غزل


تم میرے نہیں ہو تُو بتا کیوں نہیں دیتے

جب پیار نہیں تھا تو بھلا کیوں نہیں دیتے  

خط کس لئے رکھے ہیں جلا کیوں نہیں دیتے

کس واسطے لکھا ہے ہتھیلی پے میرا نام 

میں حرف غلط ہوں تو مٹا کیوں نہیں دیتے 

للہ شب وروز کی الجھن سے نکالو  

تم میرے نہیں ہو تو بتا کیوں نہیں دیتے 

رہ رہ کے نا تڑپاؤ اے بے درد مسیحا 

ہاتھوں سے مجھے زہر پلا کیوں نہیں دیتے 

جب میری وفاؤں پے یقین تم کو نہیں ہے  

حسرت کو نگاہوں سے گرا کیوں نہیں دیتے

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

کھڈی لائن !

میں کبھی بھی نہیں چاہتا تھا کہ اس مرد مجاہد پر لکھوں کم سے کم اس وقت تو کبھی بھی نہ لکھوں جب تک یہ طاقت کا سرچشمہ ہیں اور ان کی تعریف میں بط...