سوال کرنے کی ترتیب؟


 سوال کرنے کی ترتیب 

تحریر :- محمد محسن

@Muhamad__Mohsin

سوال: سوال کرنے کی ترتیب کس طرح سے ہونی چاہیے؟

جواب: یہ ترتیب کچھ اس طرح سے ہونی چاہیے:

1- پہلے “کیا” سے شروع ہونے والا سوال کرنا چاہیے جیسے “یہ کیا ہے؟” (جواب: یہ درخت ہے)

2- پھر “کون” سے شروع ہونے والا سوال کرنا چاہیے جیسے “یہ کون سا درخت ہے؟”

3- پھر “کیسے” سے شروع ہونے والا سوال کرنا چاہیے جیسے “یہ درخت کیسے اُگتا ہے؟”

4- پھر “کب” سے شروع ہونے والا سوال کرنا چاہیے جیسے “یہ کب تک درخت بن جاتا ہے؟”

5- پھر “کہاں” سے شروع ہونے والا سوال کرنا چاہیے جیسے “یہ درخت کہاں اُگتا ہے؟”

6- پھر “کیوں” سے شروع ہونے والا سوال کرنا چاہیے جیسے “یہ درخت کیوں اُگتا ہے؟”

جس میں:

1- “کیا” دراصل کسی شے کی موجودگی پر توجہ مرکوز کرنا ہے مثلاً:

سوال: یہ کیا ہے؟

جواب: یہ درخت ہے۔

2- “کون” دراصل کسی شے کی شناخت کو جاننے کا عمل ہے مثلاً:

سوال: یہ کون سا درخت ہے؟

جواب: یہ آم کا درخت ہے۔

3- “کیسے” دراصل کسی شے کے کام کرنے کے عمل کو جاننا ہے مثلاً:

سوال: آم کا درخت کیسے اُگتا ہے؟

جواب: یہ اس طرح سے (طریقہ) اُگتا ہے۔

4- “کب” دراصل کسی شے کے کام میں لگنے والے وقت کے بارے میں جاننا ہے مثلاً:

سوال: آم کا درخت کب تک پھل دینا شروع کر دیتا ہے؟

جواب: تقریباً پانچ سال میں۔

5- “کہاں” دراصل کسی شے کے ہونے کے مقام کو جاننا ہے مثلاً:

سوال: آم کا درخت کہاں اُگتا ہے؟

جواب: زیادہ تر یہ گرم مرطوب آب و ہوا میں اُگتا ہے۔

6- “کیوں” دراصل کسی شے کے ہونے کی وجہ کو جاننا ہے مثلاً:

سوال: آم کا درخت کیوں اُگتا ہے؟

جواب: جاری زندگی کے امکانی پہلووں کی وجہ سے آم کا درخت اُگتا ہے

سوالوں کی ترتیب میں:

“کیا” کے سوالوں میں عقل کا سادہ ترین حصّہ استعمال ہوتا ہے جبکہ “کون، کیسے، کب، کہاں، کیوں” والے سوالوں میں بتدریج عقل کے پیچیدہ ترین حصّے استعمال ہونا شروع ہو جاتے ہیں جس میں “کیوں” والے سوالوں میں عقل کا انتہائی پیچیدہ ترین حصّہ استعمال ہوتا ہے۔

خلاصہ: پس عقل کو استعمال کرنے کا درست طریقہ یہی ہے کہ آپ عقل کے سادہ ترین حصّے سے بتدریج پیچیدہ ترین حصّوں کو استعمال کرنا سیکھیں تاکہ آپ کم سے کم مشکلات کے ساتھ سوال کرنے جیسے ضروری عمل میں سے گزرتے رہیں۔


1 تبصرہ:

کھڈی لائن !

میں کبھی بھی نہیں چاہتا تھا کہ اس مرد مجاہد پر لکھوں کم سے کم اس وقت تو کبھی بھی نہ لکھوں جب تک یہ طاقت کا سرچشمہ ہیں اور ان کی تعریف میں بط...