کھڈی لائن !



میں کبھی بھی نہیں چاہتا تھا کہ اس مرد مجاہد پر لکھوں کم سے کم اس وقت تو کبھی بھی نہ لکھوں جب تک یہ طاقت کا سرچشمہ ہیں اور ان کی تعریف میں بطور چکوالیا کر کے ان کے قد کو بہت چھوٹا کر دوں گا کیونکہ یہ چکوال کی ملک میں نہیں ، نہ ملک کے اختیار پر ملک کی دنیا میں پہچان ہے اور نہ ہی یہ شخص آرمی کی وجہ سے ہے بلکہ کچھ ظرف ایسے بڑے ہوتے ہیں جو اپنے آپ میں ملک و قوم و ملت کی پہچان بن جاتے ہیں، مجھے یہ کہنے میں ذرا برابر بھی عار نہیں کہ یہ شخص اپنی ذات میں آرمی کا فخر ہے ، یہ شخص اپنی ذات میں ملک پاکستان کا فخر ہے ، یہ شخص اپنی ذات میں چکوال ایک چھوٹا سا ضلع ہے اس کا فخر ہے 

اس قوم کو بھولنے کی عادت ہے ، اس قوم کو کلبھوشن یادوو بھول چکا ہے ، خودکش دھماکے بھول چکے ہیں، پاکستان میں RAW ، موساد، اور بیرونی ایجنسیوں کی اجارہ داریاں بھول چکی ہیں، اس ملک کی اشرافیہ کے نزدیک یہ شخص جو قابل مذمت ہے سوچیں کہ کیوں قابل مذمت بنا ، یہ ذرا عار کی بات نہیں کہ عمران خان جو آج اس قوم کا ہیرو ہے اسی شخص کی قوم کو عطا ہے ، یہ شخص جس کی دنیا کا نمبر ون سپائی کا ایوارڈ و نام ملا واحد وہ شخص ہے جس کے ساتھ دو شفٹیں چلتی تھیں ، یہ نہ تھکنے والا پاک فوج کا وہ جرنیل ہے جس نے ہمارے ایٹمی اثاثوں کے نقشہ جات جب ہماری آرمی میں چند غداروں کی غداری سے بیچے گئے ، جب کلبھوشن یادوو نے ایران کے بارڈر پر رہ کر پاکستان کی ہر مسجد میں بم گرائے اور جب ہمارے اشرافیہ کی ذاتی ملوں میں انڈین را کے اہلکار کام کر رہے تھے تو پاکستان کو کیسے بچایا کہ آج آرمی کے جرنیلوں کی عزت بھی بحال ہے اور ملک بھی باقی ہے، تبھی تو عمران خان مجبوری بنا 


اندھوں کو بھی پتہ ہے کہ آرمی نے عمران خان کو حکومت بنا کر دی ، آرمی کا پولیٹیکل ونگ جو آئی ایس آئی کا ہے وہ رجسٹرڈ ونگ ہے اور اس کے سیاسی عزائم ہوتے ہیں اور یہ ایک رٹن حقیقت ہے ، سو اسکو اس پر مورد الزام ٹھہرانا زیادتی نہیں تو اور کیا ہے جبکہ اس دور میں جن کو غدار ثابت کیا گیا وہ ہی آج براجمان کر دئیے گئے ہیں ، ہر حکومت میں آرمی کا عمل دخل رہا خود نواز شریف صاحب بھی انہی کے مرہون منت ہیں مگر آرمی کی مداخلت ہمیشہ سے اس وقت ہی ہوتی تھی یا تو جب چیف آف آرمی سٹاف آرمی کا صدر ہوتا تھا یا پھر وہ کسی سیاسی پارٹی سے وابستگی رکھتا تھا مگر اس شخص کو ہر سیاسی پارٹی غداری کی مرتکب ملی ، خود آرمی جانتی ہے اس کے اندر غدار تھے ، مگر اس نے قوم کو ملت کو عمران خان جیسا محب وطن دیکر اس وقت بچایا جس وقت ہر شریف بک چکا تھا ، 


آج چوھدری نثار سے جا کر پوچھیں کہ اس کی آخری پریس کانفرنس میں جو اس نے کہا تھا کہ اس ملک کی سالمیت کو جو خطرہ ہے اس سے میں اور 4 اور لوگ واقف ہیں اور حکومت نواز شریف صاحب کی تھی تو کیا وہ بتا سکتے ہیں کہ وہ ملکی سالمیت کو کیا خطرہ تھا ؟ 

