کھلا خط بنام قمر جاوید باجوہ صاحب

 کھلا خط بنام قمر جاوید باجوہ صاحب

 


GHQ Rawalpindi  

میرے سپاہ سالار ، 

خیریت موجود نہیں ہے مگر خیریت مطلوب ضرور ہے اور اس ملک کے یہ حالات جو اس وقت دیکھنے کو مل رہے ہیں یہ وہ حالات ہیں جو پاکستان کی 75 سالہ تاریخ کے منفرد حالات ہیں ، آپ جانتے ہیں کہ ہر رہنما اب تک قائداعظم و لیاقت علی خان کے بعد اسی ادارے کی کوکھ سے نکلا جس ادارے کی کوکھ سے عمران خان نکلا اور بھٹو صاحب اور نواز شریف صاحب بھی اسی ادارے کے کمزور لمحوں کی باقیات ہیں، یہ کھلی حقیقتیں ہیں اور فوج کے پے رول پر رہنے والے لوگ بعد ازاں عوامی بنے اور عوام کے نام پر پھر فوج پر بھی بولے جس میں فوج کا بھی قصور تھا ، ایوب و یحیی ، ضیاء و مشرف کی جانب سے ترقی بھی زیادتی تھی ، اور سیاست دانوں کا فوجیوں کی گود میں بیٹھنے کے بعد معروف ہونے پر پھر فوج کی داڑھی نوچنا بھی غلط تھا ، مگر جس چیز کی بنیاد غلط ہو اس کا اختتام بھی غلط ہوتا ہے


میرے سپہ سالار ،

یہ کرکٹر اور پٹھان کا بچہ کوئی وزیراعظم والا اعتبار نہ رکھتا تھا نہ تیار تھا اور نہ ہی شریف خاندان کے مقدر کا ستارا اس قدر بلند تھا کہ وزارت کی اہلیت پر جگمگاتا اور نہ ہی زرداری کے گھر بھٹو پیدا ہونا تھا اگر فوج کی مرضی نہ ہوتی لیکن یہ رہنما آپ کے اس مقدس ادارے نے پیدا کیے اور پروان چڑھائے لیکن عظیم سالار ، کبھی اس بات کو بھی سوچیں کہ یہ لوگ آج کے سنجیدہ اور بہترین سیاست دان بن گئے اپنی غلطیوں سے سیکھنے کے بعد اور ان کو اس بات کا علم ہو گیا کہ فوج کو سیاست میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے تو فوج نے سابقہ غلطیوں سے کیوں کچھ نہیں سیکھا؟ 


عمران خان آپ کی کل کی مداخلت کا نتیجہ ہے اور یہ ایک اٹل حقیقت ہے لیکن اس نے پاکستان کی پاسبانی اور سالمیت کا حقیقی چغہ پہن کر آج دنیا کو پاکستان کو اور ہر انسان کو اپنا گرویدہ بنا لیا ہے اور آج اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ ایک واحد تنہا اکیلا شخص ہر سپریم ادارے کی جان کنی کے مرحلے سے گزار رہا ہے ، لیکن اس میں کچھ بھی نہیں کیونکہ سیاست دان باعزت کب ہوئے ہیں اس ملک میں اس کا نظریہ عزت دار ہے اور غیور ہے اور اس نظریے نے اس کو غیور بنا دیا ہے ، اور آج کے دن میں اگر وہ نہ رہے تب بھی وہ ہمیشہ کی تاریخ میں ہر جرنیل اور ہر سیاست دان سے بڑھ کر زندہ رہے گا 


میرے سپاہ سالار ،

نجانے کیوں میں جب جب جناب کو دیکھتا ہوں مجھ کو ایک عجیب سی امید نظر آتی ہے آپ میں کہ ایک مدت بعد ہم کو ایسا جرنیل ملا ہے جو فوج کی تاریخ کو بدل کر امر ہو سکتا ہے ، 

