"قائد اعظم سے ڈاکٹر عبد القدیر خان تک کی داستان"
تحریر:- محمد محسن
@Muhamad_Mohsin
ہم کون لوگ ہیں؟ کیا ہم ایک قوم ہیں؟ ہم اپنے سفر میں کہاں پہنچے؟ اس منزل کی جانب رواں دواں ہیں یا اس کی مخالف سمت میں جا رہے ہیں؟ وہ منزل جو انیسویں صدی میں ہمارے آباؤ اجداد نے شروع کی تھی؟ ہم کامیابی کی جانب مائل ہیں یا ناکامی کا پیچھا کرتے کرتے آج یہاں تلک آپہنچے؟ اس ناکامی کی وجوہات کیا ہیں؟ کیوں آج بھی ہم اس ٹریک پر گامزن نہیں ہو سکے جس پر ہمیں آج ہونا چاہیے تھا؟ ان کچھ الجھنوں کو سلجھانے کی آج تھوڑی بہت کوشش کرتے ہیں۔
ہماری ناکامی کی آج سب سے بڑی وجہ وہی ہے جو ازلوں سے اس خطہ میں چلتی آ رہی ہے یعنی ناہل جانشینی اور اہل لوگوں کی ہزیمت۔ آج بھی ہمارے ملک میں وہی قانون رائج ہے جو مغلوں کے دور میں تھا۔ جو بادشاہ کو حقیقت سے آشنا کرتا تھا اور اسکو اس کی کمزوریوں سے آگاہ کرتا تھا اسے یا تو قتل کروا دیا جاتا تھا یا پھر کھڈے لائن لگا دیا جاتا تھا۔ جبکہ دوسری جانب وہ چاپلوسی ٹولہ جو ہمیشہ بادشاہ کو خوش کرنے کے لیے ہر حربہ آزماتا تھا اور چاپلوسی کا کوئی موقع ہاتھ سے نہ جانے دیتا تھا اسے اعلیٰ عہدوں سے نوازا جاتا تھا اور ساتھ ساتھ جاگیروں سے بھی تواضح کی جاتی تھی۔
یہی کچھ پاکستان کے بننے سے لیکر آج تک پاکستان میں ہوتا آیا ہے۔ تحریک پاکستان میں تو بہت سارے مخلص لوگ بانیان پاکستان میں موجود تھے جو اس ریت روایت کو توڑنا چاہتے تھے اور ایک میرٹ والا نظام قائم کرنا چاہتے تھے لیکن افسوس کہ ان کا یہ خواب شرمندہ تعبیر نہ ہو سکا اور جوں جوں یہ مخلص اور من کے سچے لوگ اس دنیا سے کنارہ کش ہوتے گئے ان کا یہ مشن بھی کھٹائی میں پڑتا گیا یہاں تک کہ وہی ہوا کہ اقتدار دنیاوی حوس کے ماروں کے ہاتھ منتقل ہوتا چلا گیا اور مخلص اور اہل لوگوں کی قسمت میں دھکے اور طرح طرح کے نعرے آئے۔
آپ دور نہ جائیں بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی مثال ہی لے لیں۔ ایک عظیم انسان جس نے اپنی محنت کے بل بوتے پر اپنا نام کمایا۔ جو تعلیم حاصل کرنے کے لیے کراچی سے چلا اور ولایت جا پہنچا۔ جس نے گوروں کے ہاں رہ کر گوروں کو قریب سے سٹڈی کیا۔ جو چاہتا تو ولایت میں رہتے ہوئے ایک اعلیٰ طرز کی زندگی گزار سکتا تھا۔ جو ڈھیروں مال و دولت اکٹھا کر سکتا تھا۔ لیکن اس نے ولایت کو ایک غیر ملک ہی جانا اور اپنے وطن کی اہمیت کو جانتے ہوئے واپس برصغیر لوٹا۔ وہ اگر چاہتا تو یہاں برصغیر میں بھی ایک شاہانہ زندگی گزار سکتا تھا اور آنے والی سات نسلوں کے لیے اتنا اکٹھا کر سکتا تھا کہ سکون سے بیٹھ کر بغیر کچھ کرے اپنی زندگیاں انجوائے کر سکتے تھے۔ لیکن وہ مخلص تھا وہ عظیم تھا وہ بے مثال تھا اس نے اپنا تن من دھن سب کچھ ملک پاکستان کی خاطر قربان کر دیا اور آخر کار اس خطہ کے مسلمانوں کے لیے پاکستان کی شکل میں اپنی کامیابی کا ایک بے مثال نمونہ پیش کر گیا۔
قائد اعظم نے تو اس ملک کی خاطر اپنا سب کچھ قربان کر دیا لیکن بدلے میں ہم نے اسے کیا دیا؟ طعنے، تنقید اور پتہ نہیں کیا کیا؟ اسے کافر آعظم کہا گیا۔ اسے پارسی اور سیکولر ہونے کے طعنے دئیے گئے۔ وہ جو اس ملک کا حکمران تھا وہ چاہتا تو روپیہ، دولت، اور جائیدادیں اکٹھی کر سکتا تھا لیکن اس نے ان سب کی نفی کرتے ہوئے اپنی بیماری تک کو ظاہر نہ کیا۔ وہ چاہتا تو ولایت سے اپنا علاج کروا سکتا تھا لیکن اس نے ملک میں رہتے ہوئے شان سے اس دنیا سے رخصت ہونے پر فوقیت دی۔ بدلے میں ہماری طرف سے اسے کیا دیا گیا کہ جس گاڑی میں اس لاغر جسم کو لایا جارہا تھا وہ کھٹارہ جس کا فیول راستے میں ختم ہو گیا۔ وہ عظیم انسان جو سب کچھ ہونے کے باوجود اک غریب کی طرح اس ملک سے کوچ کر گیا۔ وہ جس کی بہن ان کی وفات کے بعد ہمارے ملک کا ایک اثاثہ تھیں۔ وہ جسے مادر ملت کا خطاب دیا گیا۔ اسے اس ملک میں تگ و دو کےدوران اپنے عظیم بھائی کی خدمت کے بدلے میں کیا دیا ہم نے؟ 1964 کے الیکشن کے دوران ان کے ساتھ یہاں کے چاپلوسی جاگیرداروں نے کیا کیا سلوک روا نہیں رکھا؟ ان کے انتخابی نشان کو کس جانور کے گلے میں لٹکایا گیا اور ان کو لٹکانے والے کون لوگ تھے؟ اگر اس معاملے میں دیکھیں تو مشرقی پاکستان والے مغربی پاکستانیوں سے بہت وفادار نکلے جنہوں نے ایک ڈکٹیٹر کے سامنے کلمہ حق بلند کیا اور مادر ملت کا ساتھ دیا۔
وہ بھی بانیان پاکستان کی طرح اس ملک کے لیے اپنی تن من دھن کی بازی لگانا چاہتا تھا۔ وہ چاہتا تو ایورپ میں ایک اعلیٰ طرز زندگی کو اپنا کر زندگی بھرپور طریقے سے انجوائے کر سکتا تھا۔ وہ بھی چاہتا تو دنیا کی اعلیٰ ترین یونیورسٹیوں میں ایک ایک لیکچر کے ہزاروں، لاکھوں ڈالرز کما سکتا تھا۔ لیکن اس نے بھی اس ملک کی خاطر اپنا سب کچھ قربان کرتے ہوئے اپنی مزے کی ایورپی زندگی سے قطع تعلق کرتے ہوئے واپس پاکستان کا راستہ لیا۔ نام تھا اسکا ڈاکٹر عبد القدیر خان۔ وہ بھی کراچی سے تعلق رکھتا تھا۔ وہ بھی اعلیٰ تعلیم کے لیے ایورپ گیا۔ پہلے جرمنی کی یونیورسٹیوں میں پڑھتا رہا اور پھر ہالینڈ پہنچا۔ تب وہ ایورپ میں ہی تھا کہ 1974 میں انڈیا نے ایٹمی دھماکے کرتے ہوئے پاکستان کو سیکیورٹی کے مسائل میں الجھا دیا اور یہ باور کروایا کہ اب اس خطے میں انڈیا کی طاقت کوئی زیر نہیں کر سکتا۔ اس نے میٹرلوجی کی فیلڈ میں تعلیم حاصل کی اور اب اسکا ضمیر اسے کوس رہا تھا کہ یہی وقت ہے اپنے ملک و قوم کے لیے اپنی قابلیت کو بروئے کار لانے کا۔ لہزا اس نے بذات خود اپنے آپ کو اس مشن کے لیے حکومت پاکستان کے سامنے پیش کیا۔ بھٹو سے ملاقات کرنے کے بعد باقاعدہ اس مشن کا حصہ بنا۔ اس سارے مشن کے دوران بھی اسے کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا لیکن اس نے ہمت نہ ہاری اور اس غریب سے ملک کو ان ممالک کی فہرست میں لاکھڑا کیا جس میں صرف اور صرف دنیا کی چوٹی کی چند معیشتیں شامل ہیں۔ یہ مشن شروع ہوا ستر کی دہائی میں اور اسی کی دہائی میں مکمل ہوگیا تھا لیکن پاکستان ایک ایسے موقع کی تلاش میں تھا کہ اپنی اس طاقت کو ظاہر کر سکے۔
لہذا مئی 1998 کا وہ دن آیا جب ایک بار پھر بھارت نے جوش میں ایٹمی دھماکے کیے تو بدلے میں اسی عظیم انسان کی قابلیت کی بدولت پاکستان نے بھارت کا منہ توڑ جواب دینے کے لیے ایک دھماکہ زیادہ کیا جس کے ساتھ ہی بھارت کی بولتی بند ہوگئی۔ بانیان پاکستان کے بعد ڈاکٹر عبد القدیر خان ہی ایک ایسی ہستی ہیں جن کو پاکستانیوں نے دل و جان سے اتنی محبت دی ہو۔ اسے "محسن پاکستان" کے خطاب سے نوازا گیا۔ یہ اسی عظیم انسان کی محنت کا نتیجہ ہے کہ آج اپنے سے کئی گنا بڑے دشمن ملک بھارت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر ہم بات کر سکتے ہیں۔
لیکن اس انسان کو بدلے میں ہم نے کیا دیا؟ ہم دے بھی کیا سکتے صرف اور صرف طعنے اور ہزیمت۔ وہ انسان جو نہ صرف پاکستان بلکہ پوری مسلم امہ کا سر فخر سے بلند کر گیا بدلہ میں ہماری طرف سے اس پہ الزامات کی بوچھاڑ کی گئی۔ اس سے دنیا کے سامنے معافی منگوائی گئی۔ اسے زلیل وخوار کیا گیا۔ جاوید چوہدری کے مطابق اسے چوہدری شجاعت کے کہنے پر معافی منگوانے پر مجبور کیا گیا۔ مظہر عباس کے مطابق اسے سیمینار ہال میں پہلی قطار سے یہ کہہ کر اٹھا دیا گیا کہ یہ قطار صرف کابینہ ممبرز کے لیے مخصوص ہے۔ اس سے بڑھ کر اس انسان کے لیے اور کیا ہزیمت ہو سکتی ہے کہ ایک ان پڑھ اور جاہل کو ایک مایہ ناز سائنسدان پر فوقیت دی جا رہی ہو۔ اسے زندگی کے ان سالوں میں گھر کی چاردیواری میں محصور کر دیا گیا جب پوتے اور نواسے اور بچے اپنے بزرگوں کا دل بہلاتے ہیں۔ افسوس کہ وہ انسان جس نے پاکستان کو ایٹمی طاقت بنایا اس کے جنازے میں نہ وزیر اعظم نے شرکت کی، نہ صدر نے، نہ اپوزیشن لیڈر اور نہ ہی اس ایٹمی طاقت کے سربراہ جنرل باجوہ نے۔ اگر آپ ان کے جنازے میں شرکت نہیں کر سکتے تو بند کرو یہ سوگ کی نوٹنکی۔
کیا آج آپ قائد اعظم کے کسی رشتہ دار کو پاکستان میں جانتے ہو؟ کیا ان کی کوئی جائیدادیں ہیں؟ کیا ڈاکٹر عبد القدیر خان بھی ان روایتی فصلی بٹیروں کی طرح مار دھاڑ کر کے اپنی نسل کے لیے سرے محل، ایون فیلڈ اور محل بنا کر گئے؟ افسوس کہ جنہوں نے اپنا سب کچھ اس وطن عزیز کے لیے قربان کیا ان کو ہم نے زلیل و رسوا کرنے کی کوئی کسر نہ چھوڑی۔ وہی جو چاپلوسی کے ذریعے اپنی دکان چمکایا کرتے تھے وہ آج بھی اپنی دکانیں خوب چمکا رہے ہیں اور اس سارے پس منظر میں آپ خود حساب لگا لیں کہ ہم آج تک اپنی منزل کو کیوں نہیں پہنچ پائے۔ اس سے بڑھ کر اس قوم کے لیے اور کیا المیہ ہو سکتا ہے کہ محسن پاکستان بذات خود یہ کہے کہ اس کی زندگی کا سب سے بڑا پچھتاوا اس قوم کے لیے کام کرنا ہے۔
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں