بچوں کے دودھ کے دانتوں کا ٹوٹنا اور نئے دانت نکلنا

بچوں کے دودھ کے دانتوں کا ٹوٹنا اور نئے دانت نکلنا 




تحریر:- محمد محسن 

@Muhamad__Mohsin

ایک نوزائیدہ بچے کے مسوڑھوں کے نیچے دانت بنانے والے سٹیم سیلز موجود ہوتے ہیں جنہیں ، ماں کے رحم میں تقریباً 6 سے 8 ہفتے کے درمیان یہ سٹیم سیلز تقسیم ہوتے ہیں اور مسوڑھے کے نیچے ابھار سا بنا لیتے ہیں، پھر ان سٹیم سیلز سے دو طرح کے سیلز بنتے ہیں ایک قسم کے سیلز کو odontoblasts کہتے ہیں ،یہ سیل dentin بناتے ہیں، جو کہ دانت کا اندر والا حصہ ہوتا ہے اور قدرے نرم ہوتا ہے۔ جبکہ جو ابھار کے اوپر والے سیلز ہوتے ہیں وہ ameloblasts نام کے سیل بناتے ہیں، یہ ameloblasts دانت کے اوپر والا سخت حصہ بناتے ہیں جسے enamel کہتے ہیں۔ enamel ایک کیمیکل hydroxyapatite Ca10(PO4)6(OH)2 سے بنا ہوا ہوتا ہے۔ اس طرح یہ ameloblasts بنتے رہتے ہیں اور enamel خارج کرتے رہتے ہیں اور پرانے ameloblasts مردہ ہوتے رہتے ہیں اور enamel میں ہی دفن ہوجاتے ہیں۔ پھر جب یہ دودھ کے دانت باہر آتے ہیں تو مسوڑھے کے نیچے موجود سٹیم سیلز ابھی بھی ایکٹو ہوتے ہیں، جس وجہ سے وہ دوسری بار بھی دانت بنانے لگ جاتے ہیں، دوسری بار کے دانت مسوڑے کے نیچے بن رہے ہوتے ہیں اور یہ دانتے دودھ کے دانت کی جڑوں کو کمزور کردیتے ہیں جس وجہ سے دودھ کے دانت گر جاتے ہیں اور انکی جگہ نئے دانت باہر آجاتے ہیں۔۔۔

مگر دوسری بار دانت نکلنے کے بعد وہ سٹیم سیلز جو کہ دانت بنا رہے تھے وہ inactive ہوجاتے ہیں اور مزید دانت نہیں بنتے۔۔۔

البتہ کچھ جانور جیسا کہ شارک میں دانتوں کی قطاریں ایک دوسرے کے پھیچے موجود ہوتی ہیں جب سامنے والی قطار ختم ہوجاتی ہے تو دوسری قطار اس کی جگہ لے لیتی ہے اور پھیچے سے ایک اور قطار اگ جاتی ہے۔۔

)

تصویر میں اپکو ایک بچے کی کھوپڑی نظر آرہی ہے۔ جس میں اپکو دانتوں کی دو سے زیادہ تہیں نظر آرہی ہیں۔

درمیان والی دو تہیں دودھ کے دانتوں کی ہیں، وہ سب سے اوپر اور سب سے نیچے والی تہیں ان دانتوں کی ہیں جنہوں نے دودھ کے دانت ٹوٹنے کے بعد باہر آنا تھا، مگر شاید بچے کی زندگی نے اتنی وفا نہ کی۔ سیاہ بیک گراؤنڈ میں نظر آنے والی تصویر کسی بچے کی اصلی کھوپڑی کی ہے جو کہ فلڈیلفیا کی میڈیکل "mutter museum" میں موجود ہے)

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

کھڈی لائن !

میں کبھی بھی نہیں چاہتا تھا کہ اس مرد مجاہد پر لکھوں کم سے کم اس وقت تو کبھی بھی نہ لکھوں جب تک یہ طاقت کا سرچشمہ ہیں اور ان کی تعریف میں بط...