"معاشی غلامی۔۔۔۔آخر کب تک؟"
تحریر:- محمد محسن
@Muhamad__Mohsin
کسی بھی ملک کے عوام الناس کو ایک قوم بننے کے لیے
زیادہ سے زیادہ پچاس سال کا عرصہ درکار ہوتا ہے۔ پچاس سال کا مطلب یہ نہیں کہ وہ ان پچاس سالوں میں عروج کی بلندیوں کو چھونے لگتے ہیں بلکہ ان پچاس سالوں میں ان کو کوئی نہ کوئی ایسا کرشماتی لیڈر ضرور میسر آ جاتا ہے جو ان مختلف قبائل میں بٹے عوام کو ایک قومی دھارے میں ڈھال دیتا ہے۔ آپ چین کو لے لیں، سنگاپور کو دیکھ یا پھر ملائشیا کی مثال لے لیں۔ ان تمام ممالک کو پچاس سال کے لگ بھگ کوئی نہ کوئی ایسا کرشماتی لیڈر میسر آگیا جس نے ان ممالک کو ترقی کی پٹری پر چڑھا دیا جس کی بدولت یہ ممالک آہستہ آہستہ ترقی کی سیڑھی کے زینے چڑھتے گئے اور آج ان کی ترقی کی مثالیں دنیا دیتی ہے۔ آج ان ممالک کے لیڈران تو نہیں رہے لیکن ان کی لگائی ہوئی کھیتی سے ترقی کی فصلیں ان کے لوگ کاٹ رہے ہیں۔
لیکن دوسری جانب ہمارے ملک پاکستان کی کہانی اس کے برعکس ہے۔ پاکستان شاید دنیا کی چند ایک ان ممالک میں شامل ہے جن کو آزاد ہوئے تقریباً پچھتر سال ہوگئے ہیں لیکن ابھی تک یہ اپنی سمت ہی درست نہیں کر سکے کہ آخر ان کو کرنا کیا ہے؟ کس جانب جانا ہے؟ خارجہ پالیسی کو کیسے ترتیب دینا ہے؟ معیشت کو کس سمت لے کے جانا ہے؟ کیسے معاشی غلامی سے نجات حاصل کرنا ہے؟ کون کون سے کاروبارں کو فروغ دینا ہے؟ کس طرح اپنے تعلیمی نظام کو مضبوط کرنا ہے؟ انڈسٹری اور تعلیمی اداروں میں تعلقات کیسے پیدا کرنے ہیں؟ کیسے سیاسی پختگی کی جانب بڑھنا ہے اور کس طرح اپنے عوام کو ذہنی غلامی سے نجات دلوانی ہے؟ ان سب پہلوؤں کو بالعموم اور معاشی پہلو کو بالخصوص جانچنے کے لیے آئیں ذرا پاکستان کی تاریخ کا تھوڑا بہت معاشی جائزہ لیتے ہیں کہ کیوں آج تقریباً پچھتر سال گزرنے کے بعد بھی ہم معاشی طور پر وہیں کے وہیں کھڑے ہیں جہاں بیسویں صدی کے نصف میں تھے۔ کیوں ہم مختلف ممالک سے ہوتے ہوئے آج بھی معاشی طور پر سعودی عرب، امریکہ اور چین وغیرہ کے مرہونِ منت ہیں۔
تو کہانی کچھ یوں ہے کہ جب بھی کوئی نیا ملک بنتا ہے تو اسے کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور جب پاکستان جیسا ملک ہو جسکی پیدائش ہی اس کے ازلی دشمن سے ہوتی ہے تو مسائل مذید بڑھ جاتے ہیں۔ انہی وجوہات کی بنا پر تب شروع سے ہی پاکستان کو برطانیہ اور بعد میں امریکی امداد پر انحصار کرنا پڑا۔ قائد اعظم اور لیاقت علی خان سے جیسے جید لیڈران کا یکے بعد دیگرے رخصت ہونا پاکستان کی مشکلات میں مزید اضافے کا باعث بنا۔ پاکستان کو چاہتے نہ چاہتے ہوئے امریکہ کے ساتھ مختلف الائنسز میں اتحاد کرنا پڑا تاکہ اسے کسی نہ کسی طرح فوجی اور مالی امداد مل سکے۔
مسلم ممالک نے ویسے تو شروع دن سے ہی پاکستان کو ایک نومولود بچے کی طرح اپنے ہاتھوں میں اٹھایا خاص طور پر ایران، سعودی عرب وغیرہ نے سوائے ایک افغانستان کے جس نے اپنا رولا ڈال دیا۔ سعودی عرب تحریک پاکستان کے دور سے ہی مسلم لیگ کے کارکنوں کا مختلف بین الاقوامی فورمز پر دلجمعی سے استقبال کرتا تھا لیکن جونہی پاکستان معرض وجود میں آیا اور شاہ ایران کے پاکستان کے ساتھ قریبی تعلقات قائم ہوئے شاید اسی وجہ سعودی عرب تھوڑا بیک فٹ پر چلا گیا۔ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات ساٹھ کی دہائی میں قائم ہوئے جو پاکستان انڈیا جنگوں میں مزید اہمیت اختیار کرتے چلے گئے۔ سعودی عرب نے ان جنگوں میں پاکستان کا ساتھ دیا اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ معاشی اور فوجی تعلقات گہرے ہوتے چلے گئے۔
پاکستان-بھارت جنگوں کے بعد جہاں پاکستان اور امریکہ میں دوریاں بڑھیں وہیں پاکستان اور سوویت یونین میں قریبی روابط بھی قائم ہوئے۔ وہ روس جس کو پچیس سال پہلے پاکستان امریکہ کی خاطر ٹھکرا چکا تھا ایک بار پھر پاکستان کے قریب ہوا اور اب کی بار اسے معاشی لحاظ سے پاکستان نے چنا اور وہ خلا پر کیا جو امریکی سرد مہری سے پیدا ہوا تھا۔ اس کے ساتھ ساتھ پاکستان نے چین اور سعودی عرب کے ساتھ معاشی تعلقات قائم کیے رکھے جو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مضبوط سے مضبوط تر ہوتے چلے گئے۔
بیسویں صدی کی آخری دو دہائیوں پاکستان کے لیے بہت اہم ثابت ہوئیں کیونکہ اس دوران پھر پاکستان معاشی تذبذب کا شکار ہوا کبھی سوویت یونین اور کبھی امریکہ۔ بھائی سادہ سی بات ہے لیاقت علی خان کے گزر جانے کے بعد جس ملک نے ہماری مدد کی حامی بھری ہم اسی کے ہوگئے چاہے اس حقیر سی امداد کے بدلے میں پاکستان کو کئی گنا قیمت چکانا پڑی۔ سعودی عرب کو ایک کریڈٹ ضرور جاتا ہے اور کریڈٹ دینا بھی چاہیے کہ اس نے ہمیشہ پاکستان کی ان حالات میں مدد کی جب پاکستان پر سارے دروازے بند ہوگئے وہ چاہے جنگوں کی حالت میں ہو، ایٹمی
پروگرام کی وجہ ہو یا پھر بین الاقوامی پانبدیاں۔
دوسری جانب چین وہ دوسرا پائیدار پاکستانی دوست ہے جس نے ہمیشہ سعودی عرب کی طرح پاکستان کا فوجی اور معاشی لحاظ سے ساتھ دیا۔ انہوں نے ہمیشہ کشمیر ایشو پر پاکستان مؤقف کی حمایت کی اور بدلے میں پاکستان نے بھی ان دونوں ممالک کا ہر ممکن ساتھ دیا۔ سعودی عرب کی ہر ممکنہ فوجی مدد کی چاہے وہ خانہ کعبہ والا معاملہ ہو یا عراق کی جنگ کا مسئلہ پاکستان ہر بار سیسہ پلائی دیوار کی طرح سعودی عرب کے دفاع میں کھڑا ہو گیا۔
سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کا اصل ایشو تب بنتا ہے جب اس نے ہمیشہ کی طرح پاکستان سے فوجی امداد کی ڈیمانڈ کی لیکن اس بار پاکستان تھوڑا ہچکچایا کیونکہ اب کی بار فوجی امداد کی ڈیمانڈ ایک غریب مسلم برادر ملک یمن کے لیے کی جا رہی تھی جس کی وجہ سے پاکستان نے یہ معاملہ پارلیمنٹ میں پیش کر کے اس سے انکار پر دیا۔ بس پھر کیا ہونا تھا سعودی حکومت پاکستان پر بھڑک اٹھی کیونکہ ہم اسے اپنا مسلم برادر ملک سمجھتے ہیں لیکن جتنا مرضی آپ مولڈ کر کے بیان کر لیں یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ وہ ہمیں اپنا غلام ہی سمجھتے ہیں جس کے حکم کے آگے ہمیں اپنا سر خم کرنا ہی پڑتا ہے۔ اس انکار کے بعد سعودی حکومت نواز شریف حکومت سے ناراض ہوگئی اور وقتی طور پر مالی امداد والا چیپٹر بھی کلوز تقریباً ڈیڑھ ارب ڈالر جو پاکستان کو دئیے تھے ان کی واپسی کی بھی ڈیمانڈ۔
خیر پھر عمران خان آیا اور اس کا پہلا غیر ملکی دورہ ہی سعودی عرب کا ہوا جس کا سعودی عرب میں گرمجوشی سے استقبال کیا گیا۔ اب کی بار نہ صرف سعودی عرب بلکہ متحدہ عرب امارات کے ساتھ بھی پاکستان کے تعلقات معمول پر آئے اور ایسے لگ رہا تھا اب پاکستان اور مڈل ایسٹ کا آقاء اور غلام والا قصہ بھی تمام ہو گا لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ثابت ہوگیا کہ جہاں ایک دفعہ آپکا وقار جاتا رہا اس کو دوبارہ بحال کرنے کے لیے دہائیاں درکار ہوتی ہیں۔ سعودی عرب نے یمن میں پاکستانی فوج کے انکار بدلہ اس پاکستانی دور حکومت میں لیا جب پاکستان چیخ چیخ کر بیٹھ گیا لیکن کشمیر پر ایک بھی او آئی سی کا اجلاس طلب نہ کیا گیا اور پاکستانی وزیر خارجہ کے بیان پر الٹا انہوں نے پاکستان کو دیئے گئے تین ارب ڈالر واپس مانگ لیے جو چین نے فوراً پاکستان کو دے دئیے۔
تب لگا کہ شاید اب پاکستان ان معاشی چنگل سے جان چھڑانے میں کامیاب ہو جائے گا چاہے عوام کو تنگی کے حالات دیکھنا پڑیں۔ لیکن اب ایک بار پھر پاکستانی عوام کا یہ والا خواب بھی چکنا چور تب ہوا جب تقریباً ایک سال بعد پھر پاکستانی وزیر اعظم سعودی عرب گیا اور پھر چار ارب ڈالر کی ایک نئی ڈیل کر آیا۔ سوال یہ ہے کہ جب آپ کو پتہ ہے کہ آپ کی معیشت کو بیس پچیس ارب ڈالر کی ضرورت رہتی ہے تو پھر آپ اس کی پراپر پلاننگ کیوں نہیں کرتے؟ آپ پھر ان ممالک کو آنکھیں کس بل بوتے پر دکھاتے ہو جو ہمیشہ آپ کی مشکل حالات میں مدد کرتے ہیں؟ آپ کوئی ایسی معاشی پالیسی کیوں نہیں اپناتے جس کی بدولت آپ مزید دس بیس سالوں میں ان بیس پچیس ارب ڈالر غیر ملکی قرضوں سے جان چھڑا سکیں؟ سوال یہ ہے کہ ہمیں کب تک یہ ذلت برداشت کرنا پڑے گی؟ ہم کب تک دوسروں کے مرہونِ منت رہیں گے؟ کب تک دوسروں کے اشاروں پر ناچتے رہیں گے؟ سوال یہ ہے کہ ہمارا ماؤزے تنگ کب آئے گا؟ ہمیں کب پاکستانی مہاتیر محمد میسر آئے گا؟ ہمیں کب کوئی لی کون یی ملے گا جو ہمیں معاشی محرمیوں سے باہر نکالے گا اور پاکستان بھی ترقی یافتہ ممالک میں شامل ہو گا؟ آخر ہم کب تک ہاتھ میں کٹورا لیے اس طرح دربدر بھٹکتے پھریں گے؟ آخر کب تک......
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں