افسوس کوئی تو ہوتا۔۔۔۔”
تحریر:- محمد محسن
@Muhamad__Mohsin
وہ جی ان شاہی خاندانوں کے ریت روایت کو ترک کر کے ایک عوام الناس کی حکومت قائم کی جائے گی۔۔۔۔۔ ہو گئی قائم؟ جی معاشی استحکام قائم کیا جائے گا۔۔۔۔ آگیا معاشی استحکام؟ چوروں لٹیروں اور ڈاکوؤں کو پکڑ کر پانبد سلاسل کیا جائے گا۔۔۔۔۔ جی ہو گئے جیل میں قید؟ کرپشن اور چور بازاری کا گلا گھونٹا جائے گا۔۔۔ہوگیا کرپشن کا خاتمہ؟ وہ جی آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے پاس کبھی نہیں جائیں گے۔۔۔ہو گیا یہ سب بھی؟ ملک میں غریب نہیں رہیں گے۔۔۔ہو گیا غربت کا خاتمہ؟ اداروں میں استحکام پیدا ہو گا۔۔۔۔ہو گیا استحکام؟ ملکی تاریخ کی سب سے چھوٹی کابینہ بنائی جائے۔۔۔جی بن گئی چھوٹی کابینہ؟
کرپٹ وزراء اور سیاستدان کی اس دور میں کوئی گنجائش نہیں ہوگی۔۔۔۔جی ان کی سیاست کا ہو گیا خاتمہ؟ ملکی اثاثہ جات جو ودیشی بینکوں میں پڑے ہیں واپس لائے جائیں گے۔۔۔آ گئے واپس؟ ملکی قرضہ چٹکیوں میں اتارا جائے گا۔۔۔جی اتر گیا قرضہ؟ اہل لوگوں کو نوکریاں دی جائیں گی۔۔۔جی مل گئی اہل لوگوں کو نوکریاں؟ لاکھوں نوکریاں، کروڑوں گھر دئیے جائیں گے۔۔۔جی مل گئے گھر اور نوکریاں؟ میرٹ پر انصاف قائم کیا جائے گا۔۔۔۔جی ہو گیا قائم انصاف؟ خود پارلیمنٹ میں جایا کروں گا اور اپنے آپ کو عوامی نمائندوں کے سامنے پیش کروں گا۔۔۔۔جی ہو گیا؟ باہر کے ممالک سے لوگ یہاں آکر نوکریاں کریں۔۔۔۔ جی آگئے پاکستان واپس؟ مل گئی نوکریاں؟ تمام توشہ خانہ کیسز میں ملنے والے تحائف ملکی اثاثہ جات ہیں۔۔۔۔ جی یہ سب اثاثہ جات مل گئے پاکستان کو؟ پنجاب کے سب سے بڑے ڈاکوؤں کو جیل میں ڈالوں گا..جی ڈال دیا جیل میں؟ ایم کیو ایم بھتہ خوروں کے ساتھ کبھی نہیں بیٹھوں گا جی ہو گیا آپ کا سب؟…….. اور ایسے کئی سوالات جو مجھ جیسے کے ذہن میں بار بار آتے ہیں اور کوستے رہتے ہیں کہ آخر ہم کیا کریں؟ کہاں جائیں؟ کدھر جائیں؟ کس پر بھروسہ کریں؟ کوئی تو ہو جو اس عوام کا ہو، جو ان پاکستانیوں کا بھی سہارا بنے، جو ان کے لیے درد دل رکھتا ہو، جو عام پاکستانی کی زندگی کا کرب دیکھتا سنتا اور جانتا ہو؟ کوئی تو ہو جو ان پسے ہوئے لوگوں کے دکھوں کا مداوا کر سکے، جو ان کو انگلی پکڑ کر ترقی کے ٹریک پر رواں دواں کرے۔ کوئی تو ہو جو اپنا سب صرف اور صرف اس وطن عزیز کی بہتری پر قربان کر سکے۔ جو اپنا آج وطن عزیز کے کل کے لیے قربان کر سکے؟ افسوس کوئی تو ہو۔۔۔۔کوئی تو ہو۔۔۔۔
2011 سے پاکستانیوں کے ذہنوں پر ایک ایسا جنون سوار ہوا کہ اب وہ آگیا جس کا اس ملک کو پچھلے ستر سالوں سے انتظار تھا۔ وہ ہیرو ان کو عمران خان کی شکل میں مل گیا۔ اب دیکھنا یہاں دودھ کی نہریں بہیں گی۔ اب انصاف کا بھول بھالا ہو گا۔ اب لوگ اپنی زندگیاں اپنی مرضی سے جی سکیں گے۔ اب کوئی چور اچکا بدمعاش کسی بھولے بھالے انسان کو تنگ نہیں کرے گا۔ اب ہمارا ملک غیر ملکی قرضوں سے کے چنگل سے نکل جائے گا۔ اب کو شہزادہ یا شہزادی آپ پر حکومت نہیں کرے گا بلکہ اب آپ کے منتخب نمائندوں ہی اسمبلیوں میں جائیں اور عوام کے فیصلے عوام کی امنگوں کے مطابق ہوا کریں گے۔ اب آپ کو انصاف کے لیے تھانے کچہریوں میں دھکے نہیں کھانے پڑیں گے بلکہ اب عوام کو عزت و احترام کے ساتھ تھانوں اور کورٹ کچہری میں بٹھایا جائے گا اور میرٹ پر فیصلے ہوں گے۔ پاکستانیوں کی تمام تر خواہشات نیو کانسٹیٹیوشن والے استاد منگو والی تھیں جو سوچتا تھا کہ نئے آئین کے ساتھ ہی سب کچھ بدل جائے گا لیکن افسوس ایسا کچھ نہیں ہوا کیونکہ اگلے دن وہ وہی تانگے والا ہی رہا اور گوروں کا راج بھی جوں کا توں رہا۔
