کسان اور آڑھتی (Middle Man) چند تلخ حقائق

 کسان اور آڑھتی (Middle Man) چند تلخ حقائق

تحریر :- محمد محسن 


@Muhamad__Mohsin

آڑھتی در اصل کمشن ایجنٹ ہوتے ہیں اور وہ کسان اور کسان کی فصلوں کے خریداروں کے درمیان رابطے کا کام کرتے ہیں اور اسی کو عرف عام میں Middle Man بھی بولتے ہیں۔ یہ مختلف بھیس بدل کر وقتاً فوقتا سال بھر کسان کے سامنے رونما ہوتا رہتا ہے۔ کبھی یہ ٹھیکیدار کے روپ میں، کبھی کمشن ایجنٹ کے بھیس میں اور کبھی کسان کی مالی معاونت کے جذبے سے سرشار، نمودار ہوتا ہے۔ اور اسکا ہر روپ ہی نرالا اور بظاہر کسان دوست ہوتا ہے۔ کسان اسے اپنی ہر مجبوری میں استعمال کرتا ہے اور یہ اپنی ہر خدمت کے عوض خوب فائدہ اٹھاتا ہے اور کسان آہستہ آہستہ اسکے بچھائے جال میں پھنستا جاتا ہے ۔


آڑھتی منڈی میں فصل کی نیلامی اور خریداروں کو ڈلیوری کا بندوبست کرتے ہیں۔ اس کے عوض مالک اور خریدار دونوں سے کمشن وصول کرتا ہے۔ یہ کسانوں کو قرض دینے کا کام بھی کرتا ہے۔ ان تمام چیزوں کا مطلب ہے کہ کسانوں پر ان کا بہت زیادہ کنٹرول ہے۔ Middle Man ( آڑھتی ) سیاسی طور پر بھی طاقتور ہیں۔ ریاستی قانون ساز اداروں کے ممبران کے ساتھ تعلق استوار کرتے ہیں اور ضرورت کے وقت ان پر Invest بھی کرتے ہیں۔ اور بدلے میں وہ قانون ساز اسمبلی میں ان کے مفادات کا تحفظ کرتے ہیں۔


 کسانوں اور زراعت سے وابستہ زرعی مزدوروں کے درمیان قرض کی صورتحال کا مطالعہ کریں تو اس میں کوئی شک وشبہ نہیں کہ یہ سب کچھ کسانوں کی اپنی عادتوں کے سبب ہوتا ہےاور یہی چیز انھیں پریشانی میں ڈالتی ہے،‘‘

آڑھتی برملا کہتے ہیں۔ ’’ہم کسانوں کو (کھاد ، بیج وغیرہ) خریدنے کسانوں کی مدد کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ، جب ان کے یہاں شادی بیاہ، علاج اور دیگر خرچ ہوتے ہیں تب بھی ہم انھیں پیسے دیتے ہیں۔ جب کسان کی فصل تیار ہو جاتی ہے، تو وہ اسے لاتا ہے اور آڑھتی کو دے دیتا ہے۔ ہم فصل کو صاف کرتے ہیں، اسے بوریوں میں بھرتے ہیں۔ سرکار، بینکوں، اور بازار سے نمٹتے ہیں۔

ایک دوسری شکل میں آڑھتی اپنے Sub Agent رکھ لیتا ہے جسکو وہ Finance کرتا ہے اور وہ سب ایجنٹ کسان سے ڈیل کرتا ہے اور ایک مخصوص ایگریمنٹ کے تحت کسان کو کچھ ایڈوانس دے کر اسکی فصل اٹھا لیتا ہے اور اسے آڑھتی کے پاس بیچ دیتا ہے اور یوں کسان کو ادائیگی کر دیتا ہے۔ اور آڑھتی بھی اپنا اصل زر+ کمیشن Deduct کرکے منافع ایجنٹ کو دے دیتا ہے لیکن Sub agent کے ساتھ نقصان میں شریک نہیں ہوتا۔ یونہی یہ سلسلہ سال بہ سال چلتا رہتا ہے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ Middle Man جسے حیثیت میں بھی سامنے آتا ہے اپنے آپ کو secure رکھتا ہے نقصان کا شریک نہیں ہوتا جوکہ صریحا" غیراسلامی ہے۔

درج بالا تحریر یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ آخر وہ کیا عوامل ہیں جو کسان کو اپنا استحصال Middle Man (اڑھتی) سے کروانے پر مجبور کرتی ہے۔

 اگر فریق اول یعنی کسان کا جائزہ لیا جائے تو نقشہ کچھ یوں نظر آتا ہے 

کسان سال میں ربیع اور خریف دو دفعہ فصل تیار کر کے بیچتا ہے اور اپنی محنت کی کمائی حاصل کرتا ہے۔

اللہ نہ کرے اگر اسکی فصل کسی ناگہانی آفت کا شکار ہو جاے تو منافع تو درکنار اسکی ساری پونجی ہی ڈوب جاتی ہے اور وہ پھر سے زیرو سے سٹارٹ لیتا ہے۔

جب فصل تیاری کے قریب ہوتی ہے تو agent یا sub agent اس کے پاس آنا شروع ہو جاتے ہیں اور اسے طرح طرح کے سبز باغ دکھاتے ہیں اور ساتھ ہی اسے منڈی کے اتار چڑھاو اور ممکنہ نقصانات سے ڈراتے بھی ہیں اور قائل کرتے ہیں کہ یہ آپ کے بس کا روگ نہیں آپ یہ ہمیں بیچ دیں۔ کسان اسے اپنی بہترین حکمت عملی سمجھتے ہوئے اپنی تیارفصل اس کے حوالے کر دیتا ہے۔ یوں سمجھیے کہ اس دن کسان نے اپنی محنت کا 50% اس Middle Man کو دے دیا۔

حاصل شدہ آمدن کا بڑا حصہ قرض خواہ لے جاتے ہیں اور بقیہ جاری اخراجات میں صرف ہو جاتے ہیں یوں کسان کا بجٹ پھر Deficit میں چلا جاتا ہے۔

اپنے اس Deficit کو پورا کرنے، نئی فصل کی تیاری اور کاشت کے لئے وہ پھر سے آڑھتی یا بنک کا دروازہ کھڑکھڑاتا ہے اور یوں ایک دفعہ پھر گرداب میں چکر کاٹنا شروع ہوجاتا ہے۔

موجودہ دور میں زراعت کوئی منافع بخش کاروبار نہیں ہے۔ چونکہ ہم ایک زرعی ملک ہیں اور ہماری بیشتر آبادی جوکہ ناخواندہ ہے، زراعت سے منسلک ہے اور اپنی دو وقت کی روٹی بمشکل کما پاتے ہیں۔ اگر ان کر پاس زراعت بھی نہ ہو ملک میں بیروزگاری کا طوفان آجائے۔

سرکاری اور نجی محکموں کی طرح کسان کو یہ سہولت حاصل نہیں ہی کہ وہ اپنا اور اپنے بال بچوں کا علاج ہی مفت کروا سکے اسے یہ سب اپنی جمع پونجی یا قرض لیکر کرنا پڑتا ہے۔

شادی بیاہ ایک دینی فریضہ ہے لیکن فضول رسم و رواج جو کہ ہم نے بلاوجہ جھوٹی انا کی خاطر مسلط کر رکھے ہیں خوشحالی کی راہ میں حائل بڑا پتھر ہیں۔

زمین کی تقسیم در تقسیم اور آبادی کا بڑھتا ہوا دباؤ کسان کی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

ہمارا کسان مسائل کا شکار ہے اور ان مسائل کو حل کیے بغیر خوشحالی کا دوردورہ نہیں ہوسکتا، ملک کی آبادی کا بڑا حصہ زراعت کے پیشے سے وابستہ ہے جسے ماضی کی حکومتیں مسلسل نظر انداز کرتی رہی ہیں۔ چھوٹے کسانوں کو فصل کاشت کرنے سے پہلے بیج، کھاد اور پانی کا انتظام کرنا ہوتا ہے اور عموماً اس ضمن میں اسے قرضے لینے پڑتے ہیں۔ وہ اگر فصلیں کاشت بھی کرلیتا ہے تو قرضوں کے چکر سے نہیں نکل پاتا۔ اس کی محنت کوئی اور لے جاتا ہے پھر جو کچھ وہ قرض لیتا ہے وہ بھی اسے زائد قیمت پر ملتا ہے سب سے زیادہ مسائل کا شکار چھوٹا کسان ہے اگر وہ فصل کاشت کرنے کا انتظام بھی کرلیتا ہے تو یاد رہے کہ آج کل فی ایکڑ پیداواری اخراجات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے جس سے اس کی خون پسینے کی کمائی اسے نصیب نہیں ہوتی اگر پیداوار اچھی ہوجائے تو وہ سرکاری اہلکاروں کے ظلم و ستم اور آڑھتی کی لوٹ مارکا شکار ہوجاتا ہے یعنی ایک جانب سے سستی بجلی، کھاد، مفت بیج، پانی، زرعی ادویات و آلات نہیں ملتے دوسری جانب سودی قرضے، سرکاری اہلکار اور آڑھتی مل کر اس کی محنت کی کمائی لوٹ لیتے ہیں۔

آخر اسکا حل کیا ہے؟

کوئی تبصرے نہیں:

ایک تبصرہ شائع کریں

کھڈی لائن !

میں کبھی بھی نہیں چاہتا تھا کہ اس مرد مجاہد پر لکھوں کم سے کم اس وقت تو کبھی بھی نہ لکھوں جب تک یہ طاقت کا سرچشمہ ہیں اور ان کی تعریف میں بط...