طوائف
تحریر:محمد محسن
@Muhamad__Mohsin
جانتے ہو طوائف کسے کہتے ہیں؟
کتنا مزہ دیتی ہے وہ، تمھارے جسم کی آگ کو کیسے ٹھنڈا کرتی ہے، تم جو کچھ اپنی بیویوں کے ساتھ نہیں کر پاتے، وہ سب کچھ تم ایک طوائف کے ساتھ کرنا چاہتے ہوںدراصل یہ تمھارے جسم کی ہی بھوک نہیں ہے، یہ تمھارے اندر کے اس عیاش انسان کی زہنی بھوک ہے جو تم اپنی اپنی بیویوں کے ساتھ نہیں مٹا سکتے ہو،
کیوں یہ سب تم اپنی بیویوں کے ساتھ کر سکتے تو کرو نا اپنی بیوی کیساتھ تو تم کو اجازت ہے کسنے منع کیا ہے تم کو، نہیں مگر نہیں تم ایسا نہیں کر سکتے ہو اس وقت تمھارے اندر کا ننگا انسان سو جاتا یے، تم کو تمھاری بیوی ایک شریف عورت نظر آتی ہے، پھر بھلے جو کچھ تم باہر جا کر منہ مارتے ہو، وہی سب کچھ تمھاری بیویوں کے ساتھ کوئ اور کر رہا ہوتا ہے،
ہو گا تو وہی کچھ جو تم کرو گے تم کو طوائف چاہیے ہے، بہت پیسہ ہے تمھارے پاس، تم حسین سے حسین جسم خرید سکتے ہو، تو خریدو نا کسنے منع کیا ہے مگر یاد رکھو حساب تو کبھی نا کبھی تمھاری بہن بیٹی یا بیوی نے دینا ہی ہو گا،
کبھی سوچا ہے ایک عورت طوائف کیسے بنتی ہے؟
کبھی سوچا یے ایک عورت کب اپنا جسم کسی مرد کے آگے پیش کرتی ہے
کبھی سوچنا اس وقت کے لیے کہ جب ایک عورت نے اپنے گھر سے تمھاری دہلیز تک کے سفر تک راستے میں کتنے خون کے آنسوں بہاے ہونگے
کبھی سوچنا ایک لڑکی ایک معصوم لڑکی کیسے مجبور ہو کر کبھی اپنے بہن بھائیوں کے پیٹ تو کبھی اپنی ماں باپ کی دوا کے لیے گھر سے نکلی ہو گی،
محسوس تو کرو نا چلو تھوڑی دیر کے لیے ہم سب طوائف بن جاتے ہیں،
پلیز سوچو نا زرا کیسے ہم کسی اجنبی کے سامنے اپنے کپڑے اتاریں گے، پھر دو ہوس بھری نگاہیں کیسے آپکے جسم کے زاویوں کو گھورتی ہونگی ان آنکھوں کی تپش کو محسوس کرو اور خود اپنے اندر جھانک کر دیکھو اور بتاو کہ کیسا لگتا ہے طوائف بننا بننا،
ہم بڑی آسانی سے کسی کو بھی طوائف کہہ دیتے ہیں، ارے طوائف کا مطلب بھی پتہ ہے؟
طوائف وہ نہیں ہے جو جسم اپنی مجبوری کے باعث کسی کو پیش کرتی ہے
طوائف ایک سوچ کا نام ہے،
طوائف اس ہوس کا نام ہے جو ہمیں خدا سے اور مکافات عمل سےبھی ڈرنے نہیں دیتی اس لحاظ سے تو
ہم سب طوائف ہیں
ہم سب نا مرد ہیں
ہم سب ایک عورت کے سر سے چادر کھینچنے کو تو تیار ہو جاتے ہیں مگر اسکے سر پر چادر ڈالنے کو تیار نہیں ہوتے ہیں، عورت ہو یا مرد اس معاشرے کی بیمار سوچ طوائف بن چکی ہے، ہم سب دوسروں کو ننگا کر کے خوش ہوتے ہیں، مزہ لیتے ہیں، ہم کو مزہ چاہیے ہے،
اسی "طوائف"سوچ نے ہی اس معاشرے میں برائیوں کو جنم دیا ہے
یہ ایک المیہ ہے اور افسوس تو تب انتہا کو چھوتا ہے جب اس طوائف سوچ سے متاثرہ نام نہاد عزت دار خواتین بھی اپنی ہی ہم جنس کی عزت کی چادر تار تار کرنے میں پیش پیش ہوتی ہیں۔اپنے تنہائی کے گناہوں کو پس پشت ڈال کر کسی اور کی جانے انجانے کی، کی گئی غلطیوں کو چٹخارے لے لے کر بیان کرتی ہیں۔ چلتے پھرتے اشتہار بن جاتی ہیں یہ سوچے بغیر کے وقت پلٹتے دیر نہیں لگتی۔
اب آتے ہیں ان محرکات کی طرف کہ آج ایک معصوم عورت کیوں اس مکروہ دھندے کو اپناتی ہے،
کون زمہ دار ہے اسکا؟
پر کیپٹل آمدنی کتنی ہے اس ملک کی ،
اخراجات کیا ہیں؟
گیس بجلی روٹی پانی دوا، کیا اسکی آمدنی میں پورا کرنا ممکن ہے، جب کسی کے پیٹ کی آگ نا بجھے گی تو وہ کیا کرے گا،پھر ایک مقابلے کی فضا بھی جہاں پر ہر کوئ آگے سے آگے بھاگ رہا ہے، نہیں سوچتا کہ ہمارے کس عمل سے معاشرے پر کیا اثر پڑے گا بسسس سب اچھے سے اچھے کی تلاش میں ہیں کون دیکھتا ہے اپنے سے نیچے والوں کو
کیوں ایک معصوم اپنا جسم بیچنے کو تیار ہو جاتی ہے،
کیا اسکو مزہ ملتا ہے نہیں ایسا بلکل نہیں ہے وجہ یہ ہے کہ اسکو ایسا کوئ نہیں ملتا ہے جو کہ اسکے سر پر ہاتھ رکھے، اسکو بیٹی بہن ماں سمجھے،
سوچ بدلنا ہو گی، دکھ کو سمجھنا ہو گا، سر پر ہاتھ رکھنا ہو گا، اپنے اندر کی گندگی کو نکالنا ہو گا،
یاد رکھو مکافات عمل ہے جب جب جہاں جہاں اپنی رنڈی سوچ دکھاو گے، حساب کتاب دینا ہو گا، اب وہ وقت نہیں ہے کہ جو چاہے کر دو، جو چاہے جسکو چاہے بول دو، اپنے اپنے اندر کی طوائفوں کا مار دو ورنہ کب کہاں تم خود کیسے طوائف بن جاو گے پتہ ہی نہیں چلے گا،اگر اللہ تم سب کے عیبوں کو چاک کر دے تو تم سب ایکدوسرے کو دفناو بھی نا،
بچو اس بیمار سوچ سے ورنہ یہی طوائف سوچ تمہارے گھر کی دہلیز بھی پار کر آئے گی اور پھر تم بھی اسی مقام پر کھڑے ملو گے کہ جہاں کبھی تم نے بھی کسی غریب کی آہ لی تھی، اللہ پاک ہم سب کو عقل سمجھ کی توفیق عطا فرمائیں آمین،
کوئی تبصرے نہیں:
ایک تبصرہ شائع کریں