اس دور کا بھی پہلا سحر تو تب ٹوٹا جب عام لوگوں کی بجائے ٹکٹوں کی بندر بانٹ ہوئی اور ہمیشہ کی طرح یہ بندر بانٹ انہی روایتی ایلیکٹیبلز کے ہاتھوں میں ہی آئ جو پہلے ہوا کرتی تھی۔ پہلے پہل تو جب کراچی سے منتخب ایک اسمبلی ممبر نے استاد کے ساتھ بدتمیزی کا معافی مانگ کر خمیازہ بھگتا تو سچی میں لگا کہ اب پاکستان بدل جائے گا۔ اب پاکستان کی روایتی سیاسی نورا کشتی تبدیل ہو جائے گی، اب واقعی تبدیلی آئے گی لیکن افسوس کہ یہ خواب خواب ہی رہا جو ہنوز شرمندہ تعبیر نہ ہو سکا۔ وہی پنجاب کے سب سے بڑے ڈاکوؤں کو ساتھ بٹھایا گیا۔ انہی بھتہ خوروں کی جماعت سے قانونی وزیر بنایا گیا۔ ملکی تاریخ کی سب سے بڑی کابینہ بنائی گئی۔ پنجاب کے سب سے اہم اور بڑے صوبے کی باگ ڈور ایک ایسے انسان کے حوالے کی گئی جس کو آج تک نہ عوام نے تسلیم کیا اور نہ کابینہ نے۔
میرٹ کی دھجیاں بکھیری گئیں۔ جہاں جہاں ہو سکا اپنے اپنے عزیزوں کو ایڈجسٹ کیا گیا۔ ایک خاتون وفاقی وزیر کی بہن کو ایک اہم ادارے کی تب سربراہ بنایا گیا جب ابھی اس کی پی ایچ ڈی مکمل نہیں تھی جس کو بیس بنا کر اس سیٹ کی بندر بانٹ کی گئی۔ ایک ودیشی پاکستانی کو سب سے قریب رکھا گیا اور پاکستان کے کلیدی معاملات اس کے سپرد کیے گئے جو پاکستان سے زیادہ دوسرے ممالک میں رہا۔ کرپشن پہلے بھی ہوتی تھی لیکن اب کی بار تو اس کے روک تھام کے نام پر کرپشن کا وہ بازار گرم ہوا کہ رہے رب کا نام۔ آج تک اس بات سے دل کو تسلی دیتے آئے چلو وزراء کو چھوڑیں خود تو ایماندار ہے لیکن جب سے توشہ خانہ کیسز کے متعلق نیا اعلان سنا تو یہ معاملہ بھی جاتا رہا کہ اب اور کیا؟ ٹھیک ہے پاکستانی معیشت آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے بغیر نہیں چل سکتی مجبوری ہے ان سے ڈیل کرنا لیکن توشہ خانہ کیس میں کیا مجبوری؟ ایسا کون سا ملکی راز جو اس سے فاش ہو گیا؟
ایاز میر بجا فرماتے ہیں کہ اس سے پہلے ان کی جینریشن بھٹو کے سحر میں مبتلا ہوئی تھی اسی طرح ہماری نسل خان کے سحر سے ڈسی گئی۔ تب انہیں بھٹو کے سوا کچھ نظر نہیں آتا تھا تو اس پچھلے عشرے میں وہی حال ہماری جینریشن کا ہوا۔ کچھ عرصہ کے بعد جیسے ایاز میر کی نسل کے سر سے بھٹو کا سحر اترا اسی طرح اب ہماری نسل کے دماغوں سے کافی حد تک یہ عہد بھی تمام ہوتا نظر آرہا ہے۔ دوسری جانب خورشید ندیم کے مطابق یہ ایسا چورن ہے جو ہر بیس سال بعد بیچا جاتا اور نئی نسل کو پتہ نہیں ہوتا کہ یہ چورن پہلے بھی بیچا جا چکا ہے لیکن وقت گزرنے کے ساتھ وہ سب جان چکے ہوتے ہیں لیکن تب تک وقت گزر چکا ہوتا ہے۔
افسوس اس کا نہیں کہ یہ سب بلند و بانگ دعوے صرف اور صرف دعوے ہی تھے۔ افسوس اس بات کا نہیں کہ پاکستان پھر آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے پاس چلا گیا۔ افسوس اس بات کا بھی نہیں کہ مہنگائی آسمان کو چھو رہی۔۔۔۔افسوس صرف اور صرف اس بات کا ہے کہ آئندہ پھر سے عوام پر وہی شہزادے اور شہزادیاں مسلط ہونے جارہے ہیں جو ہمیشہ سے ہوتے آئے ہیں اور عوام اب کی بار پھر ایک نئے چورن کا شکار ہونے جانے جا رہے۔۔۔۔افسوس کوئی تو ہوتا جو پاکستانی عوام کے زخموں پر مرہم رکھ سکتا۔۔۔۔افسوس کوئی تو ہوتا۔۔۔۔۔
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں