"سٹیویا پلانٹ "

 "سٹیویا" پلانٹ 

تحریر :- محمد محسن

@Muhamad__Mohsin


جیسا کہ آپ کو علم ہے کہ چینی گنے کے علاؤہ چقندر سے بھی بنائی جاتی ہے- لیکن آج کل ایک پودے کے پتے بھی چینی بنانے کیلئے استعمال کیے جاتے ہیں اور اس پودے کی پاکستان میں کافی مانگ ہے جسے "سٹیویا"کہتے ہیں - "سٹیویا" کو سبز شوگر بھی کہتے ہیں

اس کا آبائی وطن یوراگوئے ہے "یورا گوئے" کے لوگ اس کے پتوں کو چینی کے متبادل کے طور پہ کامیابی سے استعمال کر رہے ہیں 

- "سٹیویا" میں چینی کے نسبت 💯 سے 300 گنا زیادہ مٹھاس ہوتی ہے- یعنی "سٹیویا" کے ایک گرام پتے ایک گرام چینی سے سو سے لیکر تین سو گنا زیادہ شیرینی اپنے اندر چھپائے ہوئے ہیں عام الفاظ میں یہ کہہ لیں کہ چینی کی نسبت اس کی کم مقدار زیادہ مٹھاس دے گی - 

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وہ کیا وجہ ہے کہ اس کا استعمال چینی کے مقابلے میں زیادہ فائدہ مند ہے تو غذائی ماہرین کے مطابق ایک تو یہ قدرتی بوٹی ہے لہذا اس میں کسی قسم کے مضر اثرات جو کہ چینی کے اندر ہوتے ہیں نہیں ہوں گے- دوسرا اس میں طاقت صفر حرارہ ملے گی- جی ہاں صفر حرارہ -- جیسے بہت سے لوگ اپنے وزن بڑھنے کے ڈر سے میٹھا کھانا مکمل چھوڑ چکے ہیں ان کے لیئے یہ بغیر حراروں کے شکر انتہائی فائدہ مند ہے-

اس کے علاوہ وہ لوگ جو شکر کے مریض ہونے کی وجہ سے سکرال اور مصنوعی مٹھاس استعمال کرتے ہیں ان کے لیے مصنوعی مٹھاس کا متبادل یہ " سبز چینی" ہے- کیونکہ "سبز چینئ" سے ذیابیطس کے مریضوں کو کوئی نقصان نہیں ہوتا- جبکہ سکرال وغیرہ کے مضر اثرات ہیں۔۔

اگلا سوال یہ ملتی کہاں سے ہے-؟؟ یا ہم اس کو کہاں اگا سکتے ہیں- تو یہ پودا آپ گھروں میں گملوں میں لگا کر اس کو اگا سکتے ہیں اور اس سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں- اور اس پودے کی نشوونما کے لیئے عام مرطوب موسم چاہیئے ہوتا ہے یعنی نہ زیادہ گرمی اور نہ زیادہ سردی- جیسے لاہور کا موسم ہے- گرمیوں میں اس کو پڑچھتی میں چھاؤں میں رکھا جاسکتا ہے اور سردیوں میں اس کو دھوپ میں رکھا جا سکتا ہے- 

بازار سے یہ پودا 6 سو روپے سے 1000 روپے میں مل جاتا ہے اس کو دو طرح سے اگایا جاسکتا ہے ایک اس کے بیج مل جاتے دوسرا اس کو قلم کر کے لگایا جاسکتا ہے- بیج والے طریقے سے یہ دیر سے اگتا ہے لیکن قلم والے طریقے سے یہ بہت جلدی نشوونما پاتا ہے اس کے لئے 2 خطرے ہوتے ہیں ایک سخت موسم (چاہے وہ جاڑے کا ہو یا گرمی کا) اور دوسرا اس کو ایک سفید کیڑا چمٹ جاتا ہے- 

سخت موسم سے بچانے کے لیئے جیسے دوسرے پودوں کے ساتھ سلوک کرتے ویسے ہی اس کے ساتھ بھی سلوک کرکے اس کی حفاظت کی جا سکتی ہے- جبکہ سفید کیڑے سے بچاؤ کے لیئے اس کے پتوں پر روز سادے پانی کا چھڑکاو کرنے سے سفید کیڑے سے جان چھوٹ جاتی ہے- 

اس کو استعمال کرنے کا طریقہ کار بھی انتہائی آسان ہے- اس کے پتوں کو سکھا کر خشک کرلیا جاتا ہے اور پھر اس کو پیس کر سفوف بنا لیا جاتا ہے- ہم اس کے خشک پتوں کو بھی استعمال کرسکتے ہیں اور سفوف کی شکل میں بھی استعمال کرسکتے ہیں- اور یہ چینی کے مقابلے میں بہت کم استعمال ہوتا ہے- 

مثال کے طور پہ 

چائے بنانے کیلئے عموما لوگ ایک دو یا تین چمچ چینی استعمال کرتے ہیں جب کہ وہی کام بمشکل ایک گرام وزن رکھنے والے دو سے تین پتے سر انجام دیں تو سودا مہنگا نہیں 

 میٹھے والی اشیاء جیسےکھیر، حلوہ، گجریلا وغیرہ میں پتوں کی بجائے اس کا سفوف استعمال کیا جاسکتا ہے- 

اگر اتنی ساری کھیچل آپ گھر میں نہیں کرسکتے تو بازار سے اس کا سفوف اور مائع شکل میں یہ دستیاب ہوتا ہے آپ وہاں سے اس کو خرید سکتے ہیں- چائینز فارمیسی نے اپنی فارمیسز میں شکر کا استعمال کم کر کے اس کا استعمال بڑھادیا ہے- سفید چینی ایک زہر ہے-- اس کا استعمال ترک کرکے ہمیں ہربل اور دیسی چیزوں پر منتقل ہونا چاہئے کیونکہ ہمارے لیئے صحت سے زیادہ کوئی چیز اہ


م نہیں.

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

کھڈی لائن !

میں کبھی بھی نہیں چاہتا تھا کہ اس مرد مجاہد پر لکھوں کم سے کم اس وقت تو کبھی بھی نہ لکھوں جب تک یہ طاقت کا سرچشمہ ہیں اور ان کی تعریف میں بط...