔ 


سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کا اصل ایشو تب بنتا ہے جب اس نے ہمیشہ کی طرح پاکستان سے فوجی امداد کی ڈیمانڈ کی لیکن اس بار پاکستان تھوڑا ہچکچایا کیونکہ اب کی بار فوجی امداد کی ڈیمانڈ ایک غریب مسلم برادر ملک یمن کے لیے کی جا رہی تھی جس کی وجہ سے پاکستان نے یہ معاملہ پارلیمنٹ میں پیش کر کے اس سے انکار پر دیا۔ بس پھر کیا ہونا تھا سعودی حکومت پاکستان پر بھڑک اٹھی کیونکہ ہم اسے اپنا مسلم برادر ملک سمجھتے ہیں لیکن جتنا مرضی آپ مولڈ کر کے بیان کر لیں یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ وہ ہمیں اپنا غلام ہی سمجھتے ہیں جس کے حکم کے آگے ہمیں اپنا سر خم کرنا ہی پڑتا ہے۔ اس انکار کے بعد سعودی حکومت نواز شریف حکومت سے ناراض ہوگئی اور وقتی طور پر مالی امداد والا چیپٹر بھی کلوز تقریباً ڈیڑھ ارب ڈالر جو پاکستان کو دئیے تھے ان کی واپسی کی بھی ڈیمانڈ۔ 


 خیر پھر عمران خان آیا اور اس کا پہلا غیر ملکی دورہ ہی سعودی عرب کا ہوا جس کا سعودی عرب میں گرمجوشی سے استقبال کیا گیا۔ اب کی بار نہ صرف سعودی عرب بلکہ متحدہ عرب امارات کے ساتھ بھی پاکستان کے تعلقات معمول پر آئے اور ایسے لگ رہا تھا اب پاکستان اور مڈل ایسٹ کا آقاء اور غلام والا قصہ بھی تمام ہو گا لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ثابت ہوگیا کہ جہاں ایک دفعہ آپکا وقار جاتا رہا اس کو دوبارہ بحال کرنے کے لیے دہائیاں درکار ہوتی ہیں۔ سعودی عرب نے یمن میں پاکستانی فوج کے انکار بدلہ اس پاکستانی دور حکومت میں لیا جب پاکستان چیخ چیخ کر بیٹھ گیا لیکن کشمیر پر ایک بھی او آئی سی کا اجلاس طلب نہ کیا گیا اور پاکستانی وزیر خارجہ کے بیان پر الٹا انہوں نے پاکستان کو دیئے گئے تین ارب ڈالر واپس مانگ لیے جو چین نے فوراً پاکستان کو دے دئیے۔ 


تب لگا کہ شاید اب پاکستان ان معاشی چنگل سے جان چھڑانے میں کامیاب ہو جائے گا چاہے عوام کو تنگی کے حالات دیکھنا پڑیں۔ لیکن اب ایک بار پھر پاکستانی عوام کا یہ والا خواب بھی چکنا چور تب ہوا جب تقریباً ایک سال بعد پھر پاکستانی وزیر اعظم سعودی عرب گیا اور پھر چار ارب ڈالر کی ایک نئی ڈیل کر آیا۔ سوال یہ ہے کہ جب آپ کو پتہ ہے کہ آپ کی معیشت کو بیس پچیس ارب ڈالر کی ضرورت رہتی ہے تو پھر آپ اس کی پراپر پلاننگ کیوں نہیں کرتے؟ آپ پھر ان ممالک کو آنکھیں کس بل بوتے پر دکھاتے ہو جو ہمیشہ آپ کی مشکل حالات میں مدد کرتے ہیں؟ آپ کوئی ایسی معاشی پالیسی کیوں نہیں اپناتے جس کی بدولت آپ مزید دس بیس سالوں میں ان بیس پچیس ارب ڈالر غیر ملکی قرضوں سے جان چھڑا سکیں؟ سوال یہ ہے کہ ہمیں کب تک یہ ذلت برداشت کرنا پڑے گی؟ ہم کب تک دوسروں کے مرہونِ منت رہیں گے؟ کب تک دوسروں کے اشاروں پر ناچتے رہیں گے؟ سوال یہ ہے کہ ہمارا ماؤزے تنگ کب آئے گا؟ ہمیں کب پاکستانی مہاتیر محمد میسر آئے گا؟ ہمیں کب کوئی لی کون یی ملے گا جو ہمیں معاشی محرمیوں سے باہر نکالے گا اور پاکستان بھی ترقی یافتہ ممالک میں شامل ہو گا؟ آخر ہم کب تک ہاتھ میں کٹورا لیے اس طرح دربدر بھٹکتے پھریں گے؟ آخر کب تک......

کھڈی لائن !

میں کبھی بھی نہیں چاہتا تھا کہ اس مرد مجاہد پر لکھوں کم سے کم اس وقت تو کبھی بھی نہ لکھوں جب تک یہ طاقت کا سرچشمہ ہیں اور ان کی تعریف میں بط...