اور اس خطرے سے وہ کون تھا جس نے اس ملک کو اور قوم کو نکالا ؟ 

کیا اس قوم کو وہ وقت بھول گیا ہے جب مگ اس ملک کی حدود میں داخل ہوا اور انڈیا سے کئی جگہوں پر ایٹمی تنصیبات لگا کر یہ سٹلائیٹ سے دیکھا گیا کہ پاکستان جواب میں جو ایٹمی تنصیبات لگاتا ہے کیا اس کی لوکیشن وہ ہی ہے اور انہی راستوں سے پرزے اکٹھے کیے جاتے ہیں جن راستوں کے نقشے ہم تک پہنچ چکے ہیں تو امریکہ اور اسرائیل کو منہ کی کھانی پڑی کیونکہ وہ نقشے جو بکے تھے ان کی لوکیشن کو تبدیل کرنے والا اور اس راز کو اپنے سینے میں دبا کر ملک اور قوم کی سالمیت کو بچانے والا یہ شخص کھڈی لائن لگ سکتا ہے ، اور اس کو کھڈی لائن لگ جانا چاہیے کیونکہ اس کی رگوں میں ایک محب وطن باپ کا خون ، اور ایک محب وطن ماں کا شیر ہے 


اور ہم محبوں کو کھڈے لائن ہی لگاتے ہیں ، کھڈی لائن فاطمہ جناح بھی لگیں ، کھڈی لائن لیاقت علی خان بھی لگے ، کھڈی لائن بھٹو اور خاندان بھٹو بھی لگا، تاہم کھڈی لائن اس ملک پر شب خون مارنے والا ایک بھی جرنیل نہیں لگا ، 


کھڈی لائن لگا تو صرف یہ جرنیل جو اپنے سینے کا پاکستان کو بیچنے والوں کے رازوں کا قبرستان بنا چکا ہے!


اس کی کھڈی لائن کم سے کم میرا فخر ہے اور میں کبھی بھی اس شخص پر اس کے اختیار کے دور میں نہیں لکھنا چاہتا تھا اور ان سے ایک ملاقات کا موقع بھی اس وجہ سے مس کیا کہ ان کی رٹئیرمنٹ کے بعد ان سے ملوں گا مگر افسوس کہ اس کھڈی لائن والے جملے نے دل چیر دیا 


کاش اس ملک کی آئی ایس آئی کے کارناموں میں اس ڈبل شفٹ میں کام کرنے والے جرنیل کی حقیقت پبلش ہو تو اس قوم کو پتہ چلے کہ یہ اپنے ظرف میں پاکستان اور آرمی کا کیسا بڑا فخر ہے


لیکن یاد رکھیے گا 

اگر یہ شخص کھڈی لائن سے ہٹ کر فرنٹ لائن پر آ گیا تو یہ وقت بتائے گا کہ یہ پاکستان کو اور قوم کو اور اس کے وقار کو کیسے سیدھی لائن لگاتا ہے ، یہ کھڈی لائن لگا شخص آج بھی جرنل باجوا کا اور فوج کا اور قوم کا باوفا سپاہی ہے اور میرٹ پر لگائیں یا میرٹ سے ہٹ کر ، چکوال کی ماوں کا دودھ ہی چیف آف آرمی سٹاف بنے گا کیونکہ ہماری مائیں ہمیں حب الوطنی دودھ میں پلاتی ہیں اور ہماری رگوں میں جنگی خون ہے ، یہ تو کھڈی لائن لگیں گے تو لگیں گے فلحال اس کا سیاسی لائن پر لگایا ہوا عمران خان ساروں کو کھڈی لائن لگا چکا ہوا ہے، 


اور اگر وقت نے اس کو پھر موقع دیا تو یہ امریکہ کو کھڈی لائن بھی لگا دے گا، بظاہر ضرور عمران خان کو ہٹایا گیا لیکن امریکہ بہادر جس کا راہ روک رہا ہے اور جس سے تھر تھر کانپ رہا وہ درحقیقت یہ کھڈے لائن لگا ہوا شخص ہی ہے 


یہ جرم کم ہے کہ سچائی کا بھرم رکھا 

سزا تو ہونی تھی مجھ کو میرے بیان کے بعد 


میرے خدا اسے اپنی امان میں رکھنا 

جو بچ گیا ہے میرے کھیت میں لگان کے بعد 



کھلا خط بنام قمر جاوید باجوہ صاحب

 کھلا خط بنام قمر جاوید باجوہ صاحب

 


GHQ Rawalpindi  

میرے سپاہ سالار ، 

خیریت موجود نہیں ہے مگر خیریت مطلوب ضرور ہے اور اس ملک کے یہ حالات جو اس وقت دیکھنے کو مل رہے ہیں یہ وہ حالات ہیں جو پاکستان کی 75 سالہ تاریخ کے منفرد حالات ہیں ، آپ جانتے ہیں کہ ہر رہنما اب تک قائداعظم و لیاقت علی خان کے بعد اسی ادارے کی کوکھ سے نکلا جس ادارے کی کوکھ سے عمران خان نکلا اور بھٹو صاحب اور نواز شریف صاحب بھی اسی ادارے کے کمزور لمحوں کی باقیات ہیں، یہ کھلی حقیقتیں ہیں اور فوج کے پے رول پر رہنے والے لوگ بعد ازاں عوامی بنے اور عوام کے نام پر پھر فوج پر بھی بولے جس میں فوج کا بھی قصور تھا ، ایوب و یحیی ، ضیاء و مشرف کی جانب سے ترقی بھی زیادتی تھی ، اور سیاست دانوں کا فوجیوں کی گود میں بیٹھنے کے بعد معروف ہونے پر پھر فوج کی داڑھی نوچنا بھی غلط تھا ، مگر جس چیز کی بنیاد غلط ہو اس کا اختتام بھی غلط ہوتا ہے


میرے سپہ سالار ،

یہ کرکٹر اور پٹھان کا بچہ کوئی وزیراعظم والا اعتبار نہ رکھتا تھا نہ تیار تھا اور نہ ہی شریف خاندان کے مقدر کا ستارا اس قدر بلند تھا کہ وزارت کی اہلیت پر جگمگاتا اور نہ ہی زرداری کے گھر بھٹو پیدا ہونا تھا اگر فوج کی مرضی نہ ہوتی لیکن یہ رہنما آپ کے اس مقدس ادارے نے پیدا کیے اور پروان چڑھائے لیکن عظیم سالار ، کبھی اس بات کو بھی سوچیں کہ یہ لوگ آج کے سنجیدہ اور بہترین سیاست دان بن گئے اپنی غلطیوں سے سیکھنے کے بعد اور ان کو اس بات کا علم ہو گیا کہ فوج کو سیاست میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے تو فوج نے سابقہ غلطیوں سے کیوں کچھ نہیں سیکھا؟ 


عمران خان آپ کی کل کی مداخلت کا نتیجہ ہے اور یہ ایک اٹل حقیقت ہے لیکن اس نے پاکستان کی پاسبانی اور سالمیت کا حقیقی چغہ پہن کر آج دنیا کو پاکستان کو اور ہر انسان کو اپنا گرویدہ بنا لیا ہے اور آج اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ ایک واحد تنہا اکیلا شخص ہر سپریم ادارے کی جان کنی کے مرحلے سے گزار رہا ہے ، لیکن اس میں کچھ بھی نہیں کیونکہ سیاست دان باعزت کب ہوئے ہیں اس ملک میں اس کا نظریہ عزت دار ہے اور غیور ہے اور اس نظریے نے اس کو غیور بنا دیا ہے ، اور آج کے دن میں اگر وہ نہ رہے تب بھی وہ ہمیشہ کی تاریخ میں ہر جرنیل اور ہر سیاست دان سے بڑھ کر زندہ رہے گا 


میرے سپاہ سالار ،

نجانے کیوں میں جب جب جناب کو دیکھتا ہوں مجھ کو ایک عجیب سی امید نظر آتی ہے آپ میں کہ ایک مدت بعد ہم کو ایسا جرنیل ملا ہے جو فوج کی تاریخ کو بدل کر امر ہو سکتا ہے ، 

میرے نڈر ،

تیری جرات کی ہتھیلی میں وہ لکیر نمایاں ہے کہ جہاں ایک فئیر الیکشن سے پاکستان کا مقدر بدلوانے والوں کی فہرست میں آپ کا نام بھی آ سکتا ہے جو عدم اعتماد سے داغدار ہوا ہے اور جس کی وضاحتیں دینی پڑ رہی ہیں 

میرے جرات مند ،

29 نومبر سے پہلے پہلے وہ وقت ہے جو دائمی خاندانی عزت کا سبب بھی بن سکتا ہے اور ذلت کا باعث بھی 

میرے تمغہ بردار ،

اپنی غلطیوں سے سیکھ کر جیسے یہ بیانیہ دلوایا ہے کہ اب ملک میں کبھی مارشل لاء نہیں لگے گا یہ بھی کنٹرول لیکر کوشش کر کے اس کا سہرا بھی اپنے سر باندھ لو کہ اب کبھی الیکشن میں دھاندلی نہیں ہو گی 


یقین کریں ، اس ملک کی بہتری کی خاطر تھوڑی سی جرات اگر عمران خان کے ساتھ یہ عوامی سمندر کھڑا کر سکتی ہے تو فوج تو اس قوم کو اپنی ماں سے بھی زیادہ پیاری ہے ، یہ قوم آپ کی نسلوں تک کی غلام رہے گی 

اب وقت ہے اور آج اختیار ہے 

ہمت ، حوصلہ ، جرات ، غیرت 

اگر ایک سپاہی یا ایک مرد میدان نہ کرے گا تو پھر کون کرے گا 


ایک قوم سے خطاب کر کے ملک کو اس غیر یقینی صورت حال سے نکالنے کے لیے ایک بھرپور خطاب کر لو ایسا خطاب جس میں مارشل لاء نہ ہو مگر مارشل الیکشن کا اعلان کر کے اس قوم کی گود میں اس قوم کا فیصلہ کرنے کا اختیار ڈال دو 


آپ کا ایک جرات مندانہ فیصلہ اس ملک کو تا قیامت سیاسی راہ پر ڈال دے گا اور ایوب خان سے لیکر پرویز مشرف تک کے گناہ ڈھل بھی جائیں گے اور پاکستان کے جھنڈے کے ساتھ آپ کی تصاویر بھی ہر پاکستانی اٹھا لے گا اور اپنی نسلیں بھی سر اٹھا کر چلیں گی


آج سنہرا موقع ہے اس قوم کی سیاسی بانجھ کوکھ کو پھر سے ہرا کر دیں ممکن ہے ہم کل کو ایک لیڈر پیدا کر سکیں، جس پر بھٹو ، نواز شریف اور عمران خان کی طرح کوئی فوجی گود کا ٹیگ نہ ہو بلکہ اس پر جنرل قمر جاوید باجوہ کا سیاسی آزادی کا احسان ہو اور وہ ہم میں سے اوپر آئے نہ کہ لٹیروں کی نسلوں کا علمبردار ہو


آپ کے پاس 7 ماہ ہیں پاکستان کی تاریخ میں ہمیشہ ہمیشہ کی زندگی پانے کے لیے جو صرف ایک جرات کے متقاضی ہیں کر جائیں تو آپ عمران خان سے بڑھ کر پوجےجائیں گے قبر کی آسائشیں الگ سے کہ یہ عوام مزید پسنہ نہیں چاہتی ، دبنا نہیں چاہتی ، مگر ایک آپ کے پاس طاقت ہے اور ہر ایک کی نظر صرف آپ کے اختیار کے درست استعمال پر ٹکی ہے 


والسلام 

ایک ادنیٰ پاکستانی 


سازش اور مداخت

 سازش 

دراصل فارسی زبان کا لفظ ہے اور اس کے معنی اگر اردو میں کیے جائیں تو اور سمجھا کر بتایا جائے تو یہ 


"دو یا دو سے زیادہ افراد کے باہمی تعاون سے کسی برے یا ناجائز مقصد کے لیے خفیہ تدبیر کرنا " 


سازش کہلاتی ہے 


جبکہ مداخلت عربی زبان کا لفظ ہے اور اگر اس کو سمجھایا جائے اردو زبان میں تو آسان الفاظ میں 


"کسی فرد واحد یا جماعت یا افراد کی دست اندازی ، دخل ہمراہ مزاحمت و قبضہ و قابو "


مداخلت کہلاتی ہے 


سازش و مداخلت دو الگ الگ زبانوں کے یعنی فارسی و عربی کے دو مونث الفاظ ہیں اور ان کا معنی سمجھا کر اوپر لکھ دیا گیا ہے اور ڈی جی ایس پی آر کے آج کے بیان کے مطابق اگر اس کا ترجمہ کیا جائے جو ابھی تک کسی نے نہیں کیا تو ان کے بقول 


امریکہ نے دو یا دو سے زیادہ افراد کے باہمی تعاون سے کسی برے یا ناجائز مقصد کے لیے کوئی خفیہ تدبیر نہیں کی بلکہ دست اندازی ، دخل ہمراہ مزاحمت و قبضہ و قابو کیا ہے 


سو اگر کسی کو سمجھ نہیں آ رہی تو وہ لغت سے رجوع کرے خود سیانا نہ بنے اور اپنی پارٹی کی طرف لفظوں کے معنی نہ لیکر جائے کیونکہ الفاظ کا مطلب لغت واضع کرتی ہے فوج اور عوام نہیں اور ڈی جی آئی ایس پی آر انتہائی لگے بندھے الفاظ میں اپنا موقف الفاظ سے واضع کر چکے ہیں ، کیونکہ تدبیر نہیں ہو رہی ملک پر قبضہ ہو چکا ہے


آپ چاہیں تو ابھی گوگل پر ان دونوں الفاظ کو ڈی کوڈ کر کے دیکھ سکتے ہیں۔




عوامی شعور پاکستان کی ضرورت

 لمبی چوڑی ڈسکشن نہیں 

فیصلہ ہو گیا تسلیم ہو گیا اور اب یہ دیکھنا ہے کہ سپریم کورٹ اور ساری سیاسی پارٹیوں کی مشترکہ فیصلے ٹھیک ہیں یا عوام کی سپریمیسی بھی ہے 

میدان آج نہیں تو سال بعد سہی مگر سج تو جائے گا 

اس بار زرداری ، نواز شریف ، مولانا اور معزز جج صاحبان کے تمام اختیار آپ کے اور میرے پاس ہوں گے 

کسی قسم کا جھگڑا نہ کریں 

عمران خان کی کال پر احتجاج میں باہر نکلیں تو اپنی ملک کی املاک کا خیال رکھیں 

عمران خان بھی بدتمیزی سے حتلمقدور بچیں 

ہماری یہ خوش بختی ہے کہ پہلی بار حکومت جمہوری اقدار کو مدنظر رکھ کر گرائی گئی 

پہلی بار ہم جمہوری احتجاج کرنے کو نکل رہے ہیں 

اس سے قبل احتجاج مارشل لاء کے خلاف ہوا کرتے تھے 

جمہوریت تھوڑی ہی سہی مگر پنپ رہی ہے 

میں سمجھتا ہوں ہماری آزاد خارجہ پالیسی ہونی چاہیے 

میں سمجھتا ہوں ہماری حکومت کو بیرونی طاقت نے گرایا 

میں سمجھتا ہوں عمران خان بہتر آپشن ہے 

میں سمجھتا ہوں کہ عمران خان کو ووٹ دینا ہے 

میں سمجھتا ہوں کہ ہمارا امن کا ساتھی بننے کا فیصلہ درست ہے 

میں سمجھتا ہوں کہ ہم کو روس چائنہ اور دوسرے بلاک سے تعلقات استوار کرنے چاہیں 

میں سمجھتا ہوں کہ امریکہ اور یوپی یونین سے ہمارا ٹریڈ رہے مگر غلامی نہ ہو 


سو میں عمران خان کے حق میں ہوں 

یہ نظریہ ہے یہ بیانیہ ہے اور یہ ایجنڈا ہے سو اس ایجنڈے کا میں ساتھی ہوں 

مخالف پارٹی سے ایجنڈا مانگیں اور ان کو بھی جمہوری طور پر ایجنڈا تیار کر کے سامنے آنا چاہیے 

عوام شعور کو بیدار کرے اور سمجھے کہ جمہوری ایجنڈے ہوتے ہیں اور ایجنڈوں پر باپ بیٹے میں بھی اختلاف ہو سکتا ہے 

سو ایک نئے الیکشن کی طرف جائیں اور عوام کو فیصلہ کرنے کا اختیار دیں 

آرمی نیوٹرل رہے ، عوام باشعور ہونے کا مظاہرہ کرے ، 

طنزیہ کلام ، چھچھوری حرکتیں ، مزاحیہ پوسٹیں نہ کریں 

ایک بار ووٹ کی حد تک ملک سے مخلص ہو جائیں 

کچھ اچھی روایات کا آغاز کریں ممکن ہے کہ اگلے 70 سالوں میں ہم آزاد ہو جائیں 




سچ اپنی قیمت رکھتا ہے


 جو دھند تھی وہ چھٹ گئی اور حالات واضع ہو گئے 

یہ واضع ہو چکا ہے کہ عمران خان حکومت چند دنوں کی محتاج ہے اور ایک بار پھر عالمی طاقتیں ، پیسہ، طاقت ، نظریے کے سامنے بظاہر طاقت ور ہو گئی 

عمران خان جس وقت اسلام آباد میں تقریر کر رہے تھے اس وقت شاہ زین بگٹی کا بھی حکومت کو چھوڑنے کا اعلان حذب اختلاف کا وہ سرپرائیز تھا جو سیاسی طور پر عمران خان کو دیا گیا 

ایک طرف 22 کروڑ کی جہالت کو شعور میں بدلنے کی کوشش اور عالمی طاقتیوں کو اپنی ذات اور خدا پر یقین للکار رہا ہے اور دوسری طرف کل پیسہ ، پلاننگ ، اپنے تمام تر پھن پھلائے ہے 

یہ تاریخ انسان سے ثابت ہے کہ جتنا بڑا سچ ہوتا ہے اتنا بڑی قیمت ادا کرنی پڑتی ہے 

اگر سچ حسین ابن علی جتنا بڑا ہو تو سر نیزے پر چڑھتے ہیں 

اگر سچ ذوالفقار علی بھٹو جتنا بڑا ہو تو گردن میں پھندا ڈلتا ہے 

اور اگر سچ عمران خان جتنا بڑا ہو تو صرف حکومت جاتی ہے 

عمران خان نیازی کی یقین کی کیفیت اس کو سیاست کی پیچیدگیوں سے آزاد کر رہی ہے اور وہ بلاواسطہ اس کوشش میں ہے کہ میں اپنا مقدمہ عوام میں رکھوں اور عوام میں کہ جو پسی ہوئی ہے اور بے شعور ہونے کیساتھ منتشر بھی ہے اور اس کو حال میں نہ تو ماضی سے کشید کرنا آتا ہے اور نہ ہی مستقبل کا سودا کرنا ، بلکہ یہ عوام ہمیشہ اپنی وقتی زندگی میں اپنی ذاتی سانسوں تک کی خوشحالی تک کا سودا کرتی ہے 

ایسے میں ایک شخص 25 سال بعد پیدا ہونے والے شخص کی آزادی کو سوچ رہا ہے ظاہر ہے یہ سوچ آج کوئی نہیں خریدے گا 

بظاہر ایک بڑی ہار ہونے جا رہی ہے مگر ایک سچ جو ابھی بہت چھوٹا ہے ذوالفقار علی بھٹو کے سچ سے بھی چھوٹا ہے اس کو اس بار بہت چھوٹی قیمت یعنی صرف حکومت تک کی قربانی پر چھوڑ دیا جائے گا لیکن اگر صاحبان شعور کی اکثریت ہو گئی اور ہوا ایسی چل گئی کہ عمران خان کا نام برینڈ بن گیا اور وہ معیار بن گیا الیکشن کی جیت کا تو یقینا آپ لوگ دیکھیں گے کہ پھر یہ سچ ایک گولی کھائے گا اور ہمیشہ کے لیے ایسے ہی خاموش کروا دیا جائے گا جیسے بینظیر بھٹو کو کروا دیا گیا 


نجانے ہم مزید کتنی نسلوں تک اس سیٹ ایڈجسٹمنٹ میں جئیں گے اور کب تک ایک کی ایکسٹینشن اور ایک کی پرموشن کی خاطر حکومتوں کو اڑایا جائے گا ، نجانے کب تک انفرادی جنگ میں اجتماعی نقصان کرتے رہیں گے اور انسانوں پر حکمرانی کے شوق میں خود بھی غلام بن کر رہیں گے ، نجانے کب تک ہم لوگ اپنی آنکھ کی حوس کی خاطر کسی کے پیٹ کا لقمہ چھینتے رہیں گے اور ہر اجتماعی بڑا فائدہ انفرادی بہت چھوٹے پر قربان کرتے رہیں گے ، نجانے کم تک ہماری زندگیوں میں ایسے کمزور لمحے آتے رہیں گے جن کی سزا صدیاں بھگتتی رہیں گی 


آج ہم جو کچھ دیکھ اور بھگت رہے ہیں یہ وہ جہالت ہے جو ہم تک ہماری نسلوں سے اور ہم سے ہماری نسلوں کو جائے گی لیکن ایک وقت ضرور ایسا آئے گا جب عمران خان جیسے لوگ جو صدیوں کا اثاثہ ہیں وہ صدیوں میں اکیلے پیدا ہونے کے بجائے زمانے کی کوکھ سے درجن بھر جنم لیں گے اور یہ ڈر نہ ہو گا کہ یہ مر گیا تو کیا ہو گا ، تب تک ہم پر صرف یہ واجب ہے کہ جیسے بھی حالات میں ہوں پردے کے اندر جب بھی جائیں اور مہر لگائیں تو وہ مہر حق اور سچ اور پاکستان کی بقاء کو مدنظر رکھ کر ہو ، ہمارا یہ ہی جہاد ہے!


میرا یہ تاریخ کے کرداروں کو پڑھنے کے بعد یقین ہے کہ یقین سولی پر تو چڑھتا ہے مگر تاریخ میں زندہ رہتا ہے اور اس کی زندگی دائمی ہوتی ہے، عمران خان تاریخ میں اپنا نام لکھوانے کی خاطر دن بدن اپنی شہادت کے نزدیک ہوتا جا رہا ہے اور بہت جلد ایک سستی گولی اس ملک کے مستقبل کا سینہ چاک کر کے ہماری آئندہ نسلوں کی آزادی میں طویل چھید کر دے گی اور ہم اپنی جہالت پر ماتم کرنے کے بجائے پھر کسی آقا اور اس کی نسل کے سامنے ناچ رہے ہوں گے۔جبکہ ہماری آئندہ نسلیں ہم پر لعنت کر رہی ہوں گی کیونکہ ان تک یہ خط پرنٹڈ پہنچیں گے جو آج عمران خان کی جیب میں ہیں۔


پاکستان پائندہ باد


میں تمہارے ساتھ ہوں

 میرا اللہ گواہ ہے،


اگر انگریز حکومت ہوتی اور سارے میر جعفر ایک طرف ہوتے، ٹیپو سلطان کو ذلیل کرنے پر حکومتیں تل چکی ہوتیں تو میں ، ٹیپو سلطان کیساتھ ہوتا


اگر 1948 ہوتا اور اس ملک کے بڑے بڑے لوگ قائداعظم محمد علی جناح کو زہر دینے کے بارے میں سوچ رہے ہوتے تو میں اس ٹی بی کے مریض اور کمزور بدن والے شخص جناح کیساتھ ہوتا  


اگر 70 کی دہائی ہوتی اور پوری آمریت ، پوری فوج ، پوری طاقت ، پوری عدلیہ، بھٹو کو سولی پر چڑھانے کے بارے میں سوچ رہی ہوتی تو میں ذوالفقار علی بھٹو کیساتھ ہوتا 


باخدا ،

میں ان ادوار میں نہیں تھا اور میں ان ادوار میں ان شخصیات کے مخالف رہنے والوں پر لعنت کرتا ہوں اور میں ان ادوار میں مندرجہ بالا شخصیات کی مخالفت کرنے والوں کو دشمنان پاکستان سمجھتا ہوں 


یہ 2022 ہے اور اب میں ہوں سو میں قطعی نہیں چاہتا کہ یہ شخص جو آج بلکل ویسی ہی طاقتوں سے الجھا ہوا ہے


 جیسی طاقتیں ٹیپو سلطان کے خلاف تھیں ، 

جیسی طاقتیں "محمد علی جناح" کے خلاف تھیں ،

جیسی طاقتیں ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف تھیں، 


تو ایسے میں ، میں قطعی یہ نہیں چاہوں گا کہ آئندہ نسلیں جب اس تاریخ کو پڑھیں ، جس میں عمران خان ہار جائے ، یا عمران خان مار کھائے، یا عمران خان پھانسی لگ جائے ، یا عمران خان ہٹا دیا جائے ، تو میں بطور محسن رفیق اس ملک کے دشمن عناصر کے ساتھ کھڑا ہوں ، اور آئندہ نسلیں جب ملک دشمنوں پر لعنت ڈالیں تو وہ لعنت مجھ تک نہ آئے ،

کل کا نہیں پتہ ، ممکن ہے عمران خان غلط ہو جائے ، 

آج کا بھی نہیں پتہ ، کہ عمران خان راہ سے بھٹک


جائے ،

گزرے کل کا پتہ ہے کئی فیصلے عمران خان سے غلط بھی ہوئے،

تاہم جب تک عمران خان مجھے مخلص لگتا ہے اور میں عمران خان کو باقی تمام سیاست دانوں سے زیادہ بہتر آپشن پاکستان کی خاطر سمجھتا ہوں، عمران خان کی حمایت کا اعلان کرتا ہوں ، 


اور باخدا ، میں یہ فیصلہ صرف ملک کے وسیع تر مفادات میں لے رہا ہوں ، حالانکہ میرا اسمبلی میں ووٹ کوئی نہیں

ٹماٹر گملے میں کیسے اگائیں

 ٹماٹر گملے میں کیسے اگائیں ‼️

تحریر و:- محمد محسن

@Muhamad__Mohsin

زمین کی نسبت گملے میں ٹماٹر اگانا تھوڑا مشکل ہے کیوں کہ زمین پودے کے لیے ایک قدرتی جگہ ہے ۔زمین سے پودا بہت سی غذائیت باآسانی حاصل کر لیتا ہے جو گملے سے حاصل نہیں کرپاتا۔گملے میں جگہ بہت محدود ہوتی ہے اور غذائیت بھی۔ تو گملے میں غذائیت کہ لیے باہر سے خوراک مہیا کرنی پڑتی ہیں۔

اگانے کا طریقہ۔

ٹماٹر اگانے کہ لیے اچھی نسل کے بیج حاصل کریں ۔ٹماٹر کی بے تہاشا اقسام ہیں۔جس میں مختلف جسامت اور رنگ شامل ہیں۔ٹماٹر کہ بیج آپ 7 سے 8 انچ کے گملے میں لگا کر اس کی پنیری بناسکتے ہیں۔ٹماٹر کہ بیج لگانے کے لیے اکتوبر ۔نومبر اور فروری مارچ بہترین ہیں ۔ٹماٹر سارا سال اگتا ہے لیکن زیادہ سردی میں کورے سے بچانے کے لیے پلاسٹک کور اور زیادہ گرمی سے بچانے کے لیے گرین نیٹ کا استعمال کرنا پڑتا ہے۔ٹماٹر کی پنیری تیار ہونے کہ بعد آپ اسے بڑے گملوں میں منتقل کردیں کم ازکم گملہ کا سائز 10 انچ ہو اور 16 انچ بہترین ہے۔

ٹماٹر کو سہارے کی ضرورت ہوتی ہے تو وقت کی ساتھ اسے کسی ڈوری یا سٹک کے ساتھ باندھتے جائے۔

مٹی کی تیاری۔

ٹماٹر کی مٹی بنانے کے لیے 50% بھل مٹی 30% پتوں کی کھاد اور 20% گوبر کھاد استعمال کریں۔ٹماٹر کو گملے میں شدید قسم کی کیلشیم کی کمی کا سامنا کرنا پڑتا ہے جو کہ ٹماٹر کے گلنے کا باعث بنتا ہے جس کو بلوسم اینڈ روٹ کہتے ہیں۔اس سے بچانے کے لیے مٹی بناتے ہوئے انڈوں کے چھلکے پیس کے ڈالدیں۔

ٹماٹر کہ پودے پہ مدر پلانٹ کہ ساتھ برانچز کہ درمیان نئے پودے بننا شروع ہوجاتے ہیں جن کو الگ کردینا چائیے کیوں کہ وہ پودے کی غذائیت کو اگے جانے نہیں دیتے اور پھل چھوٹا بنتا ہے ان سکرز کو الگ کر کے اگر مٹی میں لگا دیا جائے تو نئے پودے تیار ہو جاتے ہیں۔

پانی۔ٹماٹر کے پودے کو پانی نارمل دینا چائیے ۔پھول اور پھل آنے پر پانی کم کردینا چائیے۔جب تمام پھول پھل میں تبدیل ہو جائے اور پھل کا سائز فالسے جتنا ہو جائے تو پانی دوبارہ نارمل کردیں۔


بیماریاں‼️۔ٹماٹر کو لیف مائنر کا اٹیک بہت ہوتا ہے ۔اس کہ علاوہ میلی بگز ۔کالا تیلہ ۔تدارک کے لیے نیم آئل ایک سپون اور لیقوڈ ڈش واشر ہاف سپون ایک لیٹر پانی میں مکس کر کے سپرے کردیں ۔اگلے دن سادے پانی سے صاف کردیں۔

ٹماٹر کو لیف کرل وائرس کا حملہ بھی ہوتا ہے جو سفید مکھی لے کر آتی ہے جس کا علاج ممکن نہیں اس صورت میں ایسے پودے کو فوری تلف کردینا چائیے تاکہ وائرس مزید نہ پھیلے۔

ٹماٹر کہ پودے دو قسم کہ ہوتے ہیں ۔ڈیٹرمینٹ اور انڈٹرمینیٹ ۔ڈیٹرمینیٹ پودے ایک ساتھ تمام پھل دیتے ہیں جب کہ انڈٹرمینیٹ مختلف اوقات میں اور ان کے پودے کا سائز بہت بڑا ہوتا ہے ۔

ٹماٹر کے پودے تقریباً 6 مہینے چلتے ہیں اس کے بعد اگر آپ کو ٹماٹر چاہیے ہوں تو دوبارہ بیج لگادیئے جاتے ہیں۔


 

کھڈی لائن !

میں کبھی بھی نہیں چاہتا تھا کہ اس مرد مجاہد پر لکھوں کم سے کم اس وقت تو کبھی بھی نہ لکھوں جب تک یہ طاقت کا سرچشمہ ہیں اور ان کی تعریف میں بط...