میرے نڈر ،

تیری جرات کی ہتھیلی میں وہ لکیر نمایاں ہے کہ جہاں ایک فئیر الیکشن سے پاکستان کا مقدر بدلوانے والوں کی فہرست میں آپ کا نام بھی آ سکتا ہے جو عدم اعتماد سے داغدار ہوا ہے اور جس کی وضاحتیں دینی پڑ رہی ہیں 

میرے جرات مند ،

29 نومبر سے پہلے پہلے وہ وقت ہے جو دائمی خاندانی عزت کا سبب بھی بن سکتا ہے اور ذلت کا باعث بھی 

میرے تمغہ بردار ،

اپنی غلطیوں سے سیکھ کر جیسے یہ بیانیہ دلوایا ہے کہ اب ملک میں کبھی مارشل لاء نہیں لگے گا یہ بھی کنٹرول لیکر کوشش کر کے اس کا سہرا بھی اپنے سر باندھ لو کہ اب کبھی الیکشن میں دھاندلی نہیں ہو گی 


یقین کریں ، اس ملک کی بہتری کی خاطر تھوڑی سی جرات اگر عمران خان کے ساتھ یہ عوامی سمندر کھڑا کر سکتی ہے تو فوج تو اس قوم کو اپنی ماں سے بھی زیادہ پیاری ہے ، یہ قوم آپ کی نسلوں تک کی غلام رہے گی 

اب وقت ہے اور آج اختیار ہے 

ہمت ، حوصلہ ، جرات ، غیرت 

اگر ایک سپاہی یا ایک مرد میدان نہ کرے گا تو پھر کون کرے گا 


ایک قوم سے خطاب کر کے ملک کو اس غیر یقینی صورت حال سے نکالنے کے لیے ایک بھرپور خطاب کر لو ایسا خطاب جس میں مارشل لاء نہ ہو مگر مارشل الیکشن کا اعلان کر کے اس قوم کی گود میں اس قوم کا فیصلہ کرنے کا اختیار ڈال دو 


آپ کا ایک جرات مندانہ فیصلہ اس ملک کو تا قیامت سیاسی راہ پر ڈال دے گا اور ایوب خان سے لیکر پرویز مشرف تک کے گناہ ڈھل بھی جائیں گے اور پاکستان کے جھنڈے کے ساتھ آپ کی تصاویر بھی ہر پاکستانی اٹھا لے گا اور اپنی نسلیں بھی سر اٹھا کر چلیں گی


آج سنہرا موقع ہے اس قوم کی سیاسی بانجھ کوکھ کو پھر سے ہرا کر دیں ممکن ہے ہم کل کو ایک لیڈر پیدا کر سکیں، جس پر بھٹو ، نواز شریف اور عمران خان کی طرح کوئی فوجی گود کا ٹیگ نہ ہو بلکہ اس پر جنرل قمر جاوید باجوہ کا سیاسی آزادی کا احسان ہو اور وہ ہم میں سے اوپر آئے نہ کہ لٹیروں کی نسلوں کا علمبردار ہو


آپ کے پاس 7 ماہ ہیں پاکستان کی تاریخ میں ہمیشہ ہمیشہ کی زندگی پانے کے لیے جو صرف ایک جرات کے متقاضی ہیں کر جائیں تو آپ عمران خان سے بڑھ کر پوجےجائیں گے قبر کی آسائشیں الگ سے کہ یہ عوام مزید پسنہ نہیں چاہتی ، دبنا نہیں چاہتی ، مگر ایک آپ کے پاس طاقت ہے اور ہر ایک کی نظر صرف آپ کے اختیار کے درست استعمال پر ٹکی ہے 


والسلام 

ایک ادنیٰ پاکستانی 


کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

کھڈی لائن !

میں کبھی بھی نہیں چاہتا تھا کہ اس مرد مجاہد پر لکھوں کم سے کم اس وقت تو کبھی بھی نہ لکھوں جب تک یہ طاقت کا سرچشمہ ہیں اور ان کی تعریف میں بط...