ڈسپلن کے نام پہ بچوں کا دماغی قتل!
تحریر :-محمد محسن
@Muhamad__Mohsin
ہم تو اپنے بچوں کو ڈسپلن سکھا رہے ہیں۔ ایک ادھ مہینے میں لگا بھی دی تو اتنا اثر نہیں پڑتا۔ روز تھوڑی مارتے ہیں۔
ہمیں بھی تو مارا گیا تھا مگر ہم تو اتنے "ادب والے" اور"'نیک" انسان ہیں۔ ہماری تربیت میں کیا کمی نظر آتی ہے آپکو؟
ہمارے معاشرے میں ٩٠% والدین ڈسپلن کے نام پہ ایک آدھ لگا دینے کو جائز سمجھتے ہیں۔ بلکے خوشی سے بتاتے ہیں کہ ایک آدھی لگاؤ خود ہی ٹھیک ہو جاۓ گا!
ہارورڈ میڈیکل اسکول کی ایک ریسرچ کے مطابق ایسے بچے جن کو سال میں 12 دفعہ ایک ادھ لگا دی گئ "ڈسپلن" کے نام پر ان میں %14-19 کم گرے میٹر(GREY MATTER) پایا جاتا ہے۔ صرف یہی نہیں متعدد ریسیرچز یہ ثابت کر چکی ہیں کہ ڈسپلن کے نام پہ ایک ادھ لگائ گئ دماغی نشودنوما پہ بھی برا اثر ڈالتی ہے۔
گرے میٹر ہے کیا؟
گرے میٹر دماغ کے مرکزی اعصابی نظام کا ایک لازمی حصہ ہے اور ذہانت قابلیت اور سیکھنے کی صلاحیتوں کو متاثر کرتا ہے۔ اس میں دماغ کے وہ حصے بھی شامل ہیں جو حسی ادراک، تقریر، عضلاتی کنٹرول، جذبات اور یادداشت میں شامل ہیں۔
مطلب آپ نے بچے کی سب سے اہم چیز کو نقصان پہنچایا ہے۔ آپ نے اس کی فیصلہ کرنے کی صلاحیت کم کر دی ہے۔
آپ نے اسکی قابلیت کو بھی نقصان پہنچایا ہے صرف اور صرف "ڈسپلن" کے نام پر!
ایک منٹ ذرا اور جائزہ لے لیں!
آپکا بچہ غلط کام کر رہا تھا۔ آپ نے دیکھا اور دیکھتے ہی چیخنا شروع کر دیا اور ساتھ ہی اسے سکھانے کے لئے ایک ادھ لگا دی۔
مجھے ایک بات بتائیں!
اگر یہ سب آپ کے ساتھ ہو تو کیا آپ سیکھ جائیں گ نہ کے ایسے کام غلط ہوتے ہیں۔ اگلی دفعہ ایسے نہیں ایسے کرنا ہے کیوں کے آپکے سب سے پیارے لوگ آپ پہ چیختے ہیں اور غصہ کرتے ہیں۔ اور آپکو ڈرانے کے لئے مار بھی دیتے ہیں ۔
سچ بتائیں!
نہیں کبھی بھی نہیں آپ بس خوف سے کرنے چھوڑ دیں گے۔’ سیکھیں گے کچھ نہیں۔ پھر آپ کون سی حکمت عملی کے تحت اپنے بچوں کو اس طریقے سے سیکھا رہے ہیں۔
1574 ریسیرچز ہو چکی ہیں جو کہ یہ ثابت کرتی ہیں کے ایک ادھ تھپڑ لگا کے کبھی بھی اپ بچے کو کچھ نہیں سیکھا سکتے۔
بلکہ آپ ان میں
1- جارحیت
2- ڈپریشن
3- خودکشی اور منفی سوچ
4- کم کانفیڈنس
5- کم ای-کیو
6- کم ذہانت
کا سبب بنتے ہیں
بچوں کو ایک ادھ لگانے سے پہلے سوچ لیا کریں۔
کیا آپ کے "ڈسپلن" کے لئے کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے آپ کے پاس!
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں