خوشی اور غم

 خوشی اور غم 

تحریر :-محمد محسن

@Muhamad__Mohsin

زندگی کے دامن میں دونوں ہی چیزیں موجود ہیں۔ اس میں عظیم لطف بھی ہیں ، بڑے غم بھی۔ مگر یہ دونوں ایک ہی سکے کے بس دورخ ہیں۔ اگر آپ اس سکے کا ایک رخ چھوڑیں گے تو دوسرا رخ خود ہی کھو جاتا ہے۔ انسانون کو جو سب سے بڑا دھوکہ ہے وہ یہی ہے کہ وہ خوشی کو تھام سکتے ہیں اور دکھ کو چھوڑ سکتے ہیں۔ زندگی اور کائنات کی جو نیچر ہے اس میں یہ ناممکن ہے۔ سکھ اور دکھ ایک ہی انرجی کے دومختلف پہلو ہیں۔ کبھی غور کریں تو آپ کو دکھ میں بھی حسن نظر آجائے گا۔ ایک تجربہ کرکے دیکھیں۔ اگلی بار جب آپ دکھی ہوں، تو اس کے ساتھ لڑنے کی کوشش نہ کریں۔ اس کو قبول کریں، بلکہ اسے خوش آمدید کہیں۔ اور پھر پوری احتیاط اور محبت کے ساتھ اس کو دیکھیں۔ اور آپ کو حیرت ہوگی کہ دکھ میں بھی حسن ہے ایک ایسا حسن جو خوشی میں ہوہی نہیں سکتا۔ آپ نے شاید اس بات کو کبھی نوٹس ہی نہیں کہ دکھ میں گہرائی ہوتی ہے جبکہ خوشی میں عجیب سی ایک سطحیت ہوتی ہے۔ دکھ میں آنسو ہوتے ہیں اور آنسو قہقہے سے کہیں گہرے جاتے ہیں۔ دکھ میں ایک خاموشی ہوتی ہے، ایک سر ہوتا ہے ، وہ خاموشی اور سر جس سے خوشی محروم ہے۔زندگی کو ہرممکن طریقوں سے جئیں۔ کسی ایک چیز کو چھوڑ اور دوسری کو چن کر نہ جئیں۔ ہمیشہ درمیانی راستے پررہیں۔ اور اس کے لیے توازن کو قائم کرنے کی کوشش نہ کریں ، کیونکہ توازن قائم نہیں کیا جاتا، بلکہ توازن خود بخود پیدا ہوتا ہے جب زندگی کے ہررخ کو آپ تجربہ کرنا شروع کردیں۔

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

کھڈی لائن !

میں کبھی بھی نہیں چاہتا تھا کہ اس مرد مجاہد پر لکھوں کم سے کم اس وقت تو کبھی بھی نہ لکھوں جب تک یہ طاقت کا سرچشمہ ہیں اور ان کی تعریف میں بط...