سیب کا سرکہ اور اس کے 10 مختلف استعمال تحریر :- محمد

 سیب کا سرکہ اور اس کے 10 مختلف استعمال

تحریر :- محمد محسن

@Muhamad__Mohsin

سفید سرکہ گھریلو استعمال میں متعدد فوائد کا حامل ثابت ہوتا ہے مگر سیب کا سرکہ اس سے بھی زیادہ فائدہ مند ہے خاص طور پر دوسرے مختلف مقاصد کے لیے۔جیسے ہچکیوں سے نجات دلانے سے لے کر نزلہ زکام کو دور بھگانے تک یہ سرکہ صحت کے لیے بہت مفید مانا جاتا ہے۔یہاں اس کے کچھ فوائد دیئے جارہے ہین جن کو پڑھ کر ہوسکتا ہے کہ یہ آپ کی زندگی کا حصہ بن جائے۔


بالوں کی خشکی سے نجات کے لئے

اس سرکے کی تیزابیت سر کی سطح میں تبدیلیاں لاکر خشکی کو دور کرتی ہے۔ چوتھائی کپ سیب کے سرکے کو چوتھائی کپ پانی میں ملا کر کسی اسپرے بوتل میں ڈال لیں اور پھر اپنے سر پر اس کا چھڑکاؤ کریں۔ اس کے بعد اپنے سر پر تولیہ لپیٹیں اور پندرہ منٹ سے ایک گھنٹے تک کے لیے بیٹھ جائیں اور پھر بالوں کو دھولیں۔ بہترین نتائج کے لیے ہفتے میں دو بار اس کو دہرائیں۔


خارش سے نجات کے لئے

خارش کی شکار جلد کے لیے بھی سیب کا سرکہ فائدہ مند ثابت ہوسکتا ہے، سرکے کے چند قطرے روئی پر ٹپکائیں اور اسے متاثرہ حصے پر رکھ دیں۔ اس میں موجود اجزاءخارش زدہ جلد کو سکون پہنچانے میں مددگار ثابت ہوں گے۔


ہچکیوں کی روک تھام کے لئے

اگر ہچکیاں کسی طرح روک نہ رہی ہو تو ایک چائے کا چمچ سیب کا سرکہ پی لیں، اس کا کھٹا ذائقہ ہچکیوں کو روک دے گا۔ درحقیقت یہ سرکہ ان عصبی خلیوں کو روک دیتا ہے جو ہچکیوں کا باعث بنتے ہیں۔


معدے کی تیزابیت سے نجات کے لئے

اگر آپ کو سینے میں جلن یا معدے میں تیزابیت کی شکایت ہے تو 2 چائے کے چمچ سیب کے سرکے کو ایک گلاس پانی میں ملائیں اور کھانے کے دوران پی لیں۔ سیب کا سرکہ معدے کی تیزابیت کو کم کرتا ہے جبکہ غذائی نالی کو معدے میں تیزابیت بڑھنے کے اثر سے بچاتا ہے۔


پیروں کے ناخنوں کی فنگس دور کرے

سیب کا سرکہ پیروں کے ناخنوں کی فنگس سے نجات کے لیے ایک مقبول ٹوٹکے کی حیثیت رکھتا ہے، یکساں مقدار میں سیب کے سرکے اور پانی کو ملائیں اور اس سے پیر کو دھوئیں۔ اس میں موجود تیزابیت متاثرہ جلد یا ناخن پر اثرانداز تو نہیں ہوتی مگر فنگس کے خاتمے میں ضرور مفید ثابت ہوتی ہے۔


نظام ہاضمہ کے لیے فائدے مند

سیب کا سرکہ نظام ہاضمہ کے لیے بھی فائدہ مند ہے جو کہ غذا کے ٹکڑے ہونے میں مدد دیتا ہے۔ سیب کے سرکے کو پانی میں ملا کر استعمال کرنا بدہضمی، قبض یا ہیضے وغیرہ سے بچانے میں مدد دیتا ہے۔


جسمانی وزن میں کمی کے لئے

سیب کا سرکہ جسمانی وزن میں کمی کے لیے بھی فائدہ مند ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس میں موجود ایسٹک ایسڈ خوراک کی خواہش کم کرکے میٹابولزم کو تیز کرتا ہے۔ طبی ماہرین کے خیال میں یہ سرکہ جسم کے نظام ہاضمہ کو بھی تیز کرتا ہے جس کے نتیجے میں دوران خون میں بہت کم کیلوریز باقی رہتی ہیں۔


کیل مہاسوں سے چھٹکارے کے لئے

سیب کا سرکہ ایک قدرتی ٹونک ہے جو جلد کو صحت مند بناتا ہے۔ اس کی جراثیم کش خوبیاں کیل مہاسوں کو کنٹرول میں رکھتی ہیں جبکہ جلد کو نرم اور لچکدار بنانے کا کام بھی کرتی ہیں۔


دانتوں کو چمکانے کے لئے

صبح سیب کے سرکے سے غرارے کرنے سے دانتوں پر جمے داغوں کو ختم کرنے میں مدد ملتی ہے اور وہ چمکنے لگتے ہیں۔ یہ سرکہ منہ اور مسوڑوں میں موجود بیکٹریا کو بھی ختم کرتا ہے۔ غراروں کے بعد دانتوں کو معمول کے مطابق برش کریں۔


بدبودار سانس سے نجات کے لئے

اگر برش کرنے اور ماؤتھ واش سے بھی سانس کی بو ختم نہیں ہورہی تو اس گھریلو نسخے کو استعمال کرکے دیکھیں۔ سیب کے سرکے سے غرارے کریں یا ایک چائے کا چمچ پانی میں ملا کر پی لیں تاکہ بو پیدا کرنے والے بیکٹریا کا خاتمہ ہوسکے۔

سردرد کی وجوہات اور دواؤں کے نقصانات


 سردرد کی وجوہات اور دواؤں کے نقصانات


تحریر: محمد محسن

@Muhamad__Mohsin


سر درد headache کوئی مستقل بیماری نہیں اکثر و بیشتر حالات میں درد سر اندرونی خرابی کا پتہ دیتا ہے جس سے سیانا طبیب اصل مرض کو بھانپ لیتا ہے ۔اگر جسم کو ایک فوجی کیمپ تصور کیا جائے تو درد سر گویا اس کا پہرہ دار ہے گویا درد سر کسی آنے والی خطرناک بیماری کی خبر دیتا ہے اورایک ماہر ڈاکٹر صحت کی حفاظت کے لئے اصل تکلیف کے تدارک میں مصروف ہو جاتا ہے ۔درد سر محسوس تو ہوتا سر میں ہے لیکن تشخیص کے بعد پتہ چلتا ہے کہ اصل تکلیف کا سر چشمہ جسم کا کوئی اور حصہ ہے


سر درد کی وجوہات

۱۔تفکرات سے چہرے اور ماتھے کے پٹھوں میں تناؤ بڑھ جانے سے سر درد ہوتا ہے ۔

۲۔ آنکھوں کی کمزوری ،آنکھوں کی بیماریوں ،کان ،ناک گلے اور دانتوں کی بیماریوں سے سر میں درد ہوتا ہے

۳۔ بہت زیادہ جذباتی ہونے ،ذہنی جسمانی تھکاوٹ ،غصہ ،پریشانی آنکھوں کے زیادہ تھک جانے سے ،غذا کے متعلق گڑ بڑ ،بد ہضمی سے درد شقیقہ ( آدھے سر میں درد ہوتا ہے )

۴۔ دماغ کی شریانوں میں خون جمع ہونے سے سر درد ہوتا ہے ا

۵۔بعض درد عارضی ہوتے ہیں جو کم خوابی یا کسی ایسی جگہ رہنے سے جہاں تازہ ہوا نہ آسکے ،لاحق ہو جاتے ہیں

۶۔ بعض دفعہ کسی خاص قسم کی غذا کھانے سے کوئی خاص قسم کی تکلیف شروع ہو جاتی ہے

۷۔ نظام ہضم میں نقص آجانے کی وجہ سے سر درد شروع ہو جاتا ہے۔


سر درد کا غلط علاج اور اس کے نقصان

عام طور پر یہ دیکھا جاتا ہے کہ ادھر سرمیں درد ہوا اور ادھر کوئی دوا استعمال کر لی ،بس درد رفع ہو اور مطلب حاصل ہو گیا اس رواج سے متاثر ہو کر دوا فروشوں نے اپنا الو سیدھا کرنے کے لئے بیسیوں دوائیں تیار کر ڈالی ہیں جن سے درد سر دیکھتے دیکھتے پانچ سات منٹ میں بھاگ جاتا ہے ۔لیک ایک عام انسان اس معاملے میں بے قصور ہے ۔ہر فرد درد سے فوری نجات چاہتا ہے اور وہ نہیں جانتا کہ یہ عارضی دوائیں محض کھیل تماشہ ہیں ۔بس تھوڑی دیر کا سکون اور زندگی بھر کی پریشانیاں ۔

آج کل زیادہ تر ڈاکٹر دواؤں کی کمپنیوں سے صرف اس بات کے لئے پیسہ لیتے ہیں کہ وہ اپنے مریضوں کو اس کمپنی کی ہی دوا تجویز کریں گے ۔لہذا وہ زرا سی بیماری کے علاج کے لئے بھی بہت ساری دوائیں تجویز کر دیتے ہیں جو کہ سرا سر غلط طریقہ کار ہے

یہ ڈاکٹروں کا اولین فرض ہے کہ وہ اپنے مریضوں کو درد کی نوعیت سے آگاہ کریں ۔اگر ڈاکٹر اپنے مریض کع یہ بات سمجھائیں کہ درد سر کوئی معمولی چیز نہیں ہے کہ چھو منتر سے جاتا رہے ۔یہ تو آنے والی بڑی بیماری کا پیش خیمہ ہے ۔محض اوپری دوائیں کھانے سے اسے عارضی طور پر دبا دینے سے فائدہ نہیں بلکہ الٹا ان دواؤں سے نقصان ہوتا ہے کہ دل اور دوسرے اعضائے رئیسہ میں خرابی پیدا ہوجاتی ہے ۔

عام طور پر درد سر میں لوگ مختلف قسم کے بام اور کریمیں لگاتے ہیں جن کے لجانے سے محض وقتی سکون آتا ہے اور اس کی خوشبو سے دماغ سُن ہونا شروع ہو جاتا ہے اور یہ سمجھ لیا جاتا ہے کہ بس درد کا خاتم ہو گیا ۔ایسی کریمیں اور بام دماغ کے خلیوں کو متاثر کرتی ہیں

درد سر میں کسی بھی دوا کا استعمال کچھ دن تک تو فائدہ دیتا ہے لیکن اس کے بعد اس دوا کا اثر آہستہ آہستہ ختم ہونا شروع ہو جاتا ہے اس لئے کسی بھی درد خاص طور پر سر درد کے پیچھے چھپے محرک یا سبب کو ڈھونڈنا اور اس کا حل نکالنا سب سے ضروری کام ہے

سر کے درد میں ڈسپرن کثرت سے استعمال کی جانے والی دوا ہے اس طرح کی اور بہت سی سردرد کی دوائیں معدے میں جا کر خراش پیدا کر دیتی ہیں جن سے شدید قسم کی بد ہضمی پیدا ہو جاتی ہے ۔اس کا مسلسل استعمال دل کو کمزور کر دیتا ہے

درد سر کی دوائیں معدے پر ورم پیدا کرتی ہیں ، کثرت سے ان دواؤں کا استعمال بینائی اور ذہانت کو بھی متاثر کرتا ہے

درد کے متعلق انسان کو کسی غلط فہمی میں نہیں رہنا چاہئے ۔درد خوشگوار کیفیت نہیں ہے لیکن کسی بھی درد کی ابتداء وہ جھنڈی ہے جو قدرت اس غرض سے دکھاتی ہے کہ انسان کو معلوم ہو جائے کہ اس کی جسمانی حالت صیح نہیں ہے اور جسم کے ندر کچھ نہ کچھ خرابی اور خلل پیدا ہو گیا ہے ۔

درد سر کی دوا فوری طور پر کھانے سے مریض کو یہ احساس پیدا کرتی ہے کہ یوں ہی معمولی سی شکایت ہو گئی تھی اور قابل لحاظ کوئی چیز نہیں اس طرح مرض کو موقع مل جاتا ہے کہ پوشیدہ ہی پوشیدہ اپنا کام کئے جائے اور اپنی گرفت اتنی مضبوط کر لے کہ پھر کسی طبیب سے بھی چارۂ کار نہ ہو سکے ۔


گھریلو نسخوں سے سر کے درد کا علاج

۱۔۔زکام ،زیادہ محنت ،ذہنی تفکرات رات کو جاگنا اور چکنائی والی اشیاء سے پرہیز کرنا چاہئے

۲۔۔ نیند لینے سے ہر قسم کے سر درد میں آرام ملتا ہے ۔اس لئے سر در میں کوشش کرنی چاہئے کسی پر سکون گوشے میں اپنی پسند کی خوشبو یا عطر لگا کر آرام کریں ۔

۳۔۔رات کو سوتے وقت پاؤں کے تلوؤں پر گھی کی مالش کرنے سے اچانک ہونے والا سر درد ٹھیک ہو جاتا ہے

۴۔ جو افراد پرانے سر درد کا شکار ہوں انھیں دن میں کسی بھی وقت سونف ضرور چبانی چاہئے

۵۔۔ زکام سے اگر سر درد ہو تو دونوں پاؤں کو گرم پانی میں رکھنے سے آرام آجاتا ہے

۶۔۔ مٹی کی گیلی پٹی باندھنے سے سر درد دور ہوتا ہے

۷۔ ۔آدھے سر کا درد ہو یا پورے سر کا درد ،سونٹھ کو پانی میں پیس کر گرم کر کے لیپ کریں اور سونگھیں درد ٹھیک ہو جائے گا

۸۔۔ سر درد میں چائے میں لیموں نچوڑ کر پینے سے فائدہ ہوتا ہے

۹۔ ۔اگر سر درد گرمی کی وجہ سے ہو تو تربوز کا گودا ململ کے کپڑے میں ڈال کر نچوڑ لیں اور اور ایک گلاس میں محفوظ کر لیں اور اس میں مصری ملا کر صبح پئیں

۱۰۔ ۔آدھے سر کا درد سورج کے ساتھ گھٹتا اور بڑھتا ہے تو سورج طلوع سے پہلے گرم دودھ کے ساتھ جلیبی یا ربڑی کھائیں

۱۱ ۔۔کالی مرچ چبانے سے بھی سر کے درد میں کمی آتی ہے

ہاتھ اچھی طرح دھوئیں اور 11 امراض سے محفوظ رہیں


ہاتھ اچھی طرح دھوئیں اور 11 امراض سے محفوظ رہیں


تحریر:- محمد محسن 

@Muhamad__Mohsin


عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے ہاتھ دھونے کے عمل کو اتنی اہمیت دی ہے کہ ہرسال ’ہینڈ واشنگ ڈے‘ منایا جاتا ہے۔


اچھی طرح ہاتھ دھونے کے عمل سے کئی اقسام کےجراثیم، بیکٹیریا اور وائرس ہم سےدور ہوتے ہیں جو گردوغبار، جانوروں یا دیگر انسانوں سے ہمارے ہاتھوں تک منتقل ہوتے رہتے ہیں۔


لیکن ماہرین ان امراض سے بچانے کا بہترین حل یہی بتاتے ہیں کہ ہاتھ دھونے کے معمول کو کسی بھی طرح نظر انداز نہ کیا جائے۔ مثلاً ہاتھ دھونے سے ڈائریا کا خطرہ 58 فیصد تک کم ہوجاتا ہے۔ لیکن اقوامِ متحدہ کے مطابق صرف 5 فیصد افراد ہی ایسے ہیں جو درست طریقے سے ہاتھ دھوتے ہیں۔ اسی لیے ہاتھوں کو درست انداز سے دھونے کے پختہ عادت اپنا کر درج ذیل امراض سے بچاجاسکتا ہے۔


پیٹ کے امراض


نورووائرس اتنے خطرناک ہوتے ہیں کہ اس کا ایک وائرس بھی آنتوں اور معدے کا مرض پیدا کرسکتا ہے۔ اگر ہاتھ دھولیجئے یا الکحل والے ہینڈ واشر (سینی ٹائزر) سے ہاتھ دھولیجئے تو اس مرض کا پھیلاؤ 60 فیصد تک کم ہوجاتا ہے۔


فلو


بہت چھوٹے اور بہت بزرگ افراد دونوں کے لیے فلو کی وبا جان لیوا ثابت ہوتی ہے۔ صرف 2017 اور 2018 میں پوری دنیا میں فلو سے 80 ہزار اموات ہوئی تھیں کیونکہ یہ تیزی سے پھیلنے والا مرض ہے۔ ہاتھ دھونے سے فلو کے جراثیم دور ہوجاتے ہیں اور یوں آپ اس موذی بلکہ جان لیوا انفیکشن سے بھی محفوظ رہتے ہیں۔


گلابی آنکھ


صبح کے وقت آنکھیں چپکنا اور ان پر پپڑیاں جم جانے کا عمل گلابی آنکھ یا پِنک آئی کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ انفکیشن عموماً بچوں میں ہوتا ہے۔ ہاتھ دھونے اور انہیں صاف رکھنے سے اس مرض سے بچا جاسکتا ہے۔


سالمونیلا وائرس اور امراض


سالمونیلا وائرس آنتوں کے علاوہ بھی دیگر کئی بیماریوں کی وجہ بنتا ہے۔ بچوں کے پیمپرز کی تبدیلی، متاثرہ خوراک اور گلے سڑے پھلوں، کچے گوشت کو دھونے یا ہاتھ لگانے کے بعد اپنے ہاتھوں کو اچھی طرح دھوئیں تاکہ سالمونیلا وائرس ختم ہوجائیں۔ اس طرح آپ اس خطرناک وائرس کے حملے سے محفوظ رہ سکیں گے۔


بخار، نقاہت اور مونونیوکلیوسِس


اگر کوئی شخص مونو نیوکلیوسِس کے مرض میں مبتلا ہے تو بخار، دردِ سر، بدن کا درد، نقاہت اور کمزوری اس کی عام علامات ہوں گی۔ اس کا مریض تھوکے، چھینکے یا لعاب گرائے تو دوسرے افراد اس سے متاثر ہوسکتے ہیں۔ اسی لیے ہاتھ دھونے کا عمل آپ کو اس کے جراثیم سے بچاتا ہے اور یوں آپ مونونیوکلیوسِس سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔


منہ، پیر اور ہاتھوں کے انفیکشن


بچوں میں کوکسیکی وائرس سے ان کے ہاتھوں اور پیروں میں تکلیف دو سوزش ہوجاتی ہے جس ازالہ اچھی طرح ہاتھ دھوکر ہی کیا جاسکتا ہے۔ اسکولوں میں ایک سے دوسرے بچے میں یہ مرض عام طور پر پھیلتا ہے۔ اس سے بچاؤ کے لیے اپنے بچے کو اچھی طرح ہاتھ دھونا سکھائیں اور اس امر کو لازمی بنائیں۔


اپنے حمل کو بچائیں


حاملہ خواتین اگر صفائی ستھرائی میں احتیاط نہ برتیں تو چھالوں اور کھجلی جیسے ایک مرض، ہرپس کی نسل کے جراثیم جسم کے اندر جاکر نامولود بچے کو رحم میں بھی متاثر کرسکتے ہیں۔ اس کے خطرناک جراثیم بچے کی دماغی صلاحیت، بصارت اور سماعت کو بھی متاثر کرسکتے ہیں۔ اس کی وجہ سائٹو میگلو وائرس ہے جو صابن سے ہاتھ دھونے پر ختم ہوجاتا ہے۔


اسٹاف اور ایم آر ایس اے وائرس


اسٹاف Staph وائرس کی ایک قسم ایم آر ایس اے وائرس ہے جو عام طور پر جلد اور ناک کی رطوبت میں پلتا ہے ۔ ایم آر ایس اے اینٹی بایوٹکس کو ناکام بنانے کے لیے عالمی شہرت رکھتا ہے یعنی اس پر دوا اثر نہیں کرتی۔۔ اگر یہ جسم کے اندر چلاجائے تو خون، جوڑوں اور قلب کو متاثر کرکے جان لیوا بھی ثابت ہوسکتا ہے۔


اس کی علامات میں جلد پر سرخ دھبے اور پھپھولے بن جاتے ہیں۔ ضروری ہے کہ زخموں کو ڈھانپ کر رکھا جائے اور اچھی طرح ہاتھ دھوئے جائیں تاکہ اس مرض سے بچا جاسکے۔


ہیپاٹائٹس اے


اچھی خبر تو یہ ہے کہ ہیپاٹائٹس اے اپنے رشتے دار بی اور سی کے مقابلے میں جگر کو دیرینہ مرض کا شکار نہیں کرتا لیکن بری خبر یہ ہے کہ ہیپاٹائٹس اے یرقان، کمزوری اور بخار کا شکار بناکر انسانوں کو طویل عرصے تک بستر سے تو ضرور لگا سکتا ہے۔ ہاتھ دھونے کا عمل ہیپاٹائٹس اے وائرس سے آپ کو محفوظ رکھتا ہے۔


گلے میں خراش


اے اسٹریپٹو کوکس بیکٹیریا کا حملہ گلے میں خراش کی وجہ بنتا ہے۔ یہ تیزی سے ایک مریض سے دوسرے صحتمند شخص تک پھیلتا ہے۔ کیفیت شدید ہوجائے تو بخار، درد اور بسا اوقات گردے کے مرض کی وجہ بھی بن جاتے ہیں۔ ہاتھ دھونے کے عادت بھی اے اسٹریپٹو کوکس بیکٹیریا سے بچاتی ہے۔


جیارڈیاسِس


ایک قسم کا طفیلیہ (پیراسائٹٌ) جیارڈیاسِس کی وجہ بنتا ہے جو ڈائریا، کمزوری اور پانی کی کمی جیسے کیفیات میں مبتلا کرتا ہے۔ کھانے کھانے سے پہلے اور بعد میں ہاتھ دھونے سے اس مرض سے بچا جاسکتا ہے۔

لیکن ان بیماریوں کی فہرست یہاں ختم نہیں ہوتی جو ہاتھ دھونے سے دور بھاگتی ہیں۔ اسی لیے اچھی طرح ہاتھ دھونے کو اپنا معمول بنائیں۔ اوپر کی تصویر میں ہاتھ دھونے کا درست طریقہ بتایا گیا ہے جسے اپناکر آپ بھی صحت کا خیال رکھنے والے افراد کی فہرست میں شامل ہوسکتے ہیں۔

وہم کی تعریف ،علامات، وجوہات اور علاج


 وہم کی تعریف ،علامات، وجوہات اور علاج

تحریر:- محمد محسن

@Muhamad__Mohsin


آج کے دور میں ہمارے معاشرے کا اگر کوئی مسئلہ ایسا دیکھنا ہو جو بہت عام ہو تو وہم بھی ایک ایسا مسئلہ ہے جس کے اثر سے کم لوگ ہی محفوظ ہیں۔ وہم کا دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ کوئی اسے تسلیم بھی نہیں کرتا ، تسلیم نہ کرنا زیادہ بڑا مسئلہ ہےکہ تب اِس سے چھٹکارے کی طلب ہی نہیں اُٹھتی ۔

وہم سے توہم بنتا ہے ، وہم سے ہی شک جنم لیتا ہے ، وہم ہی یقین کی دیمک ہے ، وہم سدا بہار شبہ ہوتا ہے ، وہم گمان کی راہ سے بدگمانی کی پستیوں کی سیڑھی ہے ، وہم جب عروج لے تو اوہام بن جاتے ہیں اور اوہام پرست کی راہ شرک پرستی کی طرف ہی جاتی ہے ۔

وہم عام بھی ہے ، ہاتھ دھو لیے لیکن کچھ لمحوں میں ہی باربار ہاتھوں کو دیکھ کر یہ شک ہونا کہ ٹھیک نہیں دھلے ، تالا لگا کر بھی بار بار تالا چیک کرنا ، عین نماز میں کپڑوں کی پاکی نا پاکی کو سوچنا ، ایسی ہزاروں مثالیں جہاں زندگی اذیت بن جاتی ہے اور روز شب اس شک و وہم میں گزرتے چلے جاتے ہیں اور انسان اپنی ہی ذات کی کشمکش میں الجھا رہتا ہے۔

وہم خاص بھی ہوتے ہیں۔ دوستوں و عزیزوں میں گمان پر وہم پال لینا ، ان وہموں پر رشتوں کو تولتے رہنا ، اس تول مول میں اپنے برتاؤ کو اپنے اس تول مول سے جوڑ لینا ، کسی بیماری کا ذکر سُن لے تو اپنی ذات میں شک کی دوربین سے ڈھونڈنا ، شک ہو جائے تو وہم کی خوردبینی مشاہدے میں اس پر یقین کر لینا اور اس یقین پر بیمار بن جانا۔

وہم ہماری رسموں میں در آیا ہے ، وہم ہماری معاشرت میں جگہ بنا کر بیٹھ چکا ہے ۔ کبھی نئے گھر پر پرانے جوتے لٹکا دیتا ہے ، کبھی گاڑی پر کالے کپڑے ، کبھی شادی میں دلہن سے بھانت بھانت کی رسمیں کرادیتا ہے ، تو کبھی نومولود بچے کے پاس چھری رکھوا دیتا ہے اور چھوٹے بچوں کا تو پل پل والدین و بزرگوں کے اسی وہم کے زیر سایہ بسر ہوتا ہے ، یہی وہ وہمی تربیت جو کل وہم کو ان کی جینیٹکس کا حصہ بنا دیتی ہے.

اس وہم نے آستانے بھی آباد کرائے تو معالجوں سے زیادہ لیبارٹریز بنوا دی ہیں۔ ہمارا روز و شب بھانت بھانت کے کولیسٹرول ناپتے ، شوگر لیول چیک کرتے ، قسم قسم کی وٹامن کے ناپ تول میں بسر ہوتے ہیں اور اس ناپ تول پر ہم بیماری و صحت کے سرٹیفکیٹ لیتے ہیں۔ ورنہ بات تو بہت سیدھی ہے۔ جب ہم بیمار ہوں تو علاج کرائیں اور اس نیت و یقین کے ساتھ کہ شفا علاج میں نہیں، اللہ کے پاس اور علاج سنت سمجھ کر کریں ، شفا اللہ سے مانگیں ۔

وہم بلا شبہ ایک بیماری ہے ، وہم جسے طب کی زبان میں آبسیسو کمپلسو ڈس آرڈر کہتے ہیں۔ یہ ابتدائی عمر کی بیماری ہے ، جہاں پہلے خیالات بنتے ہیں ، اُن خیالات کی وجوہات نہیں ہوتی لیکن اس تواتر سے بنتے ہیں کہ ایک خوف و ڈر پیدا کر دیتے ہیں۔ اس خوف سے چھٹکارے کے لیے ہم اس وہمی خیال کے مطابق وہ حرکت کر گزرتے ہیں۔ وقتی آرام مل جاتا ہے لیکن بیماری جڑ پکڑ لیتی ہے ۔

وہم کے اس ڈر سے چھٹکارا لینے کےلیے انسان کو ذات سے باہر نکلنا پڑھتا ہے ، ہم اس کرہ ارض میں سانس کے لیے رب العالمین کے محتاج ہیں۔ ہماری ہر اگلی ساعت کی گارنٹی صرف اللہ کے پاس ہے۔ ہم زندگی اس اگلی ساعت کی اُمید کے ساتھ جیتے ہیں۔ یہ وہ حقیقت ہے جس کی اپنے آپ کو بار بار تلقین کرنی پڑتی ہے۔ اس تلقین کےلیے بندگی کے آداب برتنے پڑتے ہیں ، یہ چاہے نماز ہو کہ روزہ یا حج ، حقوق العباد، انسان اپنے فرائض ادا کرتا ہے. ان فرائض کے بعد ہر ڈر پیدا کرنے والے خیال کو رد کرنا سیکھے اور جن کی عادات پختہ ہو چکیں ، جو درجہ معذور میں داخل ہو چکے، وہ اسے بیماری سمجھ کر علاج کرائیں اور اس یقین کے ساتھ کہ شفا رب دیتا ہے ، علاج سنت سمجھ کرا رہے ہیں ۔

صحت مند زندگی کے چند سنہری اصول"


 "صحت مند زندگی کے چند سنہری اصول "


تحریر:- محمد محسن

@Muhamad__Mohsin

بعض اوقات ہم ایسی بہت سی چھوٹی چھوٹی چیزوں کو نظرانداز کر دیتے ہیں جو ہماری صحت کے لیے انتہائی ضروری ہوتی ہیں۔ یہاں پر میں چند ایسی عادتوں کے بارے میں پڑھیں گے جو انسانی دماغ اور آنکھوں کو تیز، صحت مند اور خوش مزاج رکھنے کے لیے بہت اہم ہیں۔


1: شادی کریں اور خوش رہیں:-


دہائیوں سے شادی شدہ جوڑے پر ہونے والی تحقیق سے یہ ثابت ہوا ہے کہ شادی شدہ جوڑے میں دل کی بیماریاں لاحق ہونے کے مواقع غیر شادی شدہ اور علیحدہ شدہ جوڑے کی نسبت کم ہوتی ہیں۔ تحقیق سے یہ بھی پتہ چلا ہے کہ شادی شدہ لوگ زیادہ خوش و باش نظر آتے ہیں۔


2: نیند میں آنے والی مداخلت سے بچین:-


نیند میں آنے والی مداخلت نیند نہ آنے سے زیادہ صحت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ حالیہ تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ نیند میں کمی لوگوں کو بدمزاج اور ناخوش بنا دیتی ہے۔ نیند کی کمی کا ڈپریشن سے گہرا تعلق موجود ہے۔


3: مکھن کھانے سے تھوڑا ہاتھ ہلکا رکھیں:-


دہائیوں سے سائنس لوگ کو چکنائی والی چیزوں سے منع کرتی آ رہی ہے۔ مثال کے طورپر پر ہماری خوراک میں موجود مکھن کی مقدار اگر زیادہ استعمال کی جائے تو اس خون میں کولیسٹرول کی مقدار خطرناک حد تک بڑھ سکتی ہے ۔ خون میں کولیسٹرول کی زیادہ مقدار خون کی نالیوں کے سکڑنے کا سبب بنتا ہے۔ جس کی وجہ ہارٹ اٹیک اور فالج ہونے کے خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

4: مثبت سوچیں اور صحت مند رہیں:-

وہ لوگ جو اپنے خیالات اور جذبات کو منفی رکھتے ہیں ان میں دل سے متعلق بیماریوں کے خطرات ہو جاتے ہیں۔ یہ تحقیق ان لوگوں پر کی گئی تھی جو ورزش بھی کرتے تھے اچھا کھاتے تھے اور سگریٹ-نوشی کرتے تھے۔ لیکن اپنے منفی خیالات کی وجہ سے دل کی بیماریاں میں مبتلا تھے۔

5: روزانہ 7 سیب کھائیں:-

 بیشتر تحقیق نہ یہ ثابت کیا ہے کہ وہ لوگ جن کا رجحان پھل اور سبزی کھانے پر زیادہ ہوتا ہے وہ زیادہ صحت مند ہوتے ہیں۔ پھل َور سبزیاں کھانے سے دل کی بیماریاں اور کینسر کے خطرات کم ہو جاتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ پھل وٹامنز اور فائبر سے بھرپور ہوتے ہیں جو صحت کے لیے انتہائی مفید ہیں ۔ اس کے علاوہ اس میں اینٹی آکسیڈینٹ ہوتا ہے جو سیلز کی مرمت کرتا ہے۔

 لیکن ہمیں ہر فروٹ کا کتنا حصہ کھانا چاہیے؟ ریسرچ کہتی ہے کہ ہمیں ہر پھل اور سبزی کا 7 عدد یا اس سے کچھ زیادہ تک کھانا چاہیے۔ 7 عدد تک پھل اور سبزی کھانے سے بیماریوں کے خطرات 42 فیصد کم ہو جاتے ہیں۔

6: اکیلے کھانا مت کھائیں:-

 موٹاپے پر تحقیق کرنے والے ماہرین کا کہنا جو مرد حضرات دن میں دو مرتبہ اکیلے کھنا کھاتے ہیں ان میں موٹاپا ہونے کی شرح زیادہ ہے۔ تاہم خواتین میں ایسا کوئی کیس نہیں ہے۔

7: کھانے کو چبا کر کھائیں:

آہستہ آہستہ اور شائستگی کے ساتھ کوئی چیز کھانا نہ صرف اچھی عادت ہے بلکہ یہ صحت کے لیے بھی انتہائی مفید ہے۔ تقریباً 6000پ جاپانی لوگوں پر تحقیق کی گئی جس میں یہ دیکھا گیا جو لوگ آہستہ اور نارمل سپیڈ سے کھانا کھا رہے تھے ان میں موٹاپے کی شرح ان لوگوں کی نسبت کم تھی جو بغیر چبا کھانا کھاتے تھے۔

8: سونے کی روٹین کو بہتر بنائیں:-

زیادہ تر لوگوں کا سونے کا اور نہ ہی جاگنے کو کوئی ٹائم ہے۔ تحقیق بتاتی ہے کہ عادت ہمارے دماغ میں قدرتی طور پر فٹ circadian rhythm سائکل کو متاثر کرتی ہے۔کیونکہ بہت سے ہارمونز رات کو ایکٹو ہوتے ہیں اور کچھ ان ایکٹو ہوتے ہیں۔ جب ان ہارمونز میں کوئی مداخلت آتی ہے تو یہ صحت پر برے اثرات مرتب کرتی ہے۔ اس سائیکل میں رکاوٹ کی وجہ سے ہمیں تھکاوٹ، سر درد، موڈ کا خراب ہونا اور نیند میں کمی جیسے اثرات ظاہر ہوتے ہیں۔ نیند میں کمی کی وجہ دل کی بیماریوں کے اثرات 11 فیصد بڑھ جاتے ہیں۔

فوڈ سپلیمنٹس اور انسانی صحت


 فوڈ سپلیمنٹس اور انسانی صحت:

تحریر :- محمد محسن 

@Muhamad__Mohsin


سب سے پہلے آپ کو جان لینا چاہیے متوازن غذا وہی ہوتی ہے جس سے آپ تندرست اور سمارٹ رہتے ہیں۔ لیکن بعض اوقات ہم ایسی خوراک کھاتے ہیں جو آپ کو مطلوبہ غذائی اجزاء فراہم نہیں کر رہی ہوتی۔ دنیا کے مختلف خطوں پر لوگ مختلف قسم کی خوراک کھا رہے ہوتے ہیں۔ اس لیے جغرافیہ لحاظ سے ہر خطے کے لوگوں میں مختلف طرح کی غذائی کمی کا شکار ہوتے ہیں۔ جس میں آئرن، کیلشیم میگنیشیم، فولک ایسڈ، وٹامنز C، B12، B6، اور وٹامن D کی کمی کے اثرات سرفہرست ہیں۔

اگر ان اجزاء کی کمی خوراک سے پوری نہ ہو تو اکثر ڈاکٹر اسے سپلیمنٹس سے پورا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ ہر سپلیمنٹس کے اپنے فوائد اور نقصانات ہیں۔

سپلیمنٹس سے کونسے لوگ فائدہ اٹھا سکتے ہیں؟ 

یہ بات بھی یقینی طور پر نہیں کہہ سکتے صحت مند لوگ بھی ملٹی وٹامنز اور سپلیمنٹس سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ تاہم کچھ تحقیق میں دیکھا گیا ہے کہ جن صحت مند لوگوں نے سپلیمنٹس کا استعمال کیا وہ بھی کچھ مخصوص اور عام بیماریوں سے محفوظ رہے۔ 

یہاں پر درج ذیل زمرے میں ان لوگوں کو اجاگر کرتے ہیں جو روزانہ کی بنیاد پر سپلیمنٹس لینے سے فائدہ لے سکتے ہیں۔

• وہ لوگ جنہوں نے موٹاپے سے نجات کے لیے اپنا وزن کم کیا ہے وہ وسیع رینج پر وٹامنز اور منرلز کی کمی کا شکار ہو سکتے ہیں۔

• وہ لوگ جن کی خوراک سبزیوں تک محدود ہے ان میں وٹامنB12, آئرن، آئیوڈین، کیلشیم، اور سیلینیم کی کمی کا زیادہ مکان رکھتے ہیں۔

• وہ لوگ جو ابھی تعلیم کیریئر میں ہیں وہ اکثر متوازن غذا پر دھیان نہیں رکھتے۔ اس لیے وہ بھی سپلیمنٹس سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔

• بزرگ لوگ جو اکثر اپنے گھروں میں رہتے ہیں ان میں وٹامن D، وٹامن A، وٹامن E، کیلسم اور زنک کی کمی ہو جاتی ہے۔طوہ یہ کمی سپلیمنٹس سے پوری کر سکتے ہیں۔

• سگریٹ-نوشی کرنے والے افراد وٹامن C اور زنک کا شکار ہوتے ہیں۔

• تحقیق سے بات سامنے آئی وہ خواتین جن میں وقت سے پہلے حیض کا عمل شروع ہو جاتا ہے ان میں کیلشیم، آئرن، وٹامن A, اور وٹامن C کی کمی کا شکار ہوتی ہیں۔

• حاملہ خواتیں کو اکثر فولک ایسڈ سپلیمنٹ لینے کا مشورہ دیا جاتا ہے جس سے بچے اور ماں دونوں کی صحت پر اچھے اثرات ظاہر ہوتے ہیں۔

• وہ لوگ جو کسی دباؤ یا ڈپریشن کا شکار ہیں وہ اضافی وٹامن B لے کر اس سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔

کیا سپلیمنٹس لینا ہر کسی کے لیے محفوظ ہے؟ 

عام طورپر یہ کہا جاتا ہے کسی معروف کمپنی سے غذائی سپلیمنٹس لینا محفوظ ہے، لیکن یہ سچ نہیں ہے تمام سپلیمنٹس ہر ایک کے لیے موزوں نہیں ہوتے۔ 

سپلیمنٹس لینے کے فوائد اور خطرات سے آگاہ رہنے کے لیے ہمارے پاس مختلف ذرائع ہیں۔ عام طور پر سپلیمنٹس لینے سے پہلے یہ مشورہ دیا جاتا کہ نیوٹریشن کے متعلق معلومات کے لیے ماہر صحت سے رابط کریں۔ فرض کریں کہ اگر کوئی خواتین حاملہ یا دودہ پلاتی ہے تو ماہر صحت انہیں مطلوبہ سپلیمنٹ ہی تجویز کرے گا۔

اگرچہ بہت سے وٹامنز، منرلز اور جڑی بوٹیاں مختلف بیماریوں کو محفوظ طریقے سے روکنے اور یا ان کا علاج کرنے کے لیا جانا جاتا ہے۔ یہ تمام آپ کے جسم کی کیمسٹری کو تبدیل کر دیتے ہیں۔ اس لیے کسی بھی ادویات کا سپلیمنٹس کا استعمال جاننے سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ وہ جسم کے ساتھ کیسے ری ایکٹ کرے گا۔

وہ 10 عادتیں جو دماغی صحت کیلئے زہر قاتل ہیں "

 "وہ 10 عادتیں جو دماغی صحت کیلئے زہر قاتل ہیں "

تحریر:- محمد محسن

@Muhamad__Mohsin


ہمارے جسم میں دماغ سپرپاور یا ٹرانسمیٹر کی حیثیت رکھتاہے۔دماغ ایک ٹرانسمیٹر ہے جوانسانی اعضاء کوسگنل دیتاہے ان سے

 کام کرواتا ہے ۔دماغ میں کسی بھی قسم کا نقص

یا بیماری 

 پیداہوجائے توانسان کی روزمرہ کی کارکردگی بھی متاثرہوتی ہے۔دماغ انسانی جسم کاسب سے زیادہ پیچیدہ اور حساس عضوہے جسے پیچیدگیوں سے بچانا بے حد ضروری ہے۔


دماغ کوکچھ اورنہیں بلکہ ہماری اپنی ہی عادات متاثرکرتی ہیں۔جی ہاں حیران نہ ہوں یہ سچ ہے کہ ہم تمام انسانوں کی بعض عادتیں ایسی ہیں جوہمارے اپنے دماغ کوکمزوربناتی ہیں۔جس سے دماغ کی کارکردگی متاثرہوتی ہے اوروہ ٹھیک طرح سے کام نہیں کرپاتا۔توبس ہوجائیے تیاراورآج سے ہی ان عادات پرقابوپانے کی کوشش کرناشروع کردیں۔


1۔پرسکون نیند کی کمی


رات کودیرتک جاگنااورصبح دیرسے اٹھناہم سب کی عادت بن چکی ہے۔مکمل آرام کاخیال نہ رکھنے سے انسانی صحت بری طرح متاثرہوتی ہے۔یہ عادت نہ صرف جلد اور آنکھوں کی صحت کومتاثرکرتی ہے بلکہ اس سے دماغ کے خلیات کی موت بھی تیزی سے واقع ہونے لگتی ہے۔جس سے دماغ کے فعال متاثرہوتے ہیں۔


2۔سر کو ڈھک کرسونا

سردیوں میں عموماً سرکورضائی یاکمبل کے اندرڈھک کرسویاجاتاہے اوراسے صحت کے لئے بہترتصورکیاجاتاہے۔ لیکن ایسانہیں ہے کیونکہ سرڈھانپ کرسونے سے بند جگہ میں کاربن ڈائی آکسائیڈجمع ہونے لگتی ہے اورآکسیجن کی مقدارکم ہونے لگتی ہے۔اس سے دماغی خلیات کے سن ہونے کااندیشہ ہوتاہے۔کمبل کی جگہ مرد حضرات رومال اورخواتین اپنے دوپٹہ کا بوقت ضرورت استعمال کرسکتی ہیں۔


3۔ناشتہ نہ کرنا

ناشتہ نہ کرنانہ صرف معدہ بلکہ دماغ کے لئے بھی انتہائی نقصان دہ عمل ہے۔ناشتہ نہ کرنے سے خون میں شکرکی مقدارکم ہوجاتی ہے۔جو کہ ضروری غذائی اجزاء کی دماغ تک رسائی بہم نہیں پہنچاتے ہیں جس سے دماغ کی کارکردگی متاثرہونے لگتی ہے۔اگرصبح کاآغازہی غیرمتوازن طریقے سے ہوگاتودن بھراس کااثرتونظرآناہی ہے۔اپنے دن بھرکے کاموں میں توازن برقراررکھنے کے لئے ناشتہ ضروری ہے۔


4۔منفی سوچ

فارغ وقت میں ہماراذہن صرف غیرضروری سوچوں میں گم رہتاہے۔اس سے دماغ کے اہم حصے سوچنے کی صلاحیت اورذہانت سے خالی ہونے لگتے ہیں۔منفی سوچ سے دماغ کی نالیوں پردباؤ بڑھتاہے۔ بلڈ پریشرمیں اضافہ ہوجاتاہے اوردماغ کی نالیوں میں خون کی بے ترتیب ترسیل خطرناک بیماریوں کاسبب بن سکتی ہے۔جب بھی آپ فارغ ہوں تومثبت کاموں اورسوچوں میں مشغول رہیں۔


5۔کھانا زیادہ کھا لینا

کھانے کے دوران متوازن غذاکے تمام اصول بھلادیناہماری عادت ہے۔خوب پیٹ بھرے بغیردسترخوان سے نہ اٹھنا،بھوک لگنے پربہت سا کھانا کھا لینا ایک عام سی بات ہے۔ہم میں سے اکثرلوگ ایسے بھی ہیں جوکھاناکھانے کے بعد فوراً لیٹ جاتے ہیں کیونکہ اٹھنامحال ہوتاہے ۔زیادہ کھانا دماغ کی نالیوں کوسخت کردیتاہے جس سے دماغ کی طاقت میں آہستہ آہستہ کمی واقع ہونے لگتی ہے۔


6۔تمباکونوشی

تمباکو یا سگریٹ نوشی ایک ایسی عاد ت ہے جونہ صرف دماغ کی نالیوں کوسکیڑتی ہے بلکہ الزائمرکی بیماری اوردماغ کے کینسرکاسبب بھی بنتی ہے۔عام طورسے ہمارے ہاں یہ تصورکیاجاتاہے کہ سگریٹ نوشی سے ہمارے پھیپھڑے متاثرہوتے ہیں لیکن یادرکھیں ہماری ہربری عادت ہمارے دماغ اور زہن پربراہ راست اثراندازہوتی ہے۔


7۔زیادہ میٹھا کھانے کی عادت

زیادہ میٹھاکھانے کی عادت نہ صرف موٹاپا بلکہ دماغی حصوں کے عمل میں بھی خرابی پیداکردیتاہے۔اس عادت سے پروٹین ، وٹامنز اوردیگرغذائی اجزاء کی دماغ تک نقل حرکت کم ہو جاتی ہے ۔جس کی وجہ سے خلیوں کی افزائش رک جاتی ہے۔جس کے نتیجے میں دماغ ٹھیک طرح سے کام نہیں کرپاتا۔


8۔ماحولیاتی آلودگی

ہمارے جسم میں آکسیجن کی ضرورت سب سے زیادہ دماغ کوہوتی ہے۔جس ہوامیں ہم سانس لیتے ہیں اس میں گرد اوردھواں ہروقت موجودہوتاہے۔اگرہواآلودہ ہوتودماغ تک آکسیجن کی ترسیل ٹھیک طرح سے نہیں ہوپاتی۔جس وجہ سے دماغ کی کارکردگی میں رکاوٹ آنے لگتی ہے۔اسی لئے صبح کی تازہ ہوامیں چہل قدمی کریں یہ عمل آپکے دماغ کودن بھرتازہ دم رکھتاہے۔


9۔بیماری میں آرام نہ کرنا

جب بھی آپ کسی بیماری ،انفیکشن یاتھکاوٹ میں مبتلاہوتے ہیں تواس وقت آپ کوآرام کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے۔کام کے دباؤ کی وجہ سے آرام کی طرف دھیان نہ دینے سے دماغی صحت پربرااثرپڑتاہے۔اس عمل سے دماغی صحت اوریادداشت کی کمزوری کے مسائل سامنے آتے ہیں۔


10۔سردمزاجی

جولوگ تنہائی پسند یا لوگوں سے زیادہ گھلنا ملناپ سندنہیں کرتے ان کا ذہن بھی تخلیقی صلاحیتوں سے محروم ہوجاتا ہے۔دماغی کمزوری سے ان کی ذہانت متاثرہونے لگتی ہے۔تنہارہنے کی وجہ سے ان کے مزاج میں آنے والی تبدیلی ان کے دماغ میں پیدا ہونے والے خلل کانتیجہ ہوتی ہے۔

مندرجہ بالااسباب آہستہ آہستہ ہماری صحت پر اثراندازہوتے ہیں لیکن یہ بھی سچ ہے کہ اگران سے پرہیز نہ کیاجائے تویہ نہ صرف ہماری جسمانی بلکہ دماغی صحت کوبھی بری طرح متاثرکرتے ہیں۔لہٰذاان سے بچنے کی کوشش کریں اورصحت مندزندگی کاحصول ممکن بنائیں۔

سوشل میڈیا، ڈیجیٹل ڈیوائسز اور دماغی صحت"


 سوشل میڈیا، ڈیجیٹل ڈیوائسز اور دماغی صحت 

تحریر:- محمد محسن

@Muhamad__Mohsin

اس جدید ،تیز رفتار دور میں جہاں سوشل میڈ یا کا استعمال تیزی سے بڑھ رہا ہے۔وہیں پر ترقی یافتہ ممالک میں اس مسئلے پر بحث ومباحثہ بھی جاری ہے کیا سوشل میڈیا اور ڈیجیٹل ڈیوائس (سیل فون،ٹیبلٹ اور آئی پیڈ وغیرہ ) کا استعمال دماغی صحت کےلیے نقصان دہ ہیں ۔؟مشاہدے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ نوجوان یہ ڈیوائسز اور خصوصاً فیس بک اور یوٹیوب وغیرہ بہت زیادہ استعمال کرتے ہیں۔


2012 ء میں جب سوشل میڈیا کا استعمال بہت زیادہ بڑھ گیا تھا تو یہ بات سامنے آئی کہ کم عمر نوجوانوں میں ذہنی دبائوں بڑھتا جارہا ہے ۔اور یہ بھی معلوم ہوا کہ سوشل میڈیا کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں زیاد ہ استعمال کرنے والوں میں ذہنی دبائو اور زیادہ اضطراب پایا جاتا ہے ۔لیکن ڈیجیٹل ڈیوائس استعمال کرنے والوں کی دماغی صحت کا ڈیٹا جمع کرنے میں معاون ہو سکتے ہیں ،تا کہ ضرورت کےوقت مناسب مداخلت کی جاسکے ۔


امریکا اور بر طانیہ میں 2012 ء سے 2013 ء کے درمیان ذہنی دبائو ،اضطراب اور خود کو نقصان پہنچانے والے بالغان کی تعداد میں اچانک اضافہ دیکھا گیاہے ، جس میں مصروف ہونے والے ٹین ایجرز کی تعدادمیں 2009 ء سے 2011 ء کے درمیان انتہائی تیزی سےاضافہ ہوا تھا ۔اور اس وقت 15 سے 17 سال کی عمر کے دو تہائی نوجواں کی تعداد اس کو روزانہ استعمال کررہی تھی ۔کچھ تحقیق کرنے والے جو سوشل میڈیا کے استعمال کا دفاع کرتے ہیں ،ان کا کہنا ہے کہ دماغی صحت کی خرابی میں ایک تو یہ بنا واسطہ شہادت ہے اور دوسرے اس میں سوشل میڈیا کا کوئی خاص کردار نہیں ۔


کچھ مطالعے سے معلوم ہوا ہے کہ اسکرین کے سامنے وقت گذارنے اور بری دماغی صحت کے درمیان ایک ہلکا تعلق ہے ۔اس دفاع کے خلاف مسٹر جونا تھن ہیڈٹ کے تین دلائل ہیں ۔ایک دلیل میںجس پیپر کا حوالہ دیا گیا ہے وہ مختصر ہے اور اس میں پوری توجہ صرف اسکرین پر وقت گزارنے کو دی گئی ہے لیکن اس میں فلمیں دیکھنے اور دوستوں سے چیٹنگ شامل نہیں ہے ۔جو دماغی صحت کے لیے نقصان کا باعث ہے ۔ریسرچ پیپر میں سوشل میڈیا کو خاص طور پر توجہ دینے کے بجائے مکمل اسکرین وقت کو دیکھا جائے تو معلوم ہوگا کہ اس کا تعلق ذہنی دباو سے بہت ہے اور جب ہم خاص طور پر لڑکیوں پر توجہ مرکوز کریں تو معلوم ہوگا کہ اس سے لڑکیاں بہت زیادہ متاثر ہوتی ہیں ۔


تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ لڑکوں کے مقابلے میں لڑکیاں سوشل میڈیا زیادہ استعمال کرتی ہیں ،کیوں کہ لڑکے دوسرے کھیلوں میں زیادہ شامل رہتے ہیں ۔جب کہ لڑکیوں کے لیے ان کے ارد گرد کی سماجی زندگی ،رتبہ اور قربت بہت اہم ہے ۔ان کوکم وقعت ہونے کا خوف ہوتا ہے۔البتہ یہ بھی صحیح ہے کہ باہمی رابطے کے جائزوں سے بنا واسطہ شہادتیں مہیا ہوتی ہیں ۔حالیہ سالوں میں طبع ہونے والے جائزوں میں ان وجوہات کی نشان دہی بھی کی گئی ہے۔ان جائزوں میں کچھ کو کہا جاتا ہے کہ وہ سوشل میڈیا استعمال کرتے رہیں جب کہ کچھ کوکہا جاتا ہے کہ وہ اس کا استعمال کم کردیں ۔چند ہفتوں کے بعد استعمال میں کمی کرنے والوں نے بتایا کہ ان کے مزاج میں بہتری اور اکیلے پن کے محسوسات میں بھی کمی ہوئی تھی جو ذہنی دباو کی علامات ہیں۔


تیسری بات یہ ہے کہ کچھ ریسرچ کرنے والے سوشل میڈیا کو شکر کی طر ح سمجھ رہے ہیں کہ اس کی درمیانہ یا کم استعمال کم عمر کے لیے محفوظ ہے جب کہ اس کی زیادہ مقدار کا استعمال نقصان دہ ہوگا ۔لیکن سوشل میڈیا شکر کی طر ح صرف ان کے لیے نقصان دہ نہیں ہے جو اس کو استعمال کرتے ہیں بلکہ سوشل میڈیا نے کئی لوگوں کے تعلقات کو نئی جہت دی ہے ،جس میں خاندانی تعلقات اور روز مرہ کے تعلقات بھی شامل ہیں ۔ایک مشاہدے میں یہ بات سامنے آئے ہے کہ دواکی ایک سادہ خوراک یعنی سوشل میڈیا کے اثرات کا احاطہ نہیں کر سکتا ہے جب کہ اب تک تحقیق کاروں کے تمام مباحثوں میں خوراک کی مقدار کو ذہن میں رکھتے ہوئے بات کی گئی ہے ۔


لیکن یہ بات زیادہ اہم ہے کہ اس نمونے کے نیچے چھپے ہوئے نیٹ ورک کے ذہنی دباو ،اضطراب اور دماغی صحت کی خرابی کے اثرات دور تک پھیلتے ہیں ،جس کا زیادہ شکار لڑکیا ں ہیں ۔نتیجے کے طور پر یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ ویسے تو ڈیجیٹل میڈیا کے بہت سے فائدے ہیں ،جن میں ذہنی بیماریوں کا علاج بھی شامل ہے لیکن اگر آپ سوشل میڈیا تک محدود رہیں گے تو نقصان کی شرح زیادہ نظر آئے گی ،جس کے خراب اثرات کم عمر صارفین پرزیادہ ہوتے ہیں ۔


تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ مڈل اسکولوں میں 11 سے 13 سال کی عمر کے درمیان کے بچوں پر اسمارٹ فون استعمال کرنے پر پابندی لگائی جائے ،پھر ان دوسالوں میں فون استعمال نہ کرنے والوں اور اسمارٹ فون استعمال کرنے والے بچوں کے درمیان ذہنی صحت اور رویّوں میں فرق کا موازنہ کرکے بچوں پر سوشل میڈیا کے اثرات کا حتمی نتیجہ مل سکتا ہے ۔


بغیر مشاہدے کے یہ کہا جاتا ہے کہ سوشل میڈیا کے استعمال اور دماغی صحت کی خرابی میں باہمی تعلق ہے ۔تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ تحقیق کرنے کا مقصد تو یہ ہونا چاہیے کہ ڈیجیٹل ڈیوائس اور سوشل میڈیا کے استعمال کا کون سا طر یقے کار نقصان کی بجائے سود مند ہوسکتا ہے ۔اوراس کے طریقے کار اور شہادتوں کو کیسے سوشل میڈیا کے استعمال کی پالیسی ۔ تعلیم اور اس کےریگولیشن کی ترتیب کے لئے استعمال کیا جائے؟


پرانے غیر حل کردہ مسائل کے سبب دماغی صحت کی خدمات کی فراہمی اور بہتر معیارکے لئے ہماری کوششیں نتیجہ خیزثابت نہیں ہورہی ہیں۔ ڈیجیٹل ٹیکنالوجی میں اتنی کیپیسٹی رکھتی ہے کہ وہ ان چیلنجوں سے عہدہ بر آ ہو سکے ۔مثال کے طور پر ان چیلنجوں کو مد نظر رکھیں کہ کس طر ح انسانی رویے ،دماغی صحت کی تشخیص ،مریضوں کی دیکھ بھال ،حالت میں بہتری اور ریسرچ تمام چیزیں ہی مریضوں کے خود رپورٹ کرنے پر منحصر ہوتی ہیں ۔اس کے نتیجہ میں اس طرح کا ڈیٹا جمع کرنا بہت دشوار ہوتا ہے، جس کے نتیجہ میں کبھی کبھار ہی سروے ہوتا ہے جن کی علامات سے مرض کی پیش بینی ، تشخیص اور علاج کی پلاننگ نہیں کی جاسکتی۔


اس کے برخلاف موبائل فون اور دوسرے ایسے ڈیوائس جو انٹرنیٹ سے کنیکٹ ہوتے ہیں ۔مسلسل لوگوں کی عملی زندگی میں ان کےرویوں کی بابت کارآمد اور قیمتی ڈیٹا فراہم کرسکتے ہیں ۔جن سے افراد کی دماغی صحت کے حوالے سے یہ بصیرت حاصل ہو گی کہ مریضوں کے علاج کا وقت اوراس کی نوعیت کیا ہونی چاہیے،کیوں کہ لوگوں موبائل ڈیوائس کا استعمال ہر وقت ہی کرتے رہتے ہیں ۔ اس لیے مناسب وقت پر ایسی مدد دی جاسکتی ہے جو صرف ان کی ذات کیے لیےموزوں ہو۔ 


اُس وقت دماغی صحت سے متعلق خدمات ایک صدی پرانے ماڈل کے مطابق فراہم کی جاتی ہیں ،جس میں لوگوں کواپنی اشدضرورت کو پس پشت ڈال کر ہر صورت معالج کے دیے ہوئے وقت پر حاضر ہونا پڑتا ہے۔لیکن انٹر نیٹ ڈیوائیس سے رابطےسے ایسی سہولیات فراہم کی جاسکتی ہیں جن سے دماغی صحت کو برقرار رکھنے کے علاوہ علاج میں بھی مدد فراہم کی جاسکتی ہے۔


یہ فوائد کم عمر افراد میں ان بالغان کو حاصل ہوسکتے ہیں جو ڈیجیٹل ڈیوائس کا کثرت سے استعمال کرنے کی وجہ سے بیماری کے خطرات کو شکار ہوجاتے ہیں ۔ دماغی صحت میں اضافہ اور علاج میں بہتری سے کم عمرغیربالغان بھی یکساں مستفید ہوسکتے ہیں۔نک ایلین نے ڈیجیٹل ڈیوا ئس کے زیادہ استعمال اور اس استعمال سے پیدا ہونے والی بیماریوں کے علاج پر زیادہ توجہ دینے کی بات کی ہے۔


 اس کے کم استعمال اور زیادہ استعمال سے پیدا ہونے والے فرق پر بات ہی نہیں کی گئی ہے،کیوں کہ اہم سوال تویہ ہے کہ سوشل میڈیا کے استعمال میں کمی سے ذہنی دباو اور دوسری دماغی صحت کے مضر اثرات سے بچا جاسکتا ہے؟ کیونکہ اگر بیماری سے بچا جا سکتا ہے توہماری پہلی ترجیح یہی ہونی چاہیے کہ بیماری سے بچا جائے۔ یہ نہیں کہ کثرت استعمال سے بیماریاں پیدا کرنے کے بعد ان کے علاج پر زیادہ توجہ دی جائے۔ ہمیں پہلے ہی اس کے مضر اثرات پر توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔

پائن کے درخت کے بیج اور اکتوبر میں کٹنگ لگانا

پائن درخت کےبیج اور اکتوبر میں کٹنگ لگانا 


تحریر:- محمد محسن



@Muhamad__Mohsin

اکتوبر کے مہینے میں کچھ پودوں جھاڑیوں کی کٹنگ لیکر آپ نئے پودے بنا سکتے ہیں ۔ پلانٹ کٹنگ تین طرح کی ہوتی ہیں ۔ بہار ( Spring ) کے موسم میں تنا سبز اور لچکدار کٹنگ لی جاتی ہیں ۔ حالانکہ ان کے خشک ہونے کا سب سے زیادہ خطرہ ہوتا ہے ۔ مگر کچھ ہی ہفتوں میں تیزی سے جڑ پکڑ جاتی ہیں ۔ موسم خزاں( Fall ) میں ، سخت لکڑی کی کٹنگ منتخب کرتے ہیں ۔ اور یہ کٹنگ جڑ بہت آہستہ بناتے ہیں ، اسے تیار ہونے میں مہینہ یا اس سے بھی زیادہ وقت لگ جاتا ہے ۔


اکتوبر میں درج ذیل کٹنگ بھئ لگ جاتئ ہیں ۔ 


1 - Fuchsia 

2 - Hebe 

3 - Lavender 

4 - Penstemon

5 - Geranium 

6 - Felicia

7 - Salvia

8 - Lemon Verbena 

9 - Verbena 

10 - Helichrysum 


یاد رکھنے کی بات :- 


اس مہینے پائن درخت کے بیج اکھٹے کرنے کا وقت ہے ۔ یہی اکھٹے کیئے گئے بیجوں سے آپ مارچ اپریل میں نئے پودے بنا سکتے ہیں ۔ اور ان کے سیڈز پائن درختوں کے نیچے گرے ہوئے ملیں گے ۔  



غزل


تم میرے نہیں ہو تُو بتا کیوں نہیں دیتے

جب پیار نہیں تھا تو بھلا کیوں نہیں دیتے  

خط کس لئے رکھے ہیں جلا کیوں نہیں دیتے

کس واسطے لکھا ہے ہتھیلی پے میرا نام 

میں حرف غلط ہوں تو مٹا کیوں نہیں دیتے 

للہ شب وروز کی الجھن سے نکالو  

تم میرے نہیں ہو تو بتا کیوں نہیں دیتے 

رہ رہ کے نا تڑپاؤ اے بے درد مسیحا 

ہاتھوں سے مجھے زہر پلا کیوں نہیں دیتے 

جب میری وفاؤں پے یقین تم کو نہیں ہے  

حسرت کو نگاہوں سے گرا کیوں نہیں دیتے

کھڈی لائن !

میں کبھی بھی نہیں چاہتا تھا کہ اس مرد مجاہد پر لکھوں کم سے کم اس وقت تو کبھی بھی نہ لکھوں جب تک یہ طاقت کا سرچشمہ ہیں اور ان کی تعریف میں